Shree Jubilee Naagari Bhandar Bikaner
Khakoo Ka Safar
Front matter
No text on this page.
چند قابل مطالعدکتابين 80/ 70/ 60 / 70/ 70/ 50 / مراسلے مره رباتی الترترار 40/ 50/ 25/ 70/ 40/ اردو کہ میں اوراں کے ساتی و انسانی میلو رقیق ڈاکٹیویگا سکی علی کے سات تنقید ڈال سیدمحمدعيل ایا تا بخش ڈاکٹراصل امام میرمحمد گھمات تنقیدی مایکال تھی مادی کے حطول دکمه حيلي میں تشحم اورف ڈاکٹرصلإمام برای محاور ن م راشد سمتت اور گرایش سخصیت اورش ارامی رو رامہ اقبال کا متل العم ڈاکٹرامی اسماري تنقیدی انار مقید ڈاک مطرحی دواون اونقد دری) عسل احمد تنقید ڈاکٹر عبدالستارداری تنقید ڈالتامیراله حان شاهین غرار اول وی ری داکثرلمان الماريد طير ومرارا مقیدی حائره قد حواجدد الحمري دوساعری میں اتارت الله واطهركاريد اردو سر طویل نظم نگاری کی روایت اورارتقا ڈاکٹر رشی|حیراطمي >/0 اوت کی سرگ ایکس وتعمیر مقدم دارمطاعطى نے پیارے لوگو الشراربملری ماالں تي يروييم تطارصة لعي مسام والشعر الورور مرته صمهدود المز مطيع حمارتحمیت اور کاریاے الترحسب رايي مورد يلتماو و گول اکیٹ دریائے من دی ۲.. ۱ تقریر 50/ تحملت متد 40 = 30 /- 50/= مي مام الترتراش 30/ 36 40/ تستی) 8 - 50/ ريا ایک قدیم میں کے سایر تھا پر پاکستان کی رعرت دوسراقدم اس دھرتی بریتاتو « آرار میں اغواء کی اوریری میں رنگ کرنے والے برسائے بھارت کی معرق کو دیکھ رہیں تمولر وی گو سے لعل گیر ہوئے۔ ویرات کو میرے سینے سے لگانا مقبول ہوگی سے میں نے کہا۔ تمام دوستوں کویر سلام کہاں سے نہیں سکا، مری ادب سے ان میں سے معافی ام پیار سے کہاکہ میں ایارام ان کی منتوں اور لوارشوں سے مر گیا ہے اک لرست و گلوٹا ہوں میں دور کہیں رکر مگر دل میں ملی میگی کے دیے سیالوی اور اور عورت دوستیوں کہ یہ ادرلای رہیں گی ۔ اداکر اکر ماری حمتوں اور روتیوارتنر استوار ای کی دماکہ باگاہیں مس ورستی کے لیے اتول میں مالی نے کی توفیق بیٹے ۔ آگے بڑھ کر دوسرا قدم بہ قدم سے ملا تھا اور ایک بار میرمیں بھارت اور پاکستان کی مردوں کے درمیاں اس برادری کے لیے پرکراتاسی کی ہواؤں میں مہک تھی ۔ م کی برائیوں میں ردگی کے بیگوں کی امیرنی تھی اورس کے اصول میں وہ تو شوھی تو بہار میں سرکے دھودیں گی معنی 00 85ه AM حامی. سے روانگی کے وقت ان کی حمایت می گر ہوئے دریدنے ہم ایک دوسرے کی انہوں میں کیلے یوں کرتے رہے کہ میرے دل کی دوائیں ایک دوسرے سے محاطوں مان عماری کالا تواس اورسایدارحیت کور دگی میں سیکھی تھی میں سولر سکوں گا۔ لاہور شہر کے وسط میں بھی ندی کے کیارے کمارے گاڑی ایک بار میروٹری بھی ملا پیارے دوست مقبول احمد دہلوی لاہور سے وائے کے ماسٹر مرے ساتھ کر رہے تھے۔ ایک پیکٹ دیر سے انھوں نے مرے بیگ میں ڈال دیا تھا مر ہیں یا ساراس میگیٹ کے اندر کیا انکی است میاں کا دیسی کھری متر رکو میری اکھ پورہ میں ".. محسوس ہوتاہے کہ اس کی آمدور روانگی کے درمیاری تدبے کے تعمیر سمیٹ کر اب اس عمارہے ہیں اور ساتھی سے ساری بہت محنت کے ساتھ پاکستان آپ کو وراغ کہتا ہے - اس امید کے ساتھ کہ میں لیے میری یہاں آئیں گے ، اور ایک ہی کرتاردیتے ہوئے مار گئے تھے ۔ سوسیاہوں کی ملیں گے اس سے کھڑے ہوئے اس ہی ایک سو سے اور سہا کردا دل کا دروارہ کھلا رکھا تو میرے واسطے تجھ سے ملے شراروس اک دل تو اے کا کا شکریہ کے کمارسی کارے دوڑی ہوئی ہماری گاڑی ایک ایسے دوستوں گھاس کے عملی الموں اور انسان کو جیوتی بڑی وڑی عمارتوں کونیچے تھوڑی ہت تیری تے ہوئے ادویی تی ویراستار سے مر سے وہی گاؤں نے اورح وانگسرحد کے اس طی گاڑیا کی تر بیدرہ رور قربی ہی کہامی کی نشاساکھ قاعود لوں اور دھوکوں میں ملوں کی ماند احساس۔ لارہا یار میں یہاں نہیں ہوں۔ ہالہ سروس ہوں لیتری - سے پیچھے رہ گیا ہوں اسائی ہونے کا احساستگی ملک اورت کا احساس تھا۔ کی گلی رامایاں اگانے پاکستانی چیک پوسٹ سے کھارتی چیک پوسٹ کی طرف بڑھ رہے کے آر کے مجھے میں تھا تقول دہلوی اور در مرحد کے قدم احسائے میں لے رکھا م گھل کر یہ ساگریسی متی۔ نہیں کریں گے سوریں سایا کے ساتھ ساتھایا کی سیال کیس کیانی میت کی اسی مدیریت سے مدریت امریکاست کمائی کو مراسلام ہیں سال اورکھارتی کو میری طرف سے پیارا ہی دیں۔ - حساب دے کمارسویا، دوس دہوی، ملی پر اور کو دوسرے لوگوں کے نام سے ایک ہی پیاده میں امونی سے رہا تھا ترین کے الفاط میں وہ روانی میں تھی آواری ہوتی کا دو بار ہی تھا عورت کی دلوں سے میں رور ملتا اور کریارا تھا آحاں کی أول میں دلوں کی قدرت کی اور جیسے ایک ایک لفط و سکا کہ مارہی تھی تادی۔ کی خدمت کر سکے ہوں۔ شاید ہماری اور سے اس کو برتانی کون داد۔۔ اور ترین کی کمی کم ہوگئی اس دورے ان کے کل وورکویسے باندھ لیا تھا ایک ماں کی ماما اوراس کی لہروں سے میرے دل میں میں بیٹھیں مار دیتی میں کیا ماہ رہا قامتری کہے جارہی تھیں میری آنکھوں کی لکیریس کر رہ گئی ہیں اور شکل میں ایسے خدمات کو باندھ کر اتنا ہی کہ سکا تھا۔ اسے بھائی کواتا سایر اور ماں یاد ماکاس دولت سے میں مالامال ہوگیا ہوں۔ اس کی اور تمام دوستوں کی بدولت یہاں مجھے ایک ہیں کی ہے یا عورت اور پیارا ہے، اساسا ایک گھر کا ہے اور سے بڑھ کر اسے ستم کی اس رعن مرے دور کارت اور بھی گہرا ہواہے اورانسانی تورکاوه اساس ملا ہے تو انسان سے انسان کو تخت کے مد می با مدیا ہے اس کی کوئی نہیں ہوتی اور ماکو رنگ، کام اور دمہ نہیں ہوتا۔ اری اور گدھی کے درمیاں تو عریقات ہوتا ہے سا تیری گاڑی میں بیٹھ کر رواہ ہونے لگی تو مری طرح ان کی آنکھوں میں کھی برسات کے موتی یک رہے تھے اوں سے جدا ہونے کے لمحوں کا در کس ندیدیدمولے ارکا ایسا احساس مجھے پہلی بار ہوا یا اوریانتی کے ان اشعار کے العاط مرے دل کی دوڑ کوں کی طرح روز کئے گئے کے ممے کہا تھاکسے گلے لگ گیلکوں سے زمانے کی ملور گینگتا ہوا می تراپیدمیں خود کو سمبھال کر رکھا اسی طرح سے گلا اسے گرا در رکا . سے وتر مرورگر سے ہولی کی بھی بھارت کے دورے کے بعد ایمانی ان کی والی ہوئی ہوگی۔ شتان مرے پیروں کے کیٹیٹ لائے گئے بھاری تھا اوراں تھوں کو چوم کریں تیریٹی سارتھالی میں سال کردیا تھا قیتمان کے لئے گردونوں ہاں کمردي کیٹی پر بھی کئی بار میں لاہور سے باہرجا ایٹراوری کہ وہ زیادہ وقبرے سام میں کردار کے انھوں نے امید شاہ کی کمی دورہ پاکستان کا مان رہا ہوگا۔ میں نے کہا وقت کی دولت سے بالال ہوکر وطی کوٹ رہا ہوں کسی کا ایک تر بار گیا بررسی میں وہ کالا ہے۔ لی تھے ایسے بھی کروانے کی متواتر نہیں ہو تمی و گرمت کرتے ہی میں ماستے کی ٹرالی سے کیا قتیل شعائٹے مات راسا دیا الگ فنگس آراگر وہ میرے ساتھ رہے وداع ہونے لگے تو ایسی گاڑی میں سے کمرہ الانشادر دلائیو کر فرو براتارنے کے لیے کہا۔ سر یمن کے منظر کے خوب صورت لاں میں کمرے کالیں ہیں محنت کی ایک ماڈکار کے دور میں ایسے اندر سمیٹنا۔ آح محاب صرمان ملی اطلاس شروع ہورہا تھا اورتیری کو اجلاس میں شرکت کے لیے مایا تھا ان کی تدروا سکتی کہ وہ وائگی اور مجھے وراع کرے یا مری نگر میں نے منع کردیا۔ سے منع کرنے کے اوورعلا وہ اسے والی کی قدر کی نہایت اہم اجلاس میں شرکت کرنے کی ان کی شوری تی وانگے اٹو کمرے سر کے بارے میں اسے دانشور کو انھوں نے مروری بہلایا۔ دس اور گھر کی اس اسکیٹ کمرے میں ساماں کے سات رکوارتے ہو ے کے مساوی ہیں کی خود سے ایک چھوٹا ساتھ ہے، قبول کریں ، میں نے ہمارا کارکمالکی سے سورما تھی نوکرانک ماری گریٹ سے کمرے میں داسی ہوا میں نے پوچھا اب کیا ہے تو کہے گئیں کتو توکارسمی بھی ہوتے ہوں گے کر پاکستان کے کوہ میٹھے اور ندید ہوتے ہیں، مر کر کے لگا لو اكلور ات مدلاری ساہاں واقعی بہت ہوگیاہے لکی اسد نہ آیہ کریباں ۵۵ ہوتے ہیں اس کے معاملے میں بھارت کو بھی احراراس طرح کے تصوٹھی پلتستان میں ترا ہیں لیاط سے پاتال کے اردو اداروں کو بربری یا صل ہے بھی تھے ۔ ایک گھر سے دورے گھر کو وایی ,شوری . پاکستان میں میرے دورے کی تری مایع منی والی ترکی تیاری رات چیت ہوتی کتی معدی کی روانگی کا سر گرم ہے تاکہ وانگ مارٹر گیم گی کارروائیوں سے پاروع ہوکر بروقت من امرتسر ہوتا ہو اٹھارہ سکوں میں ہے اسی لیی نہ ہی دیکھتا اور دوستوں کو بیانیہ ہو بھی ماضی احساس کواح مری وای کا علم ہوگیاقاصع ہی سے ان کے اور کہنے لگے تھے سبيلا نوں سائرہ ہائی اتهامات میں والورديد وحره اورعی اور صابر لودھی ، ڈاکڑ امام ہیں اور دریافت وامی کے نوں اور تمام دوست اس کی سوانتی تھی کہ میں رکھ دیں اور ڈر جائیں مولر اما یاه سختی میں کم دکھ ہیں بارہاتھائیں شکر راک محنت کے ۔ الماط تھی ہی نہیں تھے کراں میول کی دھڑکنیں ترقی،عدام ترکی کے اور اسے میں کی و گری کی تو دور کئے ہوئے دل اور چلتے ہوئے حد نوں ہی پیدا ہوتی ہے۔ قتیل شما هیی زحمت کرے آۓ سلسلے کی تیاری کھا کر میرے محترم دوست عمارتیں تمائی کی آمد کی اطلاع دو کرنے دیا۔ کے نامبر گرامی توش آمدید کہا اور کرایے کمرے میں لے گیا۔ میرے دے اور کیسے ہو سه سلال کو رکھ کر تیرتمان کے لیے کہ ایسے لگتا ہے جیسے کوئی اے سار وسار کے سائے گوندیں میں ہے کہ اگر گھری تو مدیل کر رہا ہوں ۔ انکے گھر پاکستان سے دور مگر بھارت کو روانگی کے سمری تیاری ہے۔ ساتھ وہ بھی مسکرا دے نئیں باری سالوں میں تو ہمیں ایک بھی سکتی تو یہی ایاگھر جوڑے کے لمحوں کے احساس سے پیدا وقته مقتیل شعائے ہے ولعور پڑھے کا ستر کی دوری سوس مالک کے ان حمول کر ہو۔ کی وہ اردو اور ہم نے کھری کا عمل میاید کی تصویریں دیکھیں اور اسی سلسلے میں انھوں نے ایران وقت رائے کی رگوت ریکی میں رور کام کے دفاترتر ہیں پیدا کیا تھا اسی مہاسے نوائے وقت کے دواتر دینے کا موقعا گیا تھا۔ وریامہ نوائے وقت کے دواتر ایک بڑی اورتمدار عمارت میں واقع ہیں۔ داہتے کی گرل پریتیں ہے وہاں سے گزر کر اور ٹھار پڑھ کراوربااہتے اسی ہے مقای حسیں وصول کرنے کا انتظام کی ہے جولوگ خدام کی متقای تری اجارہیں اشاعت کے لے دیتے ہیں وہ یہاں وصول کی جاتی ہیں اوران کا ادرطرح ایل میں کرلیاساناے لمیاں حروں کواو باردار نشے میں کیسے دیاجاتاہے۔ نوائے وقت میں کام کرے اٹھنگ مانکل بھارتی اداروں سیاہی ہے۔ مجھ رہی اور مالدیرکلص سے اخبارات کے دور دیکھنے کا موقع ملا ہے للتنگتمام حالات کے ادارتی تھے اگتے ہیں اررواسمارت میں رو راہ ہندستاندارد، می عمارت کاستے مڑااساس کی جماعت اور اشاعت میں کمپیوٹروں کا استعمال بھی ہوتا ہے میں تاکہ اسی ادارے سے ہسدی مرور نامہ میمالیسی ، اورییانی اجاره نگائی کی شان ہوتے ہیں مہدی انارکی اشاعت سے زیادہ ہے اور اگر ان کی رورار اتاعت عانا ڈاکٹر سے راندہ عمارت کے دوسرے موٹے احا دوس"ہندوستان ٹائمری ریڈی نییه. طائرآف انڈیا اور ان کے ہندی میں ہیں میحات میانی ران میں شائع ہونے والاست لااااررورا * احیت ہے بیحات سے رو راہے انٹر سوله سکس وقت انگرسری مہدی اور میمانی میں بالوں میں شائع ہوتاہے إعمار نوائے وقت اساطیرتا ہوا ہے اور ہما کی اطاعت واشاعت رکھی کمپیوٹر کا استعمال کیاجاتا ہے بھائی کا کام است اعلی ور برتری مشموں سر ہوا ہے۔ د وراه تنگ کی طرح « نوائے وقت بھی بیان کے لحاط سے ہمت اور جمہوریت اورینت امار ہے۔ اس اتاروں کی سیاست اوریمت بھارت کے اداروں کے مقالے میں سادہ ہے۔ اس کھیل کود فلم ٹیویں میتوں کے لئے اور ہمت داری پیگری انتہایت ارکستر علوائی اورنگیں ۱۵۳ میں انٹرویال سے کہاکہ اب وہ والی دیں وکمارت میں اسے دوستوں کو یاپیال کر بنانی ہی اصول تراں ہوتے ہوئے وہ کوئی تو ہے یاد دلایا کی معی نے وائرہو عام ہے۔ انھوں نے کہا کی رہائی کا پروگرام پیامک کیسے ہو گیا ۔ آپ تو اگلے ماہ کے رہتے ہیں جانے والے سے ایرانی کلامی ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ بریاں ہوگئی تم میں نے کہا اس میں بریانی کی امانت ہے تو کسے گئیں کہ میرے موکے دورابی گریر ان اری تست مت کرنے کا فیصل کیا تھا۔ اس سے میں عام ممتاز اور نقصانات بھی کی تھی میری تو بہتر کر کے تمام دوستوں کے علاوہ ان ادیبوں اورساروں کو ھی دگوت دوں سے اب انہیں سکے آج ہی میں راولپنڈی، اسلام آباد و رو بعض دوستوں کونوں کرنے کا پروگرام ساری مفتی طاہر کو یہ کہا اور وہ ہستیار کرے اور اس میں اسے ایک الویه لیں یا کویره رائے میں نے کہا کی قیادات میرے لیے باعت ہونی لکی مرسے اس کی دبیر کی عمارتو ہے سرکاری ٹی تم ہورہی ہے اور یہی مری سے بڑی موریا سے مروی اقا مسوس کر ر انقاہ ستریت بیرت دہی میں ہوتا تو میں نہیں کی میری ان کو تم کرنے کے لیے وزرای مرید کے دور رکھے کی بات کہ وتانک میرے سرہا استرو نے یہ کر کے کھی پروگرام سوج کر دیا اورای نگرانی میں نوکروں سسرا سامان پیک کروا رہیں نے تمہارت میں اور تھائی ترین کی کتابوں کی کٹ کی دیر تھی۔ میسی اور کی دوستوں کے لیے دلی دوست کے ہایت خور صورت لیڈر کے سی متریاے قرار دو میر لاہور پولیس تیار ہیں۔ لاہور سے والی کی اطلاع در کیان قولو لوی میرے اترتے اس لیے نیکی ملتان کے کام بہت جلد ہوگی اسے دوسروں کی مائش کی تدبیریں اور کیا میں بھی حاضر ہیں۔ وامه واوقب کے دترمیں در دو یہیں کے رورار دلوائے وقت کے دو میرج کرواکی تاکی کے عمل میں این تکررة نکس وہاں انٹرویو کرنے والے ایک صار ہوتے ہیں اور ایک آدی کے سوال کا وا رہا کونسل کا نہیں ہے کی یہاں تو سوالات اور گرمی سوالات کرنے واے دیش بھرامری سی اور کے قاد اور انہیں تھے ۔ اوران سے شتروگھر سے ہی سریعے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایا یک ہونے والے آج کے اس امتاں میں میں کامیا سے رہا ہوں تری سے مسکراتے ہوئے کہا کھو کا مادی تک میرٹ لسٹ میں سے ہو۔ سارے لوئے کے ترس بر تیاری کے عالی مرتوں دیر خاک لے گئے مینا کہ میں پہلے کی نگاہوں کی اس کے سسرال پاکستان میں میں اورنگی شادی کے میں مان واناتی رہیں ادتیوں اعلی عہدوں پروائر میں سے بڑے مٹرولیم لاہور کے ایک بہتریر تعلیمی ادارے ڈاں ماسکو اسکول کیں ہیں دوسرے کالمسٹ ولیم ریال کالے میں سرویس ہیں اور میرے خوں ولی کام میں امریں توں ویلیم صاحب کو میں نے لاہور پہیے کے دوسرے دور ہی ایک مایوس کیا تھاوتاد حسی کالی نادر سے ملا توں وی یک کریس ارب اور سکھوں کے پیرسد تحائف لائے تو میں نے اسی میگ میں ڈال دی تو مدار تھوں سے و کر شادی کے لیے لکھ دیا تھا۔ کافی دیر وہ مجھ سے بات کرتے رہے انھوں نے میرا ہے وہاں آنے کی دعوت کی ری میں میرے معدرب لد کے کیوں کہ میرے پاس صرف ایک دن کا وقت تھا اور برسوں سعی داسی کا پروگرام تھا۔ اس ریکوں میں ابھی کئی کام کرتے تھے اور سا کھانا اور تھائ کوسمیٹ کروالسی کی تیاری کریتی والپی سے ابد دہل ۲۹, حوری کو ہی اب غطاطق تاسیانوں) پاک ع لعددویریں کے می • نوائے وقت کے دور میں آجاؤں اسے اتار کے ادیات کے لیے وہ کے انٹرویو کیا چاہتے کے میں نے کہاکراتی دارم میں ہیں، اتنی ساری باتیں کرتے رہے اس کا امرولولساعاہتے ہو؟ عطاراطین پانی سے مت گراصول تھا وہ شدت کیس میں چاروں وغوت کاور کمرباره تان مسلم کہتے ہوئے میں نے قبول کر لیا۔ اله فکری اور عوام کیسے ہی میں ہوتے ہیں کے اول میں اینگروی رکھی اور اندرکارانام کرنے میں وہ کامیاب ہوئے لعیں یہ پاکستیرم کالام میں حاصل ہوا ہے اس سے کوالا را در مردہ انعام حاصل کرنے کی کوسوں برتری کر کے ہر ادی العامات حاصل کرے ايطالية تلم شکل وصورت میں اکثر استعمال ہوتا ہے۔اس پر کئی تہ تے ملد ہوئے اور پاکستانی ادیبوں کی مالیت کی کہ یہاں سے کول۔ تو ہو اسے مام ہارا رسول کی باری کی لطاری نہیں ادی عام مرہونے اور انعام حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کے ترے استعمال کرتے ہیں۔ حوالات دیگر است ای دیے جاتے ہیں ان کا طلاق کا ایسا ہیں کہ ہے شعار کہا جا سکے مختله کارمون اور سرکاری اداروں کی طرف سے ہر سال انعامات رسے جاتے ہیں طریقہ کار یہ ہے کہ اکادمانيا ادارہ سال ایک عام تاریخ عار سے آٹلری کتا قلمکار سے اس انعام دے سے غور کرنے کے مقید سے گوانی میں اگرکوئی دی۔ اس کتا بھی انسانهای کونی در مترونات کی چوری کے اعسکتے ہیں یا اتومات عام کینہ دار ہیں ہوئی لیکتان کنیم ونودگی میں کسی دوسری کات راس سال کا بہت ساری انعام دیاجاتاہے تو کی ماں ہیں کہ وقی امام کے پیٹ کی بہتریں ادخلت سے تحائف کی کبرمار اسی طرح کے بہت سے مولویات ریگیشنگوئن اور رخصت ہونے گئے تو وہاں موتور بے ادبی دوستوں کے ایں کتالوں کے تھے میں کے مقبول روی اور تیئیٹی کے سیکریٹری الدور کرتے تو اتنی ڈھاری کاموں کو ماندگاری بالا برامہ نگه کے دواتر تواوسری مرلوں پر واقع ہیں دیکھے کہ میری خوات لیں توقع سے کہیں بادہ وقت گورم کی نشست میں لگ گیا تھا اس نے ہم وہاں سے گرے پر روانہ ہوگئے راستے میں نے کانست کا امیر ترین نے کہا کہ ایک نہایت کامیاشت کی میں نے کہا میرے لیے یہ ایک ولی تور امارات ، مریدوں ریڈیو اور ٹی ویروں کے لیے میں نے تارازووریی گرین ژوکاری کی اسے مستر نور معقدی ئیمتی اورت میں نارنگید ریال، ڈاکرین اعم حاالگ راہ میں قد آور سیاسی قائے بیڑیے کے یا تقریریں کی اس ملک کی موجودگی میں اس کی تخلیقا میری طرح سے کی تنقیدی جائزہ لیاگیاتھا برای متال آی بتهامیلتر نے کہا کہ ایک ہی بات ہے لیکر مونا السا ہوتا ہیں۔ ادد انعامات كتالوں پر ملنے والے سرکاری اور سرکاری انعامات میرہولیات ہی یہ دلی تھی ڈاکڑاوردیدکا کہا تھا کسی تا یادی کروانام نہ جانے سے اس کی وادی سیاست میں وطن کو ماہ ہیں سوتا۔۔ ہی ایسے انعامات کی ادیب ماتارام مستی کرنے میں کوی میو کرتے ہیں ان کا سال تھا کہ کچھ عرصے کے لیے اسے شہرت مروری جاتی ہے انعام کاتم داتی يمديا الحد گروہت دخل حاصل ہے۔ اس میں بیس درے کی سیاست کی شاندار ہوتی۔ گروہ سردی کے اثرات بھی در آتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ باکمال میں ایک رائے میں آدمی ایواژه سے شا العام ممالک انعام اکاد با کولا اور علی پور کای کوس کی دولوں کتابیں اردوادب کی یہاں کا درد رکھتی ہیں۔ اس کے سیکس کیا میں انعام یاد قرار دی گئیں اح ال کار کرنیکس سے میں نہیں آتا، سائرہ ہاتھی نے بھی اس بات کی نمائندگی سے یوتھیاگیاکہ بھارت میں بہت سے سرکاری اور سرکاری اداروں کی لیے تیار اما تقسیم کیے جاتے ہیں۔ وہاں اس کا انکار ہے ؟ میں نے ڈاکٹرانور سدید کی بات کو رو ہوئے کہا میں تو میں کہاکرتمام العامات سمان اور تر ورسوں ہی سے ملتے ہیں کی عمو ایسا ہوا ہے میں ہے لیرام کا ذکر کے ایک ایسے ہندوستانی اس کی کہانی میاں کی تو محمص دوکانوں کام ہے اور سر کا ادنی کیریٹ کی مجھ یا چھ سال کا ہے ان تصدمات مرانعام حاصل کرنے کے لیے اسے بہت بھاگ دوڑ کی۔ انعام کا اصل کرنے والی کمیٹی کے مموں تک رسائی حاصل کی۔ آں کے منے محلے والوں اور تراوں سے صدارتی خطوط لیے تعتم
۴۹
سوال
خواب
سرال
نیکیاں میری حالت میں سر کی قومی پیدا ہونیکی و مورال
تبدیل ہوتی ہے
اس وقت کے مال سوت کے مسائل ،رح کے مسائل حکمال
میں ا
دوستان اور پاکستان کے ادیبوں میں کون سی قدر مشترک ہے اورکوں
میکند.
دونوں طرف کا ادب ادراری کہ میں ایک ایسے ہی ہیں
سے یہاں کیا جس کا اور کیا یام آپ یہاں سے اسے وطی کے لیے
کرنا سی گئے ۔
یہاں سب لوگ بہت اھتے ہیں ایام ختم کرنے وائے ہیں میاسا
اوریام لے کر میں اسے وطی جاؤں گا۔
حواد
سوال.
حراب .
امید کی
مک فورم میں مجھ سے کیاگیا انٹرویو بہت طویل تھا سینگ، اتارے اور ایک سیر
انتصار سے میں کیاگیا اٹولوست ہونے کے بعد چائے کی پلکوں کے دوران ایر ہیں بہت سی بی
اورئیر میں نہیں ہوتی رہیں۔ ڈاکٹرانوردیدنے کتابوں کی ریاترا کی تقریبات اور تالوں
نے والے سرکاری اس سرکاری بیابانی امور میڈیا میں نے کہا کی روایت دونوں ملکوں میں
قالہ کی کتاب کی رسم روائی کی تقریب منعقد ہویاکوئی میری بات نہیں ہے اس سے ارب اور
ان کی میت کے بارے میں لوگوں کو بارہ واقعت حاصل ہونے کی کیا گیا ہے ایسی تقریبات
کا سہار عام طور سے راق تشوی کے لیے لیاجاتاہے بڑی بات ہے۔ تقریب منعقد ہوگی تو فوٹی
بہت تہ تو ہوئی ایک تقریب سمت کی دیکھی ہیں مییاہے مانتے کہا کہ ہے وکولی
کی تقریر ہیں دیکھی جس میں روا والی کتاب پر تنقیدی نقاطرات کان مواسیرک اور
کتری بر یار مارے جاتے ہیں ۔ میں نے ای ایکی کا ایساراسایی الگ کیا دیانی
۴۸ طلا بی مه الت ایستاده تراسا روا نوی نوعیت کے الائے ہیں۔ اس کی کیا وسوات چین کی ایک سرکاری معیاروند ہے تای مهری رو ای افسانے ہی پڑے ہیں اورس امسالوں کیسات نے کی ہے اس کے علاوہ بھی میری بہت ہی کہا میاں بیستوکراسی موضوع اور اسلوب کے حوالے سے بہت محتدم ایں ۔ سوالی بارے التوا مارگارا مڈیا سے دوری کرکے تقسم کے لودر اکساں آئے ہیں ان کے ہاں بھیانک ایں تھوڑی ہوئی مٹی کی تو اس ری ہوئی ہے اس کی تھوڑیں میں آج بھی بر اساس موتور ہے میں کیسے بڑی متال اقطاریں ہیں۔ آپ کی سا سوال اکیال سے چیر کر کے ادھر گئے ہیں کبھی پی کی اسے مدراس سے کو کیا عورت کے کسی سے پیدا ہوا ہے اور جسے انشارتدت سے میں کیا جواب ۔ الیمارستاس ادیئے سار ہوا ہے اور میرے سال کی ہوا میرے مہت سے افسانے اسی معدے کے گر دور کرنے ہیں ا سوال آیا سالوں کے حوالے سے ہے اس میں ہوتی ہے کہ ابتر قادری کے ساتھ وانت نہیں رہے۔ کے اس سلام کی حال ہے مواد اور میں مختلف اسکول و کاٹ ہو تے ہیں کی این موضوع کی حاصل سوح کے توالے سے لکھے سے محال میں اس کیوس محدود ہو جاتا ہے اوراس پ ریال تاریخ لکھی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ماریں گے وہ مدیوں کا انہیں ر میں خاموشی سے لکھ رہا ہوں کسی گروہ سے سنگی مروری ہیں گفتاده ترقی اردو کے ادب براترات کے بارے میں کا کیا حال ہے ؟ حریک شروع ہو اس وقت بھی لوگ کھربہت اچھی لکھ رہے ہیں۔ اس کو تو اس سے کولوق ہیں ٹا اور روشوں موت کے وقتل محصوں سے استور گوتم یاتارے ایک مختلف نوعیت اختیار کر لیے ہیں - 4 و سوال حراب 2م حراب سوال حراب سوال ۔ ٹیلی وٹیں دائر کی ہیں۔ انکے مریداری اور ایک رائٹنگ میں میادی کاہے ؟ ہماری اریادی ہی کی ہے وہاں اتا راد یہ ہے کہ سکتے ہیں - پاکستانی ٹیلی و رن ڈرامے کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے پاکستانی ٹی ورل ڈرا مجموعی طوری دلتانی ڈرانے سے ہے سوال ۔ ہندوستان کے دلوا لا تصور اور وہاں کی مہدی تقامی روایات کے والے سے ان کے اد کو ہم آئے ہو ماحا سے الگ السا نہیں ہے۔ اس کی و سوات کیا ہیں؟ حواد آی کی اس رالے سے رشتہ نہیں ہوں مجموعی طور بر دوستانی ادب بہت آگے ہے میوں کہ یہاں کے لوگ عمارت کی رمار ہیں اتے اور آپ کے پاس وہ کہ میں یہی باتیں اس لیے ای میں امارہ ہیں لگا سکتے --- ا ہندستان میں اردو ادارات کتنے قبولی ؟ عمارت یاب ہوکھی اور دوکاگہواورہا ہے اور یہاں آ کر دیاکہ وہاں عالم سے شائع ہونے والا اردورورمام ہرسایا اطاعت گسط أس مروت اور مال سے بھارت کا صف اول کا اسار ہے اس کے علاوہ گھار کے محتلمتهوں سے سائع ہونے والے گی اور احاربھی بی کا مقولي - سوال سان کل دوسال اور یاکماں کے روابط بہت آگے بڑھ رہے ہیں ہمارے ہاں متاتر پایا ہے کہ بھارتی حکومت اور عوام سے یاکمارکای تک ولیم نہیں کیا۔ اس ادیب ہونے کے باڑے کمار کرتے ہیں اس سوال کا محض سیاسی ہے تیری گفتگو نہیں کرسکتانک آیا اتر نہیں ہے عوایتوں کے حوالے سے تو بات کی ہے اس کو دونوں ملکوں کے عوامے اتے اتر کے ساتھ قبول کیا ہے اب اگریمور ریال پیدا ہوئی ہے تو اسے علمدارعلرریاستوار کیا اسے. سوال خواب حوام سوال ۔ مینا کے حوالے سے بات کر رہوں وہاں تک پورے ہندوستان کا تعلق ہے اب صور ہار میں اردو کو دوسرار ماں کا درد والے ہمارے ہاں میرومولوں میں اردو کا میاں یہونی ہیں دونوں میایی اکادمی نہیں ہے وار کریں (Languages Department ای یار میں اب اردوں کے زیر ہے لہدایہاں اردولولے والوں کی تعداری کے مرا سر ہے میں اس کے اوور نے اردو اور اس میں منعقد ہوتے ہیں شاید ہی ہندوستان کے کسی دوسرے وے میں منعقد ہوتے ہوں اور ان میں ترکی ہونے والے والوں کی تعداتات کردیا ہے کہ ان سرتیں اردو کو ساکھ نے گرجنے گی پیسے بھی ہندوستای ربانی کی سالاہادی ریوڑیں حملے کی صورت میں شائع ہونیوں سے اردو کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے بھارتی حجاب میں ضلع ہیڈ کوارٹر میں سرکاری طور پر انکوور دینے کے لیے اس کا علم کا سلسترون کمانا ہے مراد کے سامنے اس کے عہد کے اقامے ہوتے ہیں جس کی سایر وہ ادیتھلیٹکرا ہے مہمان کے افسار گاوں کے سامنے اس وقت کوں سے اس مو موهاتنیاں کے حوالے سے وہ افسانے لکھ رہے ہیں ۔ درندگی اور اس کی مرورات و مسائل کے حوالے سے ہماری های رنگ ها کموست ولع ہے اور ہار افسانہ نگار اسی حوالے سے تانار اسامہ نگاری کررہاہا - آہدی، دو اوریجانی بالوں میں لکھتے ہیں ہاں مدینے سے کیے ہیں کو امر نہیں ہونا کھی کھی انسان ہوا ہے اور قدرتی بات ہے ۔ سمات اور تصوار معیار میں دو لکھے والے کوں سے بڑے ادی؟ کاری از کارگران متروں کارورا، السی کے رامال تمدیع واکر ویو مت بنانے والے ہیں اور بھی کئی لوگ ہیں جواب سوال حراب سوال حراب ۴۵ حراب سرال حراب . مسی امانون کارگر اسے کیا ہے وہ ترقی یاب کی بھی ہیں یارسال صورت حال کے سطریں لگے ہوئے اماتے ہیں مری سرکاری ہائے موت تعلقت کے توالے سے لکھتا ہے کہ سونے کے کی لکھاہوا ارادہ ہوا - دے رہا ہے کہ آنے اسے اردو انسانوں کوہدی منتقل کیا ہے کہیں اسا کرتے وقت ایک دم میں یہ تو نہیں تھا کہ اردو ہندوستان میں اہتاہم ہورہی ہے سردی کی امت کاماد ہورہاہے ؟ . پاسباں اردو لکھی ہون کاربرد انکاری ہے جن کا توں میم مویا ہے اور اگر اسے دوستوں میں تم کیاجائے تو شاید وہ ایک بار تام کئی سالوں میں بھی تم ہو ۔ اس کے المقالہدین کو بھی اول دیں ہرار سے کم معیار ہیں یا اس کے علا وہ گھی کیا میں ایسی بھی بیوی کا ایک است پیاس ہار کے قریب کیا ہے۔ ایسی صوری حالیہ قلم کار کی تیار ہوتی ہے کہ اس کا لکھا ہوا ر بارہ سے بارہ لوگوں نے اسی تواے سے میں نے مری میں مار کھانے میں اس کے اوستو میری اردو سے محنتمہ ہون - دہلی سے مہاں آنے والے لوگ کہتے ہی ہندوستاں میں اور دوریاں پہلے کی سمت آگے بڑھ رہی ہے۔ کیا بھارتی ماں میں بھی الی شوری سال ہے اس نے انکی ہے۔ اب میں درلود تیم های واں اردو کی کمی سے پرانے ہیں -1 التیا کا ایک بڑا ایوارڈ اس کو میری کتاب پر ملاتایا اردوکیان الوارٹر ھے اسے معمولی کام پر لانھا سا کیا ہندوستان میں اردوراں کے تھے کے کوئی پروگرام اکوسش سرکاری سٹے مرہورہی ہے اور کیا اور لسانی به مصوبه استحق میں کوئی مدگار امت ہوسکتا ہے ؟ سالی مصور قیاس سلسلے میں راتاتوسکا ہے میں امید سوال حراب سوالی . خواب سوال حراب مم تو میرا پرستی کی گئی کہ دن کی ادا تحصی کو مارے اور کیا ہے کے لیے تیزی اور دینی حوالے سے لکھے گئے کئی مصائیں تا کہ اس میں سے اہ * : الأم مہدی علیہاں سے مل کر ترس رہا تھا۔ الاموره معقده عدد تقریبات میں ان کے کئی اداے نے کا مو تعالی ہے سر سے لگتا ہے اس مٹی کے اسلوب اور شر سے بہتر اوہ اگر میں اس کے سوال . مرکرام ؟ جواب سے میرے خیال میں کسی کا لائی اور قبول کرلیا الگ بات ہے لیکر اس کے رات کے انقرہکے سراسری ہے کہ اسی میں ہے رسوار ہم بیٹھتے ہیں الکا اتری اول الواسطہ تول کر سکتے ہیں اتاری کی نیت سے میں میٹر ستائر ہیں اسکا مدار بھی ہوں میں یہاں تک لکھے کی بات ہے اس لیٹ گیا ترس، مرايا میرے سوا سوال آنے اسمائے حققت نگاری کی اس رواس سے ملتے ہیں تو جیسے شروع و آج کے دور حقیقت داری دیر دیر میں کی گئی ہے اور اس کی نگرامی اور تحریک تھرو ہورہا ہے اس کے ہاں علامت نگاری اور کم پیک موتوره رویہ ہیں ہے۔ اس کی کیا وجوہات میں سس؟ حراب میں دائی طور پر کہتا ہوں کہ میں لورا ماہ لگارعلمی و تحریدی اسے ولید مہر کتنا مرے حال میں حقیقت نگاری کا رویہاری مدگی کے درباره ترے آج کے دور میں ہے یاداشت اور تناؤ کے اعصانکی یاد میں ہے علامتی افسانے اس دباؤ میں مرید زمانے کا اعتراتاہے۔ مرزا سروال آئے نعم انسانوں میں بارات کی مورتال کاتھمرہ بھی ملتا ہے نکرہ مول طرح کرت محمد العم سے ایک اور صوبہ سری کے تحت لکھے کیے کے موال دین اور انکی عمر میں انھوں نے گر دیرساں ارے کے توسانٹری دی ہر ویار دے بالکل اسی طرح کا روتے کے ہاں بھی ہے اس کی یاد ہے۔۔؟ ها فرار ۱۴۳ حراب مایوسی کے سوال ہے تو اسے لکھی ہے اس میں ایسے انسانی شعور کو کہا تک برقرار رکھا ہے ؟ میری ایک میت ڈاکڑ کی کھی ہے مضمون کا ڑ کرادکامہیں ڈاکٹر کی نیتت سیاتیات اور میڈیکل کے دولور شعبوں کا مطالع میں ہے کیاہے مینار میادہ مطالع تولیے ڈاکٹر کی نیت سے کیا ہے اس کے مختلف پہلوؤں کایورے ادراک کے ساتھ میری ارتعلق میں بھی فطری بات ہے میں اسے اوپرس کی تھایہیں لگن لگی ہاں یرانسانی سمیات کا کوئی پہلو اس حوالے سے مرے سامنے آیا ہے میرے اس کو ایسی کہانی میں میاں کیا ہے ۔ ایسے سوکوتو پڑھا ہی ہو گا اسکے مال میں وہی اوریات کے توالے سے کرانے کا ایسا لگار ہے کیا کاری میں نے لکھنے والوں پرفائی اورسی حوالے سوال:. سے مٹر کا کوئی اتر ہے؟ جواب منٹ کی تمام کہا میں اعماق اورسی تولے سے ہور کا دستے والی کامیابی اس پرقیاتی کارام گی لے لیں اگر آج ہم اس کے شر سے نکلی ہوئی بات کوئی کرتے پیتر کا مطالت ہے کہ اس نے تو کہا تھا وہ زندگی اورامانات کے ریگا ۔ میرے حال میں قیامٹوکوبھارت میں غور سے پڑھا اورمجھا گیا ہے پاکستان میں تمایڑھا اور ماہ میں کیا سے کی اور وی سے مٹے لکھا ہے اسی سے مالی اورتونی سے اس کو بھارت میں بیٹھ گیا ہے ۔ سوال سے اس کی کتاب منومرادوست ، کروانے سے لڑ سے دست پیدا کرتی ہے۔ مومبادوست مقیدی اكرات کتاب نہیں ہے سارے لگ کمال ہے اویدر با اشک کی مومیارم، ای کار کچی تھی میں اش مارنے کے بارے میں ایسی ایر لکھی تھیں توارکے پڑھنے والوں کو ناگوارگیری میں مومیا دوست میں مختلف لوگوں کے معائیں شام میں اکیموں میرا می ہے اگ لورم سموں اور مہدی کی ماں کا کھی ہے اس کا میں اشک کی حراس حراب تام نقی معمول روی میم متری ورواتل مرات شمال الی بیشتر مراسم اول کے ادیتے اس اعلاس کی صدار ترن نے کی تھی میرے لیے ایک یا لکهایت دل ترستا بعد میں اس از نگ کے تونگری بی تھومی ہتہ واری اردنی اذیت می سام دردریل ابڑو او مع رگیں تصاویر کے شائع ہوا تھا ۔ ان کا مواں تھا "هاری کے متواردوهدی ادامه نگاراوراول نگارڈالرکول ده بندی میں سوال سایمت در اولی اور انسانوی مجموع شگفتار ده ربار میں لکھے میرے محسوس ہوتاہے کہ آپ کو اردوران برای دسترس حاصل ہے آتے اردوکس کہاں اور کہے گی ۔ ہاں اگر ماں کو پڑھنے اور سکھے کا سوال ہے میری قباحت استاں میری گدا ہے اتنی ہی میں اردو بیٹی ہے لیں دکانوں اور تو تمہیں وق وہ اسے بہتر سوم کتی ہے یاد میں بھی لکھا ہوں میری پروا نہیں ہوتی ہے کہ پہلے اردو میں لاکھوں میرے کئی دوسرداراں میں ڈھالوں ا سوال.. تاکتیکا میں کیے گئے ہیں ۔ جواب ۔ اردو میں دو افسانوی مجموع مکھری ہونر مدگی اور ای اس ای اگه اس سے ہے میں اول ہارحیت» ساکھ کی برائیاں اور ایسی بات ارکیٹ میرانے میں چوتھا بادل میریا دریا مری میں تیر کر پارکیٹ میں آیا ہوگا اس کا نام سینے کی دلوائ ہے خوجالی در دور دڑی سے ٹی وی سیریل کی اور میں منائیں کیاگیاہے .اول بھارت میں دیر ہاں میں بھی طے ہوا ہے ۔ مہدی اورانی میں میں میری کئی ادنی کیا میں سائع ہوتی ہیں اس کے علاوہلی اوراقی موضوع پریری بہت سی کتی میں کی گئی ہیں اس طر گل لاکر ساٹھ سے اور میری تمام سائع ہوتی ہیں ۔ - اس لیے وقت کر دار العمانی شرک کو کہا کہ میاں کرتے ہیں عطور سوال ۱۴ اردگرد جہاں اور ماں کشتیں ہیں مریرات کے کے انگروئوں لگا ہوتا ہے۔ اس کیا سلوک کریں دوسرار ترسل تھا کہ میں گلوم میں مدعو کیا عاما اسے پے در کی بات کا کھانا تک سیتی تھی کہ میں تومحض ایک عام انسان اورارت کا ایک طالب علم ہوں۔ یہ علے اکڑ ی اون شست، تصورکرکے مجھے جنگ فورم میں کیوں مدعو کیا گیا تھا میں الیی توکون اب مکھی دریانوردی ماترد ڈاکٹراما سول ڈاکٹر سلیم اختر ڈالکرسی اتر سائرہ بانی ڈالارتقریر دی سالی ہے ننگ قوم کی منعقد ہونے والیاست کے بارے میں ایک یا دور ورقلا تاعه لگایا میں انسان کیا جاتا ہے اور عام لوگوں کو بھی اس طرح شمولیت کی دعوت دی ساق والی پرلوگ عام طور پر وہاں سے سوال ہوا یہ نہیں ہوتے کہ مرد اجلاس کی کارروائ دیکھ کے میده او تورمی ہال میں اسے کی ورکچراو ان کی پلیٹ فارم پر ایک بڑا گول میر ہےش کے میں سائے کی بڑی کاروائی دیکھے والوں کے لیے ہال سنگ کنگ دوسوسوں کا انتظام ہوتاہے۔ انگور کی کاروان میلانے کے لیے روراه هنگ کامائید و موتور ہوتا ہے یوں کہیں کہ منگل کاری کاری سے عمر میں جہاں کو لا کر سامعین کی موجودگی ماہر یا اس سے ایڈولو کرتے ہیں بگویم مر کی مہار کو لایا کس طرح سے اس کی عرب اور ان کے ماہواہے مہار سے ہونے والی ات مت کو اقا عدہ ریکارڈ کیاجاتا ہے اور بعد میں تعلة ادت میہان اور ماہرین کی گئیں تصویژں کے ساتھ اور مہات اہتمام سے اس امزویرگروه گی میں شائع کیا جاتا ہے دوراہ منگ کے ارنی ریلی کے اکاح اورشہور سارحاجی رویے ح مینگوم کی اور وہاں سرکت کی دگوت دی تو میں نے سمجھا تھاکہ یہ بھی دوسری معقد ہونے والی ادوتوں شکایت ہوگی نیں لیشرت تری ریش او قول دہلوی کی رانی کے نقنقت کا علم ہوا تو امریکا دو طرح کا روع کی تھی اور فوری رعد مری گھرامد کی کہ اسے ماہریں مجھ سے دریاواں نگل میں اداس ہوئے تو میرارجس رضوی سے ہمارا استقبال کیا ماہرین کی ٹیم اسے وہاں موتوری بال میں کافی تعداریں سامعیں بھی موتورے امریکی مردمیل) میں ، کے سات طویل انٹرویو کے ہی ان کی بار اہم ہے اور رہے ہوت لا ایک سال میں ساحر کو دیا گوریٹ والا سے نکاح کیا اور اس کا حکم لاہور میں داعلیے لانا مقصد بڑھا ہ گرہ تھی اس بیٹھے ہوتے وہ ایک دکھ بار ہی کا لے گیا ہوا الله قام لاہور میں اسی کی اردی را کوڑوسنت کی تھی کہ وہ ترقی بد ترکی کے ترحاں اور لطیف ها مدیرگیا۔ سایر اریالوی اس رسالے کادر ہوا تو اسے دے وایلدیار میں جانے دیا! الامل کا یہاں ذکر کرنے کا میرا مقصر گیا تراورساحر لدھیانوی کی دوستی کا ذکر کیا ہے تو درد میں ای ژوریه کے اوتوداہر کی زندگی کے آخری دنوں تک قائم رہی کی استدراصل دوستیاں مانے اور تھانے کے قائل ہیں اور وہی ماتریسامے میکے اسے امید کے ساتھ بڑے صار میاب اور بھارت کے ایسے دوستوں کی بات کرتے رہے ہیں ان کے دوستوں کی مہارت میں سال نہیں رہے تاکہ مجھے نہیں تھا کہ آج اسے دل کی شہرت میں میرا نام بھی انکھوں سے درج کرلیا ہے۔ دیگر مصروفیات کے باعت وقت کی کمی تھی اس لئے ہماری ملاقات طویل نہیں رہیں گے ہم نے ان کی باتوں کا حوگلم حاصل کیادہ کی ملاقاتوں سرکاری تماس ہم وہاں سے رواہ ہوۓ تو انھوں نے ایسی کتاب کال کوٹری، کی انکے بعد مجھے تھے میں دی۔ جک فورم میں تری یا اگدرت کا گھر کیا تھا اس لیے اس دوری دنیا میں سال کے ماہ ریپ کا العدویہ میں سے تنگ و میر میں ہوتا اور ساقی که اینترنٹیر کور کی اس لیےتیارہوکر وقت گری راه بروئے التامتریک کر کے سر میں گویا کہ ایسے میں تاروں رورار نگ پاکستارگا سے را وادار ترکی در ساعت ساڑے ہر ایک کے پیسے خنگوی اقیام یاری ورد کیانیا پاکستان میں ادب میں معلم مأمس یاکسی می دودمے سے تعلق ھے والی کوئی تحمیت پورے پراق سے تو میٹنگ اور میں دوگیاتاہے تا لردگی اوریا میں واقع پر پاکستانی تحصات کوئی نوکیاحت نے ایوارنگ کے گراو اورینگ های سوال ہاں یوم شترمقدونی میں مرکات تھے نہتا سے ایتھے ہی تعلقا بریں کادیل سامایانا اور وہاں سے امین کرنے کے راسری ترکت کی دعوت ۱۳۹ کلیوں محلوں اور اداروں کی زیارت کی اور اسے اسکول کی رائے کی وہ رنگ بھی دی توان والوں الکا ہوں ہوا کرتا تھا اور وہاں ان بیتکار کے ساتھ وہ رہاکرتے رصام میں ان کا قیام معابر اعتی یو یوٹیں تھانہاں انھوں نے بویرا اس گھری رکھا اور اس سے احد تائثر ہوئے۔ کے قلمی ترقی بیماریوں اور ستاروں اور تھا ہاں مردار خوری ستی اعلی مهارتطہیرساحرلدھیانوی، جواد ادعت اس برتر جدا ط الصاری کے علا وہ ہم سے معاقول کے تلوار امیر ترین ارمنس سے راستے اورکیدا سترام کے سکریٹری ہائرتے تھے حوروں ہندوستان کی آزادی کے دن تری آرہے کے فسادات کی ترتدت سے کھڑی ٹمتی تاتر کروادیانی نے کی کمی تھیوڈر لاہور جانا پڑا اور تیرا ستر اسی دوران میاں آگے اور داراں میں کی قتل وتوں کے مدرسے گدی کر پاکستان سامایا پاکستان کے وجود میں آتے ہی میلی بامدی کمیونسٹ پارٹ واکی ترقی میشه رنگی اس سے میں امت کوگرفتارکیا گیا اور کافی عرصہ میں میرفتی میلے میں میں دریا عالی دوم ریاست میں ایئے ہیں اورتل میں رہ کراکھوں سے کال کواری کی تھی اس کتاب کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے کر دے والے مظالم کاتہ حق ہے۔ شهراد میایه کادك کرامت اور آمر ندیالوی دونوں کاشہر دھار ہے اور دونوں میں گہری دوستی رہی اس کے علاوہ ایک اورادی تحفجار مصر السيودعمری ہی توگرام کے رہنے والے ہی وہ گیا آر اور میرا ترکے مہایت قریبی دوستوں میں سے ایک ہیں اور حد سے لاہور اور جیلوں میں گئے ان دونوں میں وہ لندن ہی میں رہ رہے ہیں باتیانیدا ترکی ہورہی تھی اور تھے کی امی کی یادوں کی باری می اے ای معنوں میں تاحر لدعانوی کارکرکرتے ہوئے .. اها ادې لی کوانتداری سے ترقی مسرکے اور صالویح لاہور میں تھا توهم ۱۳۴ اس نے لکھا تھا ۔ ماں کی حیثیت حاصل رہی ہے ۱۳۸ اس سین فعل مرا سرمایے میری کوئ ملاقات اور و امامت میں کمی یہ ہیں کہ وہ سرا ما می مونی و اس نے انہیں نگر میں اس کی نعمت اور سے محوی وایتا اس کی وہ اتاری تھیاوار میرا سر کار قریبی دوست ہے اور شام میں ہاتھ میں ایک امیر سامنے بیٹھ کر اسے گرے ہوئے وقموں کا ذکر کیا تو ساترلری الویه کمی استراورے تار روس سے دوستوں کی بیٹی یادوں کی مٹھاس سے بھی کم کار را تا۔ ایک بارگر ساری کی ہے مجھے تا تاکہ تو ماندہی کی اس سے میرا تیاری کرنے کا یا تھائیں اس سے سینے سے پہلے میںتار الديالوی سے دالة طور میراستاہواتھا عالیہ دور کی نہیں ہیں حتی مدتاں میں ترقی ترکی عروج پر تھی توورکو کیواسٹ کہا، مشروع سوسے کے وار دیکھا ، اسی ارب پرانے کر بازاروا کو بتانا ہرادیب، شاعر اور امرٹ سکتا تاریخ انقلاب میں دیوار کھڑا ہے اوران کیا کہ آیا۔ ان دنوں ہم سب لوگ دعای کمیونسٹ پارٹ کے دور استراتے رہتے کیا مری یہ مدرع ددیتاتر فصیالوی، استروگرہ سے ملے اسے اور میٹھے میٹھے کا یہی کام ہوایا۔ اور وہیں سے ماستر سے دوستی ہونے کی سواری کی اسی طرح قائم ہے کوش ادیب اورکہاکہ عمرا بتراشا مرے ان دوستوں کی صف میں ہے تر کی ترتان لحی عمالیوں کی نعمت سے بھی گراں بار ہوتاہے ۔ مری اور دلوں کے اسپیکر میداست کو میری نگاہیں مرا دیور ہی کسی اور وہ مسکراتے ہو کر شادی کی دعا کی امی مجھ سے کے پیار سے ۱۹۷۷ اور ۱۹۷۹ میں اسے بھارتی دور سے کیا اتیں کر رہے تے سہلی بار بار میں ان کا قیام خص رات بھر کا تانکر دوسری بار وہ ایملی کے ہمراہ کئی دلوں کہاں ر ہے ۔ وہ گائیں ، تمہارا، ضلع ماہ کی نگراں قصر مرا سے ستم کی دھرتی بھی دیکھے گئے اس گاؤں میں ان کے رنگوں سے مرایتر یہ ہی می بیندرا کوبرا عار ہوا کرتا تھا اور دور میں مار کرنے کے اتفاق اسروری جمعرات کا دور تھا۔ ان کی موتیا کے دوران انھوں نے دیکھا کہ حی گاؤں کے لولاں ماروں کی تقلی دلی میں لیے مزار پر جاتے ہیں اور مٹے یا ول لطور تم سے ہیں۔ اور ہے کھڈرون رو سر ہوا پاماں بھی وہاں رکھا اور حلم راویوں سے اس کی تصویریں"ارمیں انھوں نے لرصداست 13{ باندی مداحة کی ۲۸, توری کی مے کوې ہیں نے مار مار کو فون کیا اورطے مایاکہ قر اردویہ میں ان سے نے ان کے دو بیلا اور ابھی تک ال سے ملاقات نہیں ہوتی ریحاب الوردد، ڈاکٹر آغا سہیل د نوری اور سائرہ باتھی سے بھی دوں گفتگو ہوئی اس تمام لوگوں کی تست تیروں اور بطور اساس متال رہیتی رویہ سے ملی مسری کو مروور ہیمی ترین میں سے میں نے کھائیک کرنے کی تواہش ماہ کی توانھوں نے اسے دو طاہرہ سعید کوفون بی تاکید گردی کی مانگ میں دیگرے کے لیے وہ تھے لاہور کے اداروں کی سرکاریں اترنے کی کا وہی تھے دوڑ پھوڑ کی اور میرے طاہرہ کے ساتھاکہ مروری تایگ کی عمارت میں سید ریاستوں کی تھو تیوی وانتی تھیں اور میری کوتی تھی کہ اور رائٹ کو پورا کر سکوں سے مٹی رات پاکستانی عولوں کے بیٹوں کی بھی کی کیپٹ تری والے سے ای سدکے مطالق سے ہی منگوائے میں حیاتین تھانے بیٹے دو باتیں سے بھی کر رکھا تھاکہ وہ ایل کے کے کیمرے کے ہر ملائیں احب ایک لے کے تومیں نے ہی سنا ہیرا مت، غلام علی متی کی اور اندھیروں کی مردوں کے کسی حاصل کرے کی لاش کیا میرے دوستوں نے بطوریاں ان کی رہائش کی تھی کسی نے حیرانی ہوئی کہ بڑی بڑی دوکانوں ریال گلوکاروں کی سی رملرہون کو کسی تھے۔ اس کی مالی میں کر لوں سے کسی کی ان کی تو نے پرانی ہندستان فلموں کی رلوں کے کسری کئے گئے۔ یوتھے بر ی طلا که در کل داستان ولوں کی ہے سو بائع ملیر نوں کے علاوہ یکے اوراسگی بیزار درایوں معلوٹ کی رگوں کے کسی بھی اگر مر گئے ہیں میں لو تواناکانی گلوکاروں نے اس آوارنیکا ہے۔ میں سے اور محسوس کم کرلوں کے دائیں میں میرے وطی کی آواری گوری رہی مانگے ہاروع ہوکر میں نے ماہرہ کو دور تھوڑا اور راستے میں مقبول روی کے ریزے انھیں ساتھ نے کریمی راستے سے لے ریل سالٹنگ می واتارا رویہ کا دورکے پاره کار ہے اور وہ مری آمد کے تر تھے۔ ir په به ای مرمور ملتوی کے مد برلین صاحب اوریا تیرتعمال سے بھی لاہورمیں میری بات پرانی ماں کی رات سے ا ح اردو ادب میں دونوں ہی ہے و اعتبار سے کریں گی رام ڈاکووریر مانے بھی ایسے امی میں * متوالوں کا ایسا بیان کی کہانی اور سویں سال میں دوران کال پوری تار سے اقلیتی را بيان من ای کی روش عالی ساری اور سرکاری دست داری ہو نی کیا ہے تاکہ محبت ملی من جاری رہ سکے۔ رسوں کا ساگ اورمکئی کی رود عدادات قاسم اسے بھارت کے کرس گورودی قوت کے سارے دو دہے کے کئی دنوں سے اهریاری شروعات میں اس درگیر اتناک ترین کھانا کھانے کا موقع ہی میں لا تھا نکلے گا کرتے ہوئے کہا تھا کہ تایر پارا کیا اس کو اتھا ہیں کتا اسی لیے تو رورہی باہر سے کھا کر تے ہو ا ح انھوں نے حالص بیانی کی ایسی سرسوں کا ساگ اورکئی کی روٹ تیار کرایاتھا اور کھانے کے لیے وہ میری تعلق کی بات تویہ ہے کہ کھانے کی گیانت کے بھی ہیں منی میں تحریر کا گھر اور بہت ہی پیارے مایاگی سالم مانی کی امری عاموش محوری تھی اور میں کھانے کی عمر برتری کے سا ہوا تھا۔ کھا) وافقی باید دید تا اور کھانے کے لدی ہلاک اور وائی پر تھا اور کیا استری نے اسے ہاتھوں سے تارکیا تیاری سے اس کی ہماری بات پی کا موضوع بالکل گم دوئم کاتھا میں نے یوم رایت مس کہ اسے عدمرور ہیں اور گ کے کام کار کے لیے نوکروں پرحم ہیں، لوگر بیامک ٹی بی علاجائے تو اس کو ری بنی ہوئی ہوگی ماں خواتین کے چہرے پر ہٹ رہتی ہے اس تنت کی ٹیمتی اور انھوں نے کہانی کا ایک نوکر کے پہلے سائے سے ظاہر ہے کہ برتن ہوتی ہے کی نوکر می انسان ہیں ان کی می دمی مور ماں ہوسکتی ہیں ان حالات میں لے گی کا کام کاج رکھنے کا موقع ہے بہت سے گھریلو کام سے ملتوی کرنے میں روٹی کا احساس بھی ہوتا ہے عورت کو گھر کے کام میں ہار حاصل ہونی چاہیے۔ یہ اس کی ردگی است و کم ہے ماسا سے تری مٹی کا ایک بیايېتا JA ادب کی ایک بڑی تعداراں کی لائبریری میں موتورہ اکھوں ے تھے اسی کتامیں اور معاصر کاتاره تنها روایت کیا تھے وہ دور رہیں۔ اديثخوشحالهوره هنی پاکستان میں ریادہ تر ادیبوں اور شاعروں کو میں نے صورتحال دیکھا اس کے مقاس میں کھائی ادیب ر بارہ کس حال میں ہیں ۔ میرے دہی میں یہ سوال کیاریدا ہوا تھا اور دربار اخت تاگی سے میں نے پوچھ ہی لیا کہ اس سوشحالی کی وہ کیا ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے تمام اریب اور تاوتراتے ہوش حال ہیں ہی نہیں ان میں سے اکثر مہر مدگی گذار رہے ہیں کافی بڑی تعدارم یہاں کے ادیب کا طوں اور دیگر تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں اور بہت سے لوگ موٹے موٹے اداروں میں ملازم ہیں۔ ان لوگوں کی تھیا میں بھی معقول ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے میترادی کسی کی اسمارٹ لسٹ ارسلانے وغیرہ سے دانت ہیں یعص متین امارات میں باقاعد بارگاہیں اور اس طرح انھیں اندران سے واسب اندں ہوتا ہے پاکستان کے مستی تاروں کونرمالک صوارب ممالک اور براہ وغیرہ میں منعقد ہونے واے ماعروں میں شرکت کا موقع ملارنتهاه اوراسے ملکی مشاعرے ان کی آمدوں میں ساطتواه اصار کرتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ لاہور میں اسے اوموں اور تاروں کی تعدار کافی بڑی ہے کے اس کی گالیاں ہیں سرکاری ادیوں کے معه میں ان کا معیار زندگی بھی ہے۔ کے دوستی کا احساس ہواکہ ادیوس سال ہورہے ہی مشهوراما نگار را دیگر سری سے انکاری ہے لوحاتقانہ سے ملی ردگی میں حاصل ہونے میں کام لیست تمامارہ بین السادس علیٹ کر اناتومید کیا ہے اور یا بہت ہی کم کر دیا ہے میرے اس سوال کے عوام میا عورت اس های ارسالی سیٹ کو کی تر کار کرنے کے دور میں برادر ملیتی ہیں کر سکتا میلے وقتوں کی ات اور اس کہ مجھے علی امین کا مانی اور دولت میسر ہوتی ہے تو میں مستقل کے لیے را کی کا سامان پیدا کرلوں اور تعین کرنے کے لیے سایری مریدی ہے میری آج کے دور میں جاری کے لیےخوش بحال ہوا لارہی ہے تاکہ اس سے تخلیقی ادب کی امید رکھی جا سکے۔ ۱۳۴ کہانی کار کو رونے سے لے کر آترتک دین حاصل ہوتا ہے۔ کہانی کاری کہانی لکھتا ہے تواس کے ہیں میں کردار احساس می کنم لیتا ہے یہی اماس ایک کامیار کہانی یاڈرامے کی بات ہوتا ہے کبیری ملاتا ہے تب تک پروڈیوسر ڈائرکٹر کہانی کارادری کے دیگر دارا کیریں را مرتحال میں قائم رہتا ہے ٹیم کا اگر مرد محبت کرتا ہے کہ ہا تنگی اور ایمان داری سے کام کرتا ہے ۔ بھارت میں تو اسے دور درت کی طرف سے تیار کئے جاتے ہیں، عام طور پر دیاگیا ہے کہ ان کا میروژلو سروری ڈائرکٹ، کہانی کار سکرس لے اور ڈائیلاگ انٹر ہوتاہے اس کا اس پر تورکی کردار کی وہ نوری ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے میں اس کی برکت کا معیارکیا ہوگا ، اس کا اداره کولی لگایاجاسکا ہے ہارے ہر عدالتوں میں تویڈیو سٹار کیر کوار یا کہانی کے منی میلروں کی راکھی واقفیت نہیں ہونی بھی دیکھے میں آتا ہے کہ ہر بار استرس کار لوگوں کو ڈرام پروڈیوس کرنے کی اجازت دے دی سانی ہے۔ آنی اسامیوں کی موجودگی میں اگائیے اور معیاری ڑلے کی امد ہی میں کی جاسکتی۔ ایک عام بات یہ بھی ہے کہ اکماں ٹی وی کے لیے تیار کے علے وائے ڈرانے اور سیریل موبایل و تیں پروڈیوسرڈائرکٹری مار کرتے ہیں ۔ ہمارے ہاں قومی پروگرام کے نتیوں کے سائے والے تمام ڈرانے اورسیلی ماہر کے لوگ تیار کرتے ہیں پاکستان میں ٹیلی ویریں مردکھاے ھاے وائے ہائی پروگرام کیتی پروڈیوسر کے پاس ہوتے ہیں وہ متعلق تھے اور موضوع میکی مہارت رکھتے ہیں مثال کے طور پرایکادی بیروراتیں کرنے وان ژ ژیر رادیے تھے مر متعلق معاناه فتاہے۔ اسلام انی سیکسی مومور ربر گرامیش کارا پروڈیوسر کو اس موضوع پر عبور حاصل ہوتاہے اتر سالوں میں ہمارے ہاں حالات اس کے نیں میں مجھے یاد ہے کہ حال مرور وت پر اردو کاری پروگرام کاروان ایک مرته ای ای پیلور امیر اسے اردور ماں کہیں ان بھی اسی طرح کی اور بھی بہت سی متالیں مومو دیا۔ ان حالات میں ہم دوروں سے ہرا دریداری پروگراموں کی کلا کہا امید کر سکتے ہیں۔ مادیت کا ہی طول للتم ہوا تو اداری قاھی ھے اسے مطالعے کے کی راٹڈی روم میں لے گئے ان کی نامدار ای لائبریری دیکھ کرلیں خوش ہوئی تلیر بالوں میں سری اور تری وقت کامعا وصرنا ہے۔ میں نے تایاکہ بھارت میں دور ریش سرمعاویے کی ادائیگی کا اس کو منم میں ہے کیا ہم نے اس کتاب لگا تو اس تے رہے کہ پاکستانی ٹی وی پروگرام میں کیسے برتر کاکو ژور درس کے مقابلے میں کافی زیادہ معاومتیں کرتا ہے میرا رول رادها ہوا ہے اس کا احساس پاکستانی وی والوں کو ہے ، ژورررت والوں کو ہیں پاکستان ٹیلی ویرں ایسے ڈراموں اور طویل سری کے لیے کافی مشہور ہے ۔ان ڈراموں اور سر کی بدولت یہ مرد پاکستانی فلموں کا کاروباری ہوگیا بلکہ ہم سے علی اداکاری فلموں کو کی ٹکر ٹی وی ڈراموں محقہ پینے لگیں اس کے علاوہ بہت سے درگا وں نے ٹی وی کے در نعیمہ نام کمایا ہے اور دولت بھی دور درس کے مقابلے میں پاکستان - دی اے فنکاروں کو کافی بہتر معاوضہ ادارہا ہے۔ ایک راہ تھا حاکماں ٹیلی ویں بر ہے میں دود ویرات کولمیرکیایان تقی الکرنے سے عالموں کی طویل ڈراموں نے لے لی ہے اور فلمیں دکھانے کا سدید کایا کا وہاں ڈراممو با لمس مٹی کا ہوتا ہے اور میرٹ کی ایک تھی اسے ہی وقت کی ہوتی ہے پاکستان ٹی وی کے ڈرامے پاکستانی وی مدعا و معیاری ڈرا کس طرح شکر اہے دامدارہ ھے تواسب عطاران قاسمی سے ڈرانے کی تیاری سے لے کر اس کی ائی کے اس کی عملتان العوں سے مارپروڈیوسر کو میراجیکٹ ھیلتا ہے توسوی نے کہانی کا استیاس کیا جاتا ہے اور میر مانیکا سے اس کے مختل بیلووں پر بات چیت ہوتی ہے کہ ان کا انتخاب ہوجانے کے بعداس کا اگریں پے تیار کیاہتا ہے اور میرزائیلاگ لکھوائے جاتے ہیں یہ طے ہوجانے کے بعد یہ کاروں کا اگاتاہے ! تاعدہ رہی ہوتی ہے اور اس کی ایک پائیلٹ قسط تیار کی تالے پاکستان کے حتی ریاستوں کے ڈاکیڈر راورید دیگر باہری کے علاوہ سرکاری الکیں ایک کمیٹی اسے دیکھتی ہے اوراگر مقترل پاس ہوجاتی ہے تو میری کی اقتاند تسلیں اس کی امارت دے دی مالئے ادھی رات کو اس میں باقاعدہ دیکھے ہیں ہریراسیٹا کی ترمیم درک تاریں تو اور عطاء الحق قاسمی کے لی، تو رام گو کے رہے سے کم ہونے والوں میں مسا علاوه اسدی های اکوسلم اور عام القوی نے جوتا دشمن کی توجیوں سے سادہ لطول در ہورہے تھے ۔ ماتمیت کا پورا ہوگیا تو عطاالت واسی سے اٹرول کااعلان کرتے ہوئے سب کو میانے کے لیے دو کیا با ترخصی نا کوئی معطاهالی لاہوری کے لوارمات اٹھانے کے اور ہری کو بڑے پیار سے کہرے کے دکھی، پی کھاوسس ایکا مرا تویوا اور کون ال کے پیار برانکار کرنے کی ہمت کر لیتا تو وہ لاتقل ہوکر ونگوں پر اتر آتے ایام کا اداری سوودی لگا لیے جانے کا دور ختم ہوا تو مشاعرے میں بدل گئی ساید سے اور مقبول وہوی کے علاوہ یہاں موجود ادبی تارھی تھا اس لیے ان کا موس مورت کلام سے کا موقع بھی مل گیا شعرد ساری کے دور کے بعد آج کی باقاعد چاہیے احشام کوي انت لاتے ہوے اوربع گیر ہے ہوئے دوست ایک ایک کر کے چلے گئے گھرمیں گھر کے اک عطاءالحق قاسمی کے علا ومیں، مسول لوی اور ڈاکٹر سلیم استرہ گئے مشهور نقاد ڈاکٹرسلم (حتر الکرسی اور اردو کے مشہور لقادمحقق ادم ہونے کے علاوہ اہمیات کی ہیں اور مسی لمسات کے موضوع سراں کی کئی کتامیں شائع ہو گی میں میرے قلم کا موضوع کی ہے اس نے دونوں اس موضوع میں اس میں مفرور ہوگئے اس دوران عطا والی تمامی سے علویوں کا سوع ان کردیا اس وقت کیوں کے لیے سرل یا سیاسی اور دیکھا اماراتھا ہی میری عطا الحق قاسمی کا لکھا ہوا اسے ہات دل میں سے رکھا پروگرام ختم ہواتوم پیکاں کے ۔ وی پروگراموں کے بارے میں میں کے لئے در بات کرے میری طای تاسیے تھے تا کہ پاکسماں میں تو سارا در تل کا میناروں اورادنی پروگراموں میں حقہ پیتے ہی انھیں فی من کے سائے معاودے دیاجاتاہے ۔ مال کے طور پر ایک سات مامتار میں موت کے دانے کواسے نٹوں کے کو معاوضہ دیاجاتاہے سے مٹ اس سے ایول، بطری اتمیریوں کی کمی کومعا بار بار پانی اس پروگرام کال دریا اسے کوئی بات کی اور احمد مقامی سے کیوں میرے دل میں دونوں کی دو ھیت کے مداحترام ہے اس کتاسی مادے سوری بات کی تھی تو میرے لامک یوتھ لیاکہ آپ دونوں ایک دوسرے حاکموں میں قاسمی صاحبر اماکہ کرساموش ہوگئے کرجینال تین دنوں میں بھی اک معموں ڈاکٹور مع عاکول ہیں اور اب وہیں سے بڑھ کر طویل بیگی نے کہاکہ اس طرح کی ادنی مادران سے ادیب اور ادب دونوں ہی کو نقصان ہو سکتا ہے ارب میں تیری کام ہیں ہوا اون نقل اسے اس طرح کی گروہ سدی ادی رفتار ماترایدار ہو سکتی ہے۔ ویروویرا اس سے تل که با سیاست کوئی توار نے ایک ایسے مری ماں ٹوکتے ہوئے کہا کہ اول کارگرم ربیتو رک رہتی ہے ور ترکی دل دیوانے کا ایسر ہے۔ اس ایست فقرے پر نہیں دیے اور اس کے سائنسی موضوع کی بدل گیا عالمی بيحان کانفرنس کا دک اسی دوراں سی روی اور گراں ماستری نے اسے سرسری سے کئی بار ملاقات اور اتحیت ہوتی تھی فریاں ماری میری پہلی ملاقات تھی مجھے منایاگیا کہ فرارضاعتي لاہور میں عالمی پیمان کا العرمحمد کرنے والے ہیں ان کارگر ہے بھارت میں تماما ماہ سے روانگی کے وقت سے دوست کی ادی عمان بیرکار ڈاکیان اکراہی اور بہت سے دوسری مانتکاروں نے کی تاکید کی میں لاہور میں فریاں سے ملک مالی میان کانورتر اس میں یہ گروں یمام و کانفرنس میں شرکت کے ہاں میں نے اس کا کرتاخرات کیا تو وہ بہت ہوش ہے اوراگوں سے وعدہ کیاکہ کا دوری کی قلی تاریک سے ہوتے ہی وہ نے مطلع گیا اور ان تمام تر کاروں کو ترکت کے لیے یو اے ارسال کریں گے مور کارکے تبدیلوں پروں سے متصل سے بات چیت بھی کی اس سر میں بھارتیمات پر بھی پورے یمانی ادب اور پاکستان کے بانی ادب کے متلمسائل بر می پاکستان کے نو تواں تارمالاد بہت دل پساسان میں معنی میں ان اپس گگو مون۔ وہ ایمان را می یاد وزمان مورد قبول و وی می امد را پیمور تان قوی اور بات کے دور سے ہوتا تو سامنے لاہورش مے میام کے دوران است شدنی بسیں منعقد کی ایک بڑی تقری میں مسایه انساے پیڑھیگا تا آنے عی یہی روائت ہوئی تو میں نے کہا کہ ادار ہیں، اتنی ہوں گی میں کئی افسانے پڑھ چکا ہوں اور میرے اس سے وہاں کے متعدد رسالوں میں تھین کہتے ہیں اور میں آپ لوگ بیٹھے کبھی ہیں میری بات مان لی گئی اور مسلمانوں میں مشغول ہوگئے۔ احمد ندیم قاسمی سے تفصیلی ملاقات حساب احمد ندیم قاسمی سے اب تک کی ملاقاتیں ہوتی تھیں دکر تعصر سے بات چیت کرنے کا موت ہیں کا تھا ان سے معقل اور ایک کھر نورملاقات کی تو امیر حتی تو آج پوری ہوگئی احدتای اردو ادرک الکستوں میں اور رہے تھے میں ان کی ایک الگ نہیں ہے لطوراهام لگا دیاں کے طاقتورتم کا عام طور سے مداح ہوں میں تو بھی افسانہ نگار ہوں اس نے قدرتی طور بیارا کے موصور مران سے بارہ میں ہوئیں۔ دورار گفتگو تامی مادے کہ دریا - آپ برسوں دی کھرڈ اکٹور پر آعا کے ساتھ ہے یا میںے ہیں تواب دیتے ہوئے کہاکہ لگاتار بارہ مجھے ایسے میں ہوئی الوردی استمرارا حدی میں گھی ساتھ رہے۔ اور ساتھی میں نے یوتھ لیاکہ سراغ آپ کے دیا تاک ماسکرارہے دراصل یا کسان کی اونی رسما کے دو بٹ مار میں ایک کی قیادت اگر دکتهای کررہے لی اور روس کی ڈاکٹر وزیر آعا ایسے قیام پاکاں کے سلسلے میں سری بہت سے ارسون سے بات چیت ہوئی تھی اور میں اس حقیقت سے کوئی رات ہوچکا تھا کہ دولوں یاد گرم ہیں۔ احادیم تا کسی کے اس رسال: فون ہے اور ڈرائیور مراعاکے اس رساله اوره ای طرح لص جھوٹے مٹے رسالے اور امارات کی دونوں دتقم ہوکر دونوں میادوں پر ڈرے ہو ہیں میری حالت بہت سے قلم کاروں کی ہے وہاں دولوں میں سے کسی کی سم والتے ہیں اوراں دونوں ادی گروہوں پر مسلسل سرهنگ عاری ہے اس موضوع برای وطن سے میں توڈاکٹر ۲۹ جدید وای اگر میں سوچتا ہوں کہ انساں کے منہ کی پتھری کو ہوا میں اسے موتی اور ہے کہ کارگری میں ہواہش پوری ہوجائے توعورت کا احساسم دیتا ہے جواس نوری ہو توایک کی پیدا ہونہ یوشی، غم دوراں کا احساس ہی تمام انسانی زندگی کا سب سے بڑاناته مارادوکے مدیرقائم نقوی باتوں کا سلسداری اتقاکتام سیارے کے قریاست قائم نقوی ترسے اسے طارق تاکی ہے یہ دست داری تمام اقوی پیرڈالیتی کہ وہ کھے تخلیق کے دوری کر کے اس ہاں میرے اسرار میں انھوں نے ایک تقریر مقد کر رکھی تھی۔ مدینے میم اطہ جا ویدرال اور اور عام لوگوں سے بڑی محنت سے رخصت کیا اور میں عطاالحق قاسمی کے گھر کی طرف رواں ہوگی مشمول روی اور ام القری میرے اترتے۔ قائم مقوی باہامی ما و نور کے مدیر ہیں یہ ایک نہایت خوبصورت اورادنی سالم خوبیات سرکار کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے قائم نقوی میرے لیے اولو کے موی تارسے ایسے ساتھ لائے تو انھوں نے بڑی محنت کے ساته لطورحمتیں کی گاڑی میں ان سے ماتيب کیے کا موقع کی طا معمولی دہلوی نے تمام کو قائم مقوی مہتا نے ایسا لگارکھی ہیں اوروواں سال کے ماسه قلمکاروں کی پہلی میں ان کا سارہ رہا ہے۔ دعوت عطاءالحق قاسمی کی رهائگادیر عطاء الحق قاسمی کی بارگاه علاماقالاؤں میں ہے۔ اس کالونی میں لاہور کے مہتے روس اریب،شاعراوردیانی بھی رات دیر میں میرا قصوریر پہیے کے معلم ہواکہ عطاء الحق قاسمی نے اس کی اس ادبی تقریب میں بے شمارارحیتوں کو مدعو کر رکیاہے تم میں سے مشتملات تشریف لاچکے تو اس تقریب کی صدارت جناب احمدیم تا میمے کی بحالی کے شہر ارشاد فرماں اورتاصوی گیتار سے تری لائے میراں عطاءالحق قاسمی کے ۱۲۸ ط کا ذکر کرتی رہی وہ بھی تھا۔ میں ماموں سے جانے جاتے ہیں ان علاقوں سے اس کے گورے کتاب های مترو در سایر نوائے وقت سے اور امت کے اداروںمیں تارہوتاه دل کی تھی اسی استارت کافی زیادہ ہے اب انار کے دھات کی بلڈنگ اورتیری ان سے میں اداری اعتیار ہوتی ہے۔ پاتایا دریائے دونے لگے تو بیان کی ہا رے سا قہویے اردو برادری کی باتوں سے انھوں نے ہماری ملاقات کرائی اور پھر سردار موم کے دفترمیں ایک بارگیرانیان الطململ کیا ورثانی وہیں رہ گئے اور ہے لیقہ سے دوری او رواہ ہو گئے۔ یہاں ملی تنگی اور وہاڑی نے ایک نشست کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ماهامة ادب لطیف کے دور میں میں یہ بھی لکھ چکا ہوں کہ امام تعلق اور ماہام ادب لطبعة دونوں رسالے دی سائے ہوتے ہیں اور دونوں کی دیر تولید علم ہیں۔ اطہراویدی طوردراں دولور ییل سے راستے ہیں جس دفتر میں داس ہوے توستی گیم، اطې او بیاوراں کے اسٹاف کے علا و کی دوستھراتی وہاں موتور ان میں معانی، قلمکار اور دوست احالت است سے موبایں ہمیں لگ نگو ہی میں ہوگیت کئی دنوں سے پاکستان میں روسوںسے ہوتی رہی تھیں۔ قالی درمان رفتی کمتری بیگم اور اطہ داریدے نے یا محتوں سے مجھے وارا نقاد حد سے زیادہ عزت اور اقوام عطا کیا تھا اسی شعر میں ایک لڑکی عراری وقتی توتادیک تعلقاتماته پیار میں اماراتی ھے وہ بہت پیاری بھی اسیی لری اس کی باتوں میں پیار، سلیقه اورتوئی سمی کیرتھا میرے لیے ترکی سے بڑی وہ اس کی ہے انگھگوا دارستان مریم معماری سے بالکل لاتا تھا رازکام یاکمال ہی میں ہوا مالک اس کے سامان تخت بیما۔ سکتا اسے علم ہواڑ میں اس سے ماہوں تواس کی دوستی کی انتہا ہیں رہی تھی ایسے مر گوده اسی باتوں کے سہارے وارڈ اس کی امی کلیر ہی اسلام کے لئے اور کئی دوسرے علا قورت کا کوئی نہ کوئی تعقی رہا ہوگا یارب اورسیاه بلورسے لرهار آتے اوراسته گورکھے کی اس کی JP الرادور ہوئے ملتانی صاحب کی رکاب) کے رہنے والے ہیں وہ ماضی کیاروں میں کو ایسے امی کی باتیں کرتے رہے، ایسے گھر پریوار کی باتیں کرتے رہے، انھوں نے بتایا کی کل قیم الیگوٹھاری رہا۔ اس کے لعددہ ہیں امور کے چیف ایڈٹ کے کے لیے گئے اوراں سے میں نے کوئی ردعمل ظاہر ہیں کیا اور دل ہی دل میں سو پاکستاهای ہے الگ بھگ ایک ہی ایسے ہوتے ہیں۔ میں وہاں زیادہ دیر ہیرا اور ادب کی ڈبیا کے دوستوں سے ملنے کے لیے روانه ہوگیا۔ رواية أمروری کے لیے انٹرویو اور وڈیرواق مقبول دہلوی کے دورے میں سائے کرست ہے میں رنگما ياجمان شہواری حامی اور ادارے میں ہیرامت کہیں گئے ہونے کے اوراں سے طاقات ہیں کی حالتقاریر کے دور گئے تو وہ یہیں ہے۔ اس سے گریستترلوں دوماس دعا سلامتی طاوار ہوتی ماتاعاقات نہیں ہوئی تھی۔ وہ اردو کے ایک تارادی ہیں اوکلاهی اے کی دنیا کا بہت بڑانامہ میں علامتی اور تجریدی افسانے نہیں لکھتا اس کاسائی بھی نہیں ہوں لیکن اس سے اوبود تھا میں ایسے طے کی تدی روت معنادار سیارے علاوہ وہ اک یاورید مبارک مہینے میں تار تیار اوریا میں تعلقات بریکہ کے اعت) درام امور کے دریں وقت سے کیسے کی جا نیستانی دائرے میں ہیں نے اس ملاقات ہوئی، رہی باتیں ہوئیں اور راستے سے مدارکا اور کوکی اور کیا کیا داد اتار کر گئے کی ماری میں ہی رہ گئے اور کیے معنی دوسرے ممالک میں رات دیر ہوگئے استقتا درد وہ آج بھی کر رہے تھے۔ رہی باتوں کے بعد ويدعمان تھے انٹرویو کے لئے اکماں مر ہی تم سے لے کر کمک میری رنگ کی کی کہانی اصول نے تل سوالات کے درینفرد کردی بیلدینگنگ ران، ادب اوریات کے موویاب برای دل جیب باتیں ہوم مرا مرور کا دفتر تھی رکھا اسی ادارے سے ایک انگریری اور میتھی سائے ہو ا ہے۔ مرور ست اما از دور و با مان حمص او حق اس ہمارے بیلے بیٹے نے ماما کی راہ میں رستے ریارہ بھی وال ترین کامیڈی گڑھ کے مارے میرہاتھااستہ کودیکھے گی ان کی جاتی تھی میں نے کہا کہ اس کی باری بھی اس بھاری ترمائیں تو ایسے پروگرام میں جیڈی کا دور بھی شامل کرلیں۔ اوراگر حالات ما ربط ہوں توماری میعار کی تشریف لائیں۔ وہاں ایکامیرتناک سواگت ہوگا انھوں سے دور رہ کر کیا بیوی لاہور کے بارے میں میں نے انھیں مردتایا کہ ایک ہایور موت اور ماتم سرد ہے۔ اس تہ گوریے کے بعد اس کو پاکستان کی راندمان اسلام کار ہونے کاگماں ہوگا میدید میں ایک بہاتی تور مورت روراروں ہے جہاں گلالی، شرح، سید دوری همراه اورسے تارگوں کے گلاب میں تادریا میں دی تم اینگلوں کا واحد مانع ہے۔ ایام میں ایک اور مور مصنوعی کھیل ہے اور میں عالمی شہریانی کا بارع بی رای گارڈوں کی ہے۔ اس کی متر تعمیری جدائی ایک ہی دینے کی ہے۔ اس کمیٹی مرے گردوں کے پیٹ کے کیڑوں، رنگ رینگتتے کیوں اور ایسی بہت سی دالتون کے پیروں کا استعمال کیا گیا ہے اس میں میاں کی زندگی کی کل تھمایاں ہے اکساناييكاب کی صوبائی اسمبلی باتوں باتوں میں ہوا پسلی کیاری سے ایسے ہی کے کتے نے دیکھ کر حیرانی ہوئی ریور عمارا میں واقع ہے اور اس میں رد و منم توروم، دواتر وئیر کی اوری اور مقامیری تمام ڈگیں سامداراری نے عدلیہ ہوئی ہوں گی ۔ اگریر کے رائے میں بھی میا ملی کوی الگ تی تر میں آبادی کی ٹرائی پورے ہندوستاموں کے علایانگر مرکل تم کی کہاسوں عملیاتھا اور اسی میں ہر اعظم سردار یک سنگھ میس مورا ڈر کی ولوریریاں ای میں سے ای نگرکے ہوش میں وہ زور دیا تو میں اسکی اس دورکی کہا ساری ہیں اوران میں سے سے تیار کہانیوں سے منسلر یا اسملی کی رات میری آنکھوں کے سایے گی۔ پاکستانی و باقی کونسل کے لیے ایک کر کے الکشی کے سلسلے میں صوبائی اسمبلی کے اندر اور ارے بھائیوں کار بر رستماع تھا۔ ایک معانی نے بتایا کہ یہاں کی سیاسی تور جھوٹ سارا اور تر مدووومت ہوتی ہے۔ مریها من کرنے کے لئے طرح کے سیاسی حربے استعمال ہوتے ہیں ۱۲۵ محمود تریں دی کی طرح دھانی ایک ہی نہیں رورہے ہیں دونوں کی پسلیاں علییا علی ہیں و توری کیس کو کر دوستوں کو دور کے اور کئی دوستوں کے ہوں اسے عطالل تاگی ان تمام ایسے گرایادیفت کا اہتمام کیاتھا اور لطمہ کے مدیر اطہریار کا دوں تاکہ الوں نے کی ایک اوتت الدرویردی ایسے دور میں منعقد کرنے کا عمل کیا ہے میں نے ال در تالار تام عطاکی تاکی کی ایسی یانگ تغرقد کررہے ہیں تو انھوں نے متلقیم نام سے مشورہ کرنے کے بعد کہاک د دوی تشک کا وقت رکھ لیتے ہیں وہاں سے لدے آپ عطا کے ہال یا سائیں۔ ایک اور مقوی اسم روی کاموں سے آگاہ کیا کرورای امور کے مارویدستای مادے کے قتل اردوی اسے دفتر میں مدعو کیا ہے میں مقبول وہوی سے کہا کہ ناروے کا وقت رکھ لیتے ہیں کیوی اسے ترسے ہے مجھے تیری تیل کے ساتمریکا صوبائی ملی - اتھاہاں ایکٹر Senator کالکیت ہونے والاعما اس کے لعدحار مدادتر اور ہوادار نگاریاں انفارمیں کوٹے کا پروگرام مانیتور لگو مہدیس سے بھی ملا تھا۔ میں ساری کا کام کیا تھا اک دلوں مہدی سنی ردوں کی نگ کی کیسٹی علیر ان کی عمر میں شامل تمام عورتیں کرتی ادیب کی لکھی ہوئی تھیں۔ ان سے ہے وہ کیسیٹ بھی حاصلکرنی گی اور کیا تو تیراک مهدیان دلوں کا پوری نہیں ہیں۔ ان کے ہاں میں سے ایسابیرام اور ورکر تھوڑی اس لیے کہ اگر لاہور میں سے قیام کے دوران وہ لوٹائیں نورالط قائم ہو سکے ساڑھے دس کے دین کے ہمراہ میں بیمار اسمالی رواس ہوا راستے میں تین بھارتی میاب کی برای سلی کے مارے دیکھتی رہین میرے تایا میڈی گڑھ میں واق ہے تو میا کے علاوہ کرام کی طرح دھان کی ہے اور دونوں صوبوں کے اسیر ہوتے ہیں انھوں نے پوچھاکہ اسلامی کی ٹانگیں اگر ایک ہی ہوں بی اعلاس کیسے ہوتے ہیں۔ میں نے بتایا کہ دونوں مولوں کرجیڈی گڑھ * ۲۴ بول دیا ہے ایک بیان بروگرامید دکھایاجاتا ہے کے دلداری بھی کرتے ماہیت اتری اور چھوٹے چھوٹے لطیوں سے امریں واطرس کو ہر لوہے اور میزورٹوریٹ کا ماحول کو بھی بے حد سکور تھا۔ اسی سال کی دیواروں کے رنگوں اگر تو میراں ساب در کا راہ تصویروں ، زبیر اور اسکول میں ٹر ہیلتها است ہمارے علاوہ مردتم بیارسوڑے اور کے نوادرادرال میں موتور تے ہوئے توتماید متلی ویرانی کا سا احساس پیدا ہوجاتالکس بهاری موتوری حصواعطا الحق قاسمی اور دلدارویر ان کی موتوری نے اس احساس کو دیتا ہوں میں سمیٹ کرائول کو گرفتارماقا تیں ہوں ان میں سے لکھی ہو سکاٹیں اور تیسے ہوں، تو اتوں کا مرہی اور ہوتا ہے اور اولا پھر لورلی آج کے حاصل ہوا تھا سیٹوریٹ سے لگے توامع اسلام امجد اور دلدار یروبرقی دی اسی راہ ہویے - عطاء الحی امی سے میں گرنے کے لیے مانیٹر کرنے کا کھوت ھراں رسوارکھا اورآح نکا۔ کرم دولوں لاہور کی سڑکوں پر گرتے رہے۔ اس گورے کا مدار دراعاتها وومنے لاہور کے میری اور پاکستانی ہوٹلوں ولیورسیٹوں کی سیرکراتے رہے یہاں کا سوره مربیان ہو اسے یہاں کی الش کرم کاسواری و غیره و رو رتنانے کی خبروں کی ترد کے مہاسے ہوتی ہوں میرے استواں نگہوں کا حامی تھے انہیں سینیار ہے تو خان نامی کت موت دوستی اور اس کے قہقہے ہم نے تورات کے دس ع رہے کے متری سی کے پرمیری ترام نہیں کی کھی کھات کی گیانت متی ہی کہاں ترکی کی سرکاری کالم کے سلسلے میں لاہور سے ماہرسر پر بہت اور تیاری کررہی تھیں۔ دن بھر کی لگتا نمونیا اور روڑ دھوکےاع میں بھی کافی تھک گیا تھا اس لیے آج رات اور رباره دبیرک محرمانے کی بہت ہی تھی۔ المیہ ہے میں سات ہو یا وہم میں میرے اتنے تو مجھے کوئی اعتراض یہ ہوتاکوں روطا الحق قاسمی کا ساتھ کی لیالی یا میاں عامر میں ہی پاکستاں یاکسی دوسرے اس کمی کو تحمست کمار کے روی ما نی سے توڈوررت ولے کھیں اسے اسٹوڈیو میں اگر مرد ایرولوکرتے ہیں کہ امیری واقعیت کے ملا تقال کی خدمات میں معاوچھی باتیں کرتے ہی آل اسٹار بڑھوکی تھی کہ کہ کی ستاندار تقریب میں ایسے شمار موضوعات پر بہت بول کر انہیں ہوں اور دونوں رسیوں سے تعلق تاراتوں کی واقعیت مادر بھی ہوا اس لحاظ سے ھی یہ لقرب مرے لے مہتا۔ عطاءالحق قاسمی کی محنت شام ایک تقریر تم ہو تو عطا ارتقائی نے دوستوں اور ناموں کے گریے سے لگا کر کھیر ادارے اپنے سالے پہلے کہ جیسے ان کا ارادہ تھے اوارے کا ہو۔ میں نے یوتھا کہ ہاں ہارسے ہو کی ٹیم کی نہیں ہیں بریانی کھاؤ ، اورکیان کی اور میں سیاست کرنے سے ہی ہوتا بندی محوں کندہاری گاڑی ایک شاندار عمارت کے سایہ ملک ہمارا ساتھی تو دوسری گاڑی بھی اس میں محمد اسلام امجد اور دیدار مئی کے اور گاڑی سے اتر کرده می بارساتے ہوئے یہ عمارت دو اٹا کے دوزی نفیسر کے پی بی انڈر گراؤنڈ سیروه (SAzoo)ریٹوریٹھا ہے پیاروں میں طد کے گیٹ سے ہوتے ہے بی اسٹوریٹر امل ہوئے امی اگی ہم انگیزتک دھوت کا مرہ کے کرائے تھے میں ہے حوالہ نگاہوں سے ان کی طرف دیگر مٹی پریکوں سے کچھ دیر بیٹھ کر باتیں کہہ سکے گملوں میں کیسے کورس میں ایک ریاست ایک اس کے اور اسی امید اور کیسے باتیں کرنے کی روایت امی میرد موی تای اورامید سے کئی ارملات میں اور بائیں ہوچکی تھیں نیکی دلدار نیست های سیلی ملاقات کی باگھیرے دلدار پرویر کے بارے میں کافی تعمیل کے لیے تا که ی ما حال دلو دہی کی ان میں بیرونی ، شاعر ہیں اور پاکستان ٹی وی کے متولی ترس سر کار میں تایمر میلے ۱۲۲ کدورت کے اعلی تمام کے تمام احمد اس کے کسی بروکیٹ کو اس کے باربار وہ ایران کے اوپر این طوری نہیں دی کیوں کہ وہ سوت میں تھا کیا تم تروا کرے کوئی نہیں تھے۔ اسی ترین عمارت استاروں میں بھی سائع ہوئی تھی یہی سوال اس کی تقریب میں بھی گھر سے کیاگیا کہانی که یکی دوڑا کے لیے ڈرے اور دیگر بروام میں کرتے ہیں کیا واقعی دورتر والرسوت کےکسی پراجیکٹ کو طوری اہم ریتے ؟ میں نے کہاکہ دور دور سے درش ھریرے ڈرامے دکھائے ایسے ہی سیکس مانک رسالت کوئی ایسا واقعبیر نہیں کیا میں نے مایا میں کوئی پیرنیر ڈرامہ نگار مارا نہیں ہوں دل لکھ انصر مرسوقہے سنتے کی مس ڈراے کے ایک اور تصویر دکھائے گئے ہیں یاس گھر سے باشت پر کھوائے گئے ہیں یہاں کی مڈی ہاوس، رنی کی بات ہے ، ان کے ای میں میری کون انکاری نہیں ہے کیوں کر وہاں جانے کی ابھی یک ھے صرورت ہی محسوس نہیں ہون- یہی سوال مرے یاکماں ٹی وی کے پروگراموں کے بارے میں بھی پوچھا تو کہا گیا کچھ بڑے ماموں کو چھوڑ کرسیاری کے شعر تو یہاں کی گاری ہیں میانی میں لوگوں کی ہے اور رسوح واے وه ریاره فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسرے لوگ قطار میں کھوٹے سیاستگارکرتے رہ جاتے ہیں پاکستان ٹیلی میں ہو اور درست اور یا کوٹھی سو ہوا سمارت اور رشوت ہماری کارکردگی بیا تا دار ہورہی ہے۔ دل در گر رہے ہمارے کام کے معمار کی وجہ بھی سامت کیا ہے پاکستانی ٹی وی کے اسٹوڈیو میں عدلیہ کاسکت پاکستانی ٹی وی اور دور وتر کے بارے میں بعد میں اسلام امید و یا انتقامی اور دوسرے لوگوں سے مرتسر میں آئیں ہمیں ہر کھا کریں بعد میں کر دیا اس سلسلے میں ایک ات امی کردوں کہ پاکستان وی کے اسٹوڈیور می کسی بھی نیکی کو جانے کی امارت نہیں ہے اگر میں کی کی امریکی کوا ٹرو یوکرنا ہوتا ہے یا اسے ہی کئی پروگرام میں قائل کرنا ہی ہے تو اسے پرگراموں کی ریکارڈنگ باری کی ساقی سے پاکستان میں مقام کے دوراں سہ کی ارینترمات کواور کے ریکارڈ کی گئی لیکن پاکستانی ٹیلی ویروں کے اسٹوڈیو دیکھے اوروں کے کام کا کامتا پر کیسے کی میری رو پوری نہیں ہونیکی اس کے کسی بھارت میں دور درت کی طرف سے کسی کی ٹینکی کے
۰
بیان میں . . . مه مه به بهره برد و مه مه . . . امسہ میں
نے کی دلی . . . . . . ... به مهد کا حصول
ا ت ا : "
... مکتے
: ت. مت:0 رشا وسامت.اسمی ، ارنون
می پٹری کے تین دن کے ہونے کی پوری کی ۔
و تربیت اور پر مس است. من - نموده
میانه رو ک ی ر ا ا م . تور لے شیری کی تھی
:بیشتره. ومه
مت نه سره واسه
من میرا این مبارک
نمی مونه هایی که نام و میاد ہے سی میں ا ح
ورودی و بودجه به ر نہ ہی میں وہ مری کے میں نہیں کی ہے وہاں
وی دی د دانست میں کہ
کر میش ارگے سے خط
سنا ہو گئی۔ میں صوبہ پر سے کر دیا ۔ مما تی ہے یہ مدت میں سردی
عمارت کی تری است و معمور کوریات سے دور دست مہدی کی سرگرم
منه .. کی کسی نے مجھے گا۔ پاکستان کی قوی، په پکتہ ٹی وی کے پرگراموں میں
را رد مستهل اسے دو عار سمیہ پر دم دیکھے والوں کی کیا ہے پاکستان
وی وی پروگرام ما در کانا سے داد و پاکستانی قوم کے یہ موتے میں اس لیے دونو مشوں
کیا سے کوکول میں مولی میامی
درویش کے پرور ہو کر عمارت کے اداروں اور رسالوں میں کر رہا ہو اتها
در مدارس کی ریلی میں زور و شی کے یہ رات میری کوئی ایسے دوسی پروگرام مانے گی
مری کے یہ ٹی ڈی ملی پروڈیوسرکانی ما را درایے دوسری ارگ رات میں اور
انسان کی ان کیس سے میں شوارم سے اسکول میں میں ہوتاہے اور ریڈی
معانی ہی میں دوری سے ایسے میں ہی رہ گیر پالامور المباروں میں پڑھے
کو مشہور ما تی منہا۔ ادیب اوسمانی حا توامہ اور اس کا وکرما میں بیان کی امانتا
jF ویڈیوگینیٹ پاکستان مراکز دستیاب ہوجاتے ہیں دوسرے پاکستان ٹیلی ویروں سے یہاں کی مانی صحت کو بہت نقصان میهمایا ہے پاکستار سومالہور میں تو کیتے تار علی است امت مٹام کرتا۔ اسمحصگی ہیں یا یاهی مستی میں اردو میں متالاہت ہی کم ہی ہیں۔ اطوریری ایم کی ایک عمارت علمی امور معیاری ہوتی ہیں اور یہ پاکستان میں سے سعد مقوں میں سردی بھارت میں دوردست پرگول هم دکھائی جاتی ہے تو لوگ پاکستان ان دو کے ایتھے سے اتقایر وگرام دیماهی امید ہیں کرے اور مرد معماری علم رکھے کو ترجیح دیتے ہیں اسی طرح معماری فلموں کے گیتوں کے پروگرام میترارکوعی سے تسلیم کیا جاتا ہے یقیا الماری کے بیان میں بھارت گوبرتری عاملے عمارت کے فلمی اداکاروں می دهید منور کماراورے شہروں میں سے دت اور راحت پاکستان میں بہت مقبول اداکاراؤں میں ریکھا، بیابانی، ستاان التماس اعظمی رح اور سری دیوی کو ان پر کیاجاتا ہے شتروگرس با اورتعمیرکارکے ان کی وہاں ہر احترام سے لیے سناتے ہیں۔ پاکستان کے مدرسا المیت اور تورهای دانی دوستی تو کافی مشہور ہے ۔ پاکستان میں بھارت کی پڑیال میں بہت دور ہی سے کبھی باقی ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژه اورارتی دورکرتی پاکستانی ٹیلی و تیں اور بھارت کے ڈور ریت کے بارے میں سہگل کرا در نهایت تعمیل سے مات میت پر بہت سے سوالات کے جواب میں میں نے کہاکہ پاکستانی ٹیلی ویروں پر دکھائے اے والے ڈرامے بہتر ہوتے ہیں بھارتی میا کے مریدی اور گیر دوسرے علاقوں میں پاکستانی نی وے پروگرام دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایسے بالوں کی تعداداگردربار میں جان کر پاکستانی ڈرامو کا موراعاتی کترارہاہے پر دیگر اداروں اور رسالوں میں بھی ہوتا ہے کا ٹی وی ڈراموں میں سے مقبول تریں طویل ڈراموں، لاروال ، رنتری مشاوره وارت» را حداسلام احمد کے وڈیو کیسیٹ کارت میں دوست ہوتے رہے ہیں۔ وہاں کئی دیگر پاکستان ڈراموں کے کسٹھی را میں اشفاق احمد قدسیانو اورمویان کے ڈرامے کی بھارت اس ہات دل میں سے دیکھے اور کارت کے اردو حریر وہاں اس ترکی ام مری کو مش مانے والے لوگ کی ہیں ہیں عمارت میں شائع ہونے والے اردوادی تربیوں کے بارے میں پوچھے تانے پر میں نے تما ما که مقول تریں خرید سے باہام شمع، اور یوں دیه مرد دوری میں مالی سارہونے کے اوور تم میں اردو کے صف اول کے ادیبوں اور تاروں کی تعلقات شائع ہوئی ہیں اسی طرح ماہ درونی ممی کا قول ہے امام مانده و وقتیں ارسال ماہام کلماء اور باتمام رکوں کے رمان موویمان اور عالمی دن پریول بیت ع کل استان مست ہماری ریاں تیکاباتوں " العاطه حاص طور سے تا رکر ہیں۔ دوڑائٹتتال اور ا » کافی تعداد میں شارٹ ہوے ہیں ان کے علاوہ نیکان تیار میں ریا کارت میں سامع ہوتے ہیں لیں ان کی رسالت زیادہ ہیں بے باکماں کے ادنی سال میں فورس اوراقتوں سیب مسارب لطمه ادگارسیا دوران ورود اول میں تیار کیے جاتے ہیں۔ وہان کے تار دوسرے رسانے اور ٹرانسرٹ شائع ہوتے ہی سرکاری ارسال ماولوه ایک معیاری ادنی در مده ہے ارتولایی فلموں کی باتیں ہوئیں تو میں ہے تاکہ بھارت مساری کے میدان میں رسا کا دوسراٹاریں سے زیادہ تر لیں ہندوستانی رباں میں سانحالی میں نکر علاقائی زبانوں میں نے والی فلموں کی تعداری کافی ہوتی ہے۔ ویڈیوے علموں پر کافی اثر ڈالا ہے فلم ساروں کو عام تر کام ہے کہ رکھ لیں ری ہونے سے قبل ہی ویڈیو کے درید رد عمارت کا دیاکے بہت سے دوست رائیون میں بھی یوری سے پانی میں بھارت میں اس طرح کی تیوری کو روکنے کے لیے تالوں مانے گئے ہیں لکستوری کایلدیریت رگی یک بردی ہے کے تایاگیاکہ یہ ہماری پاکستان میں کھیے یکسا میں الماری کی وسعت کو دو طرح سے کھاری دھاتا ہے ایک تھے دروار سے عمارت مدمر میڈیگنڈہ کر کے زیرانتظام ہے ہیں۔ میاں کی راجدھانی ہے۔ اور تیری لال داکر ڈاکٹر پاروں ایوب بستی میں اسی ڈاکٹر ریتیں، برونسرای دالیں دلگر سورت تصویرست یگانت گرد سید ریڈت سوری کا ہاتھ پیرویر با واکنش گر با مردم استید نتاکر وغیرہ بہت سے ادب اورتاع بہانا تی ہیں اور دوری میں سر کے نام کی نہیں ہے۔ میں بجائے ایسے بروقت کاروں کی تعداد تو رادہ ہے تو بات ہوئی ہیں اور ارد؟ الم توڑے ہوتے ہیں معروف افسانہ نگار صابر ہیں اور روس میں ہی سنی در تولد ہیں مقیم ہیں اور رولوں تمرات مرد میای بی در صف اول کے اردو افسانہ نگار ہیں توایں حاب سوں تھی اوراسے کیتی گھی پچھانی ہیں جولی در مقام ہیں۔ اسی طرح ہم سے دوسریال شاعراور ادی ہیں تو بھارت سے زورختلف ممالک میں قیام بدیر ہیں اور لاد کی مد مت کر ترقی پسمتحرك ترقی سد ترکی کا دریا تومیں نے بتایاکہ اس لیے تحریک اے کرایی ماں سائے رکھنے والے جو لوگ بھارت میں اس کھیر بدہ ہیں اور عملی طور پر کم ہوئی ہے مجھے دلوں مھارت میں اس تریکی کے اس سال مانے گئے اس سے تو ایک بہت بورس لندن میں بھی منایا گیا تھا میرے حال میں تو ایسے تر گھرے ہوئے وقتوں کویارکرنے کے لے ہی سائے گئے ہیں حالات اور زور میں ارادی تحریک کام ہوا تھا اس کی اہم اورا مارس بھی حالات آج مدل گئے ہیں اعمي ترقی مدرک کے اماؤں نے اسے آپ کو ایک عام رطے میں قید کرنا ہے ایسے میں اس کی بڑی کر رکھی ہوئی ہیں اس کا دائرہ بھی محدود ہو کر رہ گیا ہے ار توایک مدرسے کھلا مدرکو کی کہا محدود دائروں میں قدکیاہے تومروستاں میں لاہور اردو ادب میں ترقی تحریک کا اکڑا کرتا اور ماہنامہ اسلام اور سوراء سیادی رمدے استری کرتی ہے میں نے وہاں اس امریکی اور بربیکیورش سیاست کا مشترکرتے ہوئے تو کیا ایسے کے تایاگیاکہ اکتا کا کوئی بھی ادی ترقی سرقت ارگاہ کے طور پر اظهارنے کا حامل نہیں کھائی اڑ گیاں جہد تی وی تا برند را دویدمات ایسے آپ میں ایک متال ہے اردستائری میری فیر متعالی درست بہت طویل جے ای خرما است کے میدان میں میر اردومی امور سے گرارشدر مرات وام وی میں ہے نا اسید سیترات پورانا۔ تارا رام کر کے میرا نام لکھنویں میسر دوائیوں کی ایک کا ہر کام کا اختیارکیاگیا تھا میں بہت بڑی تعدادمیں ادیبوں اور تاروں ترکی کی اس موقع پیوسلم ارو مصر کی ایک مرت عیسائی ہوی منی بس میں ہزاروں کی تیاری ام در کے اس کی رورت تہ اسکی ایسوس ہونی تھی کہ استاد کی طرح بھارت میں بھی ستائریسا کرنے کی اشتراکی ٹیم کے دو سالوں کی ماں بن کر رہ گئی ہے اور بیماری میں اس بارہ مشري یار دور مار میں اویلیں کر رہے ہیں لکھؤی اس کا دورسے اس تاثر کو کم کرنے میں بہت درد دی تھی میں نے پی سی میاکهارت امور تربیت میں ان بوراردو کے من می تور ترکی بن رہی ہائے رامائن میں اتارنگارام عل کا انہیں نہیں ہے۔ قاری بیان کے ردوقدار ایک سوال پرتقال جاری بیان میں اس وقت کو کوں اروارس اور شام میں باقاعدگی سیکھ رہے ہیں میرے علاوہ میں کارورا اور ایس ایس کے رامیال کارگری اور دو مقول افسار نگاریں اور سی کہانیاں ہندو پاکی صف اول کے سالوں درندوں میں سائع ہوتی ہیں مار کر ادی عام تر کار میں تنگی اور یورل سگهر دو کمروں اور ریگ شاعر حماس امر میں کام کی سیاست میں اسے بیروبیسارار الان - اردو کے مشہور ستار اور تیار ہیں اس آر ڈی بترا ایز ریم لایا گیا ریال میری رواں ساره شام راسری هفته بعد ہاتھ ہری پیروی کار ڈاکڑوں گمراہی ساتی کیمیالوی، مانی سانتی متر وعروں سے قتال و کرام ہیں جس کا تعلق پاک ہے۔ تیرا یولوی محمد عالم خالد کماست درباره ویدر نوار و محرومی ہی اس میں رہ کر اردوان وادب کی مذمت گریمی ہے ۔ ۱۹ قائم کے گئے ہیں جہاں تنقیں اردو پڑھا لکھا سیکھ سکتے ہیں ملاردیاب کی بارے ہر سال اردو ادیبوں کو کانوں کی اشاعت کے لے مالی گران دیسان ہے اور بہتریں در دو نوں میں انعامات بھی سے سوائے ہی نہیں بس مردہ کو کسی دینے والی بات ہے کیوں نی ردوکوماری طور پر دیکھے کے لے یہاں سرکاری سے کوئی کام نہیں ہوا کیوں کے سہارے اردوتایدسهار میدیں اور زندہ رہے گی . اور دریادار دو کے مرار برنقیب کیوں پڑھانے کا مسلسل ساری ہوجائے گا بھارت کے دیگر صوبوں میں اردو کے مارے امریکی سوال دریافت کئے گئے اورایی سالیا کے مطالت میں امیر تقی صورت حال سے آگاہ کیا سہارمیں اردو دوسری سرکاری رہا ہے اس سلسلے میں اتری میں ملی ترکی باری ہے ۔ درس کھریاستوں میں اردواکارماں قائم ہیں تو ماری سرکاری ڈراموں سے اردو کے لیے گھر کے کام کر رہی ہیں لیکر مرے حال میں عملی طوریکا انا میں ہورہا سرکاری رویے سے مشاعرے سیمیار، در کتاب العامات کی تقسیم اور اسی طرح کے مائتی پروگراموں سے تو اردو کوریدہ نہیں رکھا جا سکتا اس عمر میں درباره عیدہ ہونے کی فرورت ہے کارت کے غیرمسلم ردوادب ایکتاثریتاک بھارت میں روسانوں کی بدول ردہ ہے اوراسی سلے میں کئی طرح کے سوالات بھی کیے گئے میرے وال کیاکہ یقیقت نہیں ہے عمارت میں اس کی اردو کوکوریت حامل ہے اورایسے ادیبوں کی نہرست بہت طول ہے ویسلامی اور ار دوراں میں سرا ملکیر ہے ہیں مثال کے طور پر میں عمانگدرال رامحل،ریں گے کشمیریس راکر وغیرہ کا ذکر کیا تومیں بیڑیوں کے امیداواررنگار ہیں اوران کے لکھنے کی رفتار میں کوٹ کی ہیں ان حان شهر پای گوپلسل مرید را تار میرا کمار پائی، تروں کارورا گوررنگرترترتر مردی در تونری درید رئوفر حمارا ساتر مسرح ہر دلویدیارتی ویو اردو امتار ما میں ڈالگوی بیدارگ برون القرار، کالی راس گشارما، الکام میں تالیاں ہے اور اسی طرح عملی اصولوں کی صومانی ماں ہے اورکیا ماں سے محنت کاربة کوتاہی ہلکی قوی راں ہماری قومت کی اولستانی ہوئی سا بے لاته دی رمان کے پھیلاؤ کے لیے سرکاری اور سرکاری سطر برادری سے بیانے بوسیدہ کو تتر ہوری ہنیں انگریری ریانکا سلطان بھی عام ہے تھے تایاگیاکہ اردو پاکستان کی قوی ارماں بہن کی وہاں بھی انگریری ماں اور پر بھی بھاری ہے ۔ پاکسمالی پنجاب میں میانی رباں اردورم الطمی را دن ہے میانی و ہاں بولی لکھی اور بڑھیا ہے ۔ بیالی میرالیں بھی سی بی او را دکھی کلق ہوتا ہے بھارت میں اردوراں وادب کے بارے میں گھر سے سہ سے سوال کیے گئے کہوں کہ مرا تعلت دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اردو بیماں کی دعرق می اور رواں پڑھی تھی اس لئے جاری بیان میں اردوراں وادت ملی اس طور سے گھر سے سب سے سوال پویے گئے۔ میں سے تم یار بھارتی سیاب میں ار دوده دور ختم ہورہی ہے جیدگھوم علا قوں کو یھوڑ کر انسانوں کی آبادی سے اردو سیکسی اسکول میں در وعدہ ہے ۔ اس کے لوگ اردو کمیٹھا عموما ہمیں راستے پرانے وقتوں کے لوگوں کو اردورسے آنے میت ہے سال کھارت کا سے مٹا دواجار رورار ہدایا به حال در ریچارگی سے شائع ہوتا ہے حالیہ اعدادوسار کے مطالق رھار میسر بارہ میرے والااحمارہے اس کے علاوہ روراه - طراب اور روراه ایرانی و اخبارات کی میحات میں شائع ہوتے ہیں ساحر لدھیانوی کے درمیاد ریجاب) سے متعد در ورایہ وہ وارمعانی احاراس سائع ہوتے ہی میں بہتر وار تعاوں، درام مساج اور رواں ساص طور سے تالی دگر میں اسی طرح اس کے دوراہوں سے بھی اردو امارات شائع ہوتے بی کی نسل کے نوجواں حوار دو میں جاتے وہ بھی اردو کر لوں اور ساروں میں کا ی دل میں لیتے ہیں ۔ آج کی بیماب کے بیٹے ہیں سالگی داردوساعرے میں ہے تم بھی بتایاکرین تعلقاتي عاتیمار سرکار کی طرف سے اردوا بامن پاسمانه اور کمال رکھاتاوکھا سا سرکار کی طرف سے اسامہ بردار ادب، شائع ہورہاہے د ولوں جریدے دی اورعلمان ہیں سرکاری سے اور بڑے شہروں اردو پڑھنے کے مر کر بھی منعقد ہوتے ہی لاکر کھڑا کر دیا، اگر کوئی کمی بھی ہیں یا بار کیوں کسی کام ہے گرم دوستا اورتوں کو اس کی گلی محلے کے لیے کیوں چھوڑ دیتے ہیں۔ - ایک نہایت باری بوموع میناکی کی کہانی منی دور سے پڑھنے کے بعد وہاں موتودا ریوں، سازوں، فنکاروں اور دانش وروں کے درمیاں ہوییت کوہات بیاموشی سے میں نماکا وہاں موتوریہ لوگ امرداروں میں اوران کی سیاسی نامداریوں کو نا بھول گئے اورایسی سارعت، خلوص اور دیتے دلوں کے ساگرمیں ڈوے میں رشتوں کی انی کر رہے کے دیورتی میں ہی بہت سی لکھوں کریں دیکھا تھا اوران سوورکوی توراوں پرنکروں کے ساں تھوڑتے ہوئے ڈھلکے ۔ میرے وشواس کو طاقت ملی تھی کہ دونوں دلیوں کے درمیاں نوانی سے پرفت اور دوت کی توہی مص اطها بالکل ہیں کوس فقیقت ہے وہ وقت تیا ئے گا درختوں اور دوستیوں کے ان تتوں کو باقاعدہ ایک نہیں ملے گی۔ اس تقریب میں ایک بڑی تعداداں وتر ادیبوں شاعروں اور کاروں کی کتی کبھی مارتیں ۔ عمارت سے کیس کی شدید روایتی اور بھارت کی ادی، مانی اور تقامتی زندگی کے نقلیتوں کے بارے میں وہ بہت بکھر جانے کے خواہاں نے ایسی بات چیت کے دور میں ان لوگوں سے ہے تمارسوال گھر سے کر کے اور میرے ایمانکاری کے مطالق میں ہوا۔ دینے کی بھرپور کوشش کیتی مختلف موضوعات پر ہو ئیدعام باتوں کا دگرکرایہاں میں مرور محتاہوں۔ مارت می دو ادری اور ماں کے حوالے سے یودیکھے گئے سوالات کا معاہدے میں ہے تایا تاکہ ہندی بھارت کی قوی براں ہے انکی آبادی کے عالیں رس گھرانے کے لیدی ویراں کو اس کا میر مقام نہیں دے سکے لگ بھگ بھارت کے ہونے کی ایک ایک اور ترسی راں ہے اور اس ماں سے مقاملاریا دوڑے ہوئے ہیں تال کے طور پر بھاری پنجاب میں گو کی ہماری ارری اور تری دار ہے۔ اسی طرح سنگال هر گلیاشاسے رات میں گرانی اور تامل ناڈو جاوید اکر اطمی، دلاریردیره یا میں واسطی جی صری، مارک احمد ڈار استرشول نوی تم ہو رہی تھی، المعادل، سعات وحید شاهد واسطی ، حمید احمد میاں ستاد امر در یری کے پاس عام طور سے مالی و کریں پاکستانی فلموں اور ٹیلی ویروں سے والے بہت سے لوگ بھی موتور غ لوڈشیڈنگ کی دو سال میں میانماسے ریڑیل گروور کیا جا سکتا انکی ماحول کو کلیه اور دل کت سارے کے پیتی رتیوں کا سہارا ہمیں دیاگیا تھا ان میں ہزاروں بڑی بڑی کہ وہ میاں تحریر و تقدس اور ریاستی کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ تقریب کورس طے ترتیب دیاگیا تھا اس پر میری تو سول اور یا معمولی کامل اور صورت مدل میں ذکر کیا گیا تقریریں کی گئیں مجھے ایک بار پڑھنے کے لیے ہو گیا اور ماشاایر مہر گل کرائیں ہوئیں نعماران اس میں ساتھی کا زورترو نواح میں اردو سردی اور بانی مارو اور مار اور پاک لیں اور ٹی وی پروگرام صیامت کلیول میاں ، دونوں ولیوں کے اسی تعلقات . اومیگا سیاست کو چورگر گنگ ہر دور مصوری ریلی یا ساورکتریکے اختتام رنگ زن کون سے مہمانوں کی تواضع کی گئی ۔ بہت سے دوستوں نے مجھے ایتالوں کے تائم دیا اور دی گئی تم کتھوں سے بھی گھروالوں نے مجھے لوارا۔ داتا ردعمل پاکستان میں اب تک بہت سے دوستوں سے میری ملاقات ہوگی متی، دعوتوں اور حملوں کا اہتمام کیا گیا تھا اور وہاں سے دو لوں رشتوں کے دریاں سوشگوار تعلقات اور دہی کیا میں کہی گئی میں آیت کی تعری میں جہاں عورت میں ہے یا اسامہ ہم دونوں میاتاکیدات کا رونم لے کر اسے اسکے بالا سمت رس پینے میں بھارت اور پاکستان کے دربیارہون روسری تنگ کر دریانا لی ہو اور اکیلاں کہانی کے دوالے کرداروں کے جاندا دو میل دورکیا لیلی کی ہولناکیوں کا دردسها، می گوتم کا شکار ہو کر رویا رانوں کی فدان گام برداشت کیا اور مردودوں دانتوں کے درمیان کے دوست اور عمرہ کی نیت میں دونوں کو ایسے اسے ۱۱۲ لیں کهانا مصدره الا ان تمام مرد کا علم نے ارادہ طور پر اور قومی اور عام لوگوں سے ات بیت کے بعد ہوا کلا ی گوری پوے دا وئت دے رہی تھی اور دو سے بھی تقول امروہوی اگر پیاتھا مقتول کی رات کا دس روڈ پر واقع ہے اگھ روڈسے وہارے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ مقبول دویر کے کھانے کے لیے میرے من میری داشت درمانی اے میاں اور ترالی ہی تیار کی تھیں جو تعدارمیٹ لیں۔ دہی سے انھوں خاص طور سے سائے کے کیا اس قدر لديها رکھوکہ نہیں ہوتے ہوئے بھی میں ہے یاد کیاگیا تھا۔ دود دو یہیں کے ہوٹل مل کا مو میٹر کی تزی میں دیا تھا اس لئے رح کھیتوں کے ساتھ میں زیادہ وقت نہیں ر و ساتا مشمول مال اور عالی اگلے است رائٹریٹڈ انٹلکچوئل آف پاکستان کی طری سے غراری تقریب عیار میں نے پہلے کیا ہے میرے اسرار مسمیت بڑے پیالے پر چوٹ پر ایک ہی بیٹی مرتیکا العقار رائیڈراسٹر کیون تومان ماکسیمان کی رو سے کیا گیا تھا بقول وہویا سالغدیر میں سے میں وہاں ہو گیا تھا مسلیں ہٹیں حاب استر عورتیں اور عمارتیدسرداراحمد ہارا استعمال کیا کافی دوتری لانے کے اور تھے تایاک مربی بہت سے لوگوں کی آمد بھی کنتطا کے باد ایران میں ہو موت کی کمان میں سے دور کے قیام کے دوران ملک کے کون اداری مدیکا تاہم دونوں دشوں کے سینوں میں تو مہم کی ائیر سرکار میں ایک وقت کھایا نہیں ہوا کیا ہے اس عادت کا شکار عام آدی سے سادہ سی بڑے لوگ برے اور اور ٹمای لیڈر اور وری ریا رہ ہیں۔ تدریس شروع ہوئی تو امرک سے ہال کچھا کیا ہوا تھا حرمتار لوگوں نے اس تقریش شرکت کی اس میں جمال انتقامی ڈاکٹر سیم استرالاسلام احمد ساله استم یه عد اصعر صری الر مہنگائی پاکستان میں ہر طرح کی دوری بہت مہنگی ہے ایک گھریلو گرما یاوری کی ا بر تحوا میره سورسور دیا ہے۔ کوٹیوں ہی میں دو آیروں کام کرنے والے سو سره سار سور وے ماہواریت ہیں کا ریلائے دانے ڈرائیور کی خواہ گھی ڈیڑھ ہزار روپے ماہوار سے کم میں ہے میں دروں دوستوں سے پاکستان میں میں ماں مر سے اکٹر کے پاس ایکا طیاں نہیں میری گاڑی وہ ور ہی ڈرائیو کرتے ہیں۔ لاہور کی اندروں شہری ماریوں اور بازاروں میں بہت زیادہ بھی عالمی دہلی کے در اراره ساند ملیاراں دیرہ علاقوں کی طرح یہاں بھی ہوئے اور ریڑھی والوں کی بھرارے۔ یہاں عمان کاکی ماسال نہیں ہے۔ اریاں مارتری اور تور صور سہی ٹرانسپورٹ پاکستان میں اپور دربار تر برائیوید کیوں کے اسے لاہور سے اسلام آباد راولیڈی مگویا ساہیوال، ماں اور دوسرے شہروں اور فصلوں کو جانے والی موٹر کار اور بارہ ریزی ہیں اور سرکاریوں کے نتائے غیروں کی حالت اور سردی ہے۔ مقامی طور چلنے والی میسیں تعال میں بہت یاد ہیں اور بھی برائیویٹ ہیں دت تو نہیں دکھائی پہ رینا الستائے ہی ہیں دکھائی دے جاتے ہیں۔ پہلے کی طرح وہاں اب انگوں کی بھرا نہیں ہے۔ بجلی کی کمی امور میں کل لائن کی ریتر داری، واڈا کے انکی بریاری داس کے پردے نیں ملی پلان کا اسلام ایت اشیے موم سرائے محوری اور دوریوں میں میں پاکسته فیر تھا اس موسم میں گلی کی امریکی بام طور پر کا نام ہے اس کے اور ان سے شام ماریس گیئے ، واہ کی کوئی اگر میں گرمی کے موسم میں کیایی مو ، وہ اس اداره خود ایراستے کل کی رانی کے لیے پاکستان میں تحریروں کا استمعالی رام لے۔ اردوشاعری منتشرات کریں ترک کر کے ساتھ تھے اک اوراب پاراگئی کہ پاکستانی ادیبوں اورساروں کی مقامی تراب لوگ ہیں کہ ہوا اور ساری اور تراسکے لیے بہت سے قیتی تہور ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو شاعری میں ہے اورزیوں کا ذکر اکثریت انتقالیں پاکستان کی اردو شاعری احے کے دیر سے محروم میں اس کے با و تو دستا عومور سورت سو کہہ رہے ہیں۔ برائے نام زنده پاکستان اور صوالا ہور کئی ارادہ رکھیں اور ارباں اس کی ہندؤوں کے ناموں سے سو میں کہیں مگه موم گره دمی رام روڑ ویو میرانے وقتوں سے لے آرہے یہ مام اتوتدیل نہیں کیے گئے اور اگربدیل کئے گئے ہیں تو نے ہم تولہ ہو سکے گوشت خوری کی عادت پاکستان میں کترلوگ گوشت ور ہیں میہانک کر مال اوریگی کی ترکاری میں بھی نوٹ برائے مرغ کا گوشت مہنگا ہے اور نے والوں میں بھی ہوتے میں ایک کاروبار سے راره ہیں کیا عام طوری دور کرنے کاگوشت کھاتے ہیں مرے جانوروں کے گوشتکوه طالویت کہانی ہے اورا ہونے کے ساعت عرس گھرانوں مر عموما ہی گوت تلے يا اجمی ہیں پاکستان میں ملے والی بیان کی کوالٹی ریارہائی ہیں ہے اس ملک سیانے کی اس ہوتی اور ماہر سے منگوائی جاتی ہے ایک بھارتی جائے گا کو معا مل نہیں ہے ۔ یہ بات کافی کے اتے میں کہی جاسکتی ہے اسے باکمال میں قیام کے دوران مجھے ہیہ کاری ماستے کی طلم گی۔ ܩ کی مارا گیا تھا۔ ملکی راہیں پاکستان میں ترا کی کسم روعت اور استعال میتل اسدی عائد ہے اور مراعط مروتو کے زوال کے بعد صدر صاحب اقتاسال تراکتورے ۔ قدم اٹھایا تھا ایک یا کسانی باشندے نے تایا می رویمر تراس سردی کا اعلان ہوا کما سرور لوگوں سے مرات اشکوں میں سراب کی ہوئیں اور سڑکوں پرتوڑدی تھیں اور نوں گے۔ انتھار کیسے لڑکیوں مرتا کی ماری ہوئی ہو یکساں میں کہیں بھی ماں کی مام روکا نہیں ہیں ہر بڑے شہرمی لاہور اسلام یاد کرلی اور میں ایک اکلوتد و روکار ہے ہالے مرمٹ حاصل کرنے کے دعسانوں اور مسل عر سیانوں کو تراسل سکتی ہے لوگ بھی ترا کا استعمال مردی گروں کے اندر کیا کر سکے ہیں۔ اگرکوئی آدمی ترابی رگوں سگھوما کردیا جاتا ہے تو میرا را کوڑوں کی مرادی جاتی ہے۔ ایک ماست تا ار ای یامدی کا تمام لوگوں پیرا ہے اس کی امی لوگ اس کی تردیئے ہیں کی مادرم درست کر کے میں اسمگل شدہ ہے کی دستار ہوجاتی ہے۔ عمواس طرح کے کام مجھے درواروں ہوئے ہیں یا ایسے لوگوں کی تیار ہو گی اس عمر میں تو ہے ہی ایک بڑی سائیل بھی ہے کاتی گنگا مدھی کے مار کر بھی اس مران کوختم کیاجاسکتا۔ کوڑوں کی شرا کروڑوں کی سراسرای میلی تو رام کرنے پر ایک اسے ایک اداکاری کرنے والے لوگوں کوکوئوں کی مرادیان سے کئی دوسے سائی اور قانونی عمران کے لئے بھی ایسی سراتو سر کی مانی ہے میں اس کا کیا اک ایسے واقعات کم ہی ہوتے ہیں اس نے کی کوسرادارگوڑے گئے کھینک نہیں رکھے فحص اداری میں پڑھا تھا۔ 18 میداں میں حد یک طلقوں اور رگی دوسروں کی مددسے لرجی انقلاس ہی آگیا ہے۔ اس کے مرغکی پاکستان کے دیہات ان کی سادگی کاسکا میں اور وہاں ایسی ہی کی سہولیات افشاں ہے۔ پاکسای مهندو پاکستار میں سردی ہندو اور عیسائی بھی رہے اراکین کی تعداد ہے کہ معصومانی ملوں اور وفاقی حکوم میں نمائندگی حامل ہے نیر بیر پر عام ہے پاکستان ایک اسلای ملکیت ہے ۔ وہاں کی تکومت اسلائی ہے بالوں اور قواعدی اسلاگاہی مہدویوں اعيان اسلامی نظام کے تحت رہا اور سیا ہے۔ لاہورمیں مردوں کے ھی میدان تر ہیں۔ عیسائیوں کی تعدا کافی ہے میں دیا تو کہیں کا تانتا لاہورمیں ایک مندر ہوشی کی حال قامی مکہ گیار اور عیسائیوں نے ہی تعلیمی ادارے ہیں جس کی نکھ کھال وہ ماسٹھے کرتے ہیں۔ لاہور کوراو پاکستان کے دیگردوں میں کی تاریکی اس کے کئی گورودوارے نی اگر یہاں کئی دکھ خان کی دقتدای ایک قوی وقف بورڈ کے تحت ہے میں ان کی طری اساریاں ہیں دماسانا طاہر ہے کہ وہاں اس تقت ہوں کی باقاعدہ پرستی کرنے والے ہیں ہوں وہاں اس کی کی کھال اس ڈھکے ہوئی ہیں سکتی مقدس گورودواروں کی ریاری کے لئے سال میں میں بھارت کمار اور کئی دوسرے استیوں ہے کہ ایک ماں کی بات ایرانی بڑی تعداد ملتے ہیں تال مع سرنگوں کی طرف و نورٹر کا رساںاتاہے کٹاس راح ہندووں کا ایک بہت ہی اہم اور مقدس برتری کٹاس راج بھی انسان میں واقع ہے وہاں دونوں کی کون مادی نہیں ہے بھارت کی اشدهمدوساعدوں کی طرف سے ایک طویل عرصے سے بیانگ کی باقی رہی ہے کہ میں اس قدر تیرتی کی اتراکی اسارت دی جائے جہاں تک میری سانکاری ہے گست سد زیرقیاتریوں کا علامتی تری شمال مرپارلیمنٹ کی رامائی لائح ریقے سے زور دیا جاتاہے۔ پاکستانی ممالک میں پاکستان میں امور کے درمیاں کی ہیلیوں میں بڑھ رہی ہے ۔ روسی سینٹے ماری گوانوں کی توریوں میں رہا ہے اور بی ریا دہری ہویاجارہا ہے اس دوڑ کا مقادکرنے کے یہ یا شاید پاکستان کی یاد کا ایک تار در منگل اور ورک دی تو میں کر کام کرنے کے پی موہواہے۔ منشیات کی اسمگلف اس کے باوجود پاکستان میں ہونے والے جرائم کی تو ارکافی ارادہ ہے معتاب کی اس بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔اس سران کو تو پاکستان سرکاری تسلیم کرتی ہے اور دور کرنے کے لیے کی کوشش بھی کر رہی ہے بھارت پاکستانی بھی درندگی کے تنگ تنگ تھے میں کرتیں کا بول بالا ہے برطانوی تکومت کے سائے اور برادری کے اعدسا اس ماں میں ہم کیو رادهی را ر ہوگئے ہیں۔ آبادی میں اصافه آبادی میں لگاتار ہورہے امان کاتاراکتیار بھی ہے دراصل بی ایک ساله اصی میں بھارت میں میں وارد ہوتی رہی ہے کو سامان موجودہ صدی کی تحریک نظر اسلام کے علاو ہے اسلا ملک پاکستان میں رکھنے کے لا کر وہاں کی کو ٹھور کی آبادی میر والو پانے کے لیے سرکاری دورهای مالیاتی کام کر رہی ہے بیٹے کے عوام میں وہاں ماری کی لہ ہے لیکر کنیم ان لوگوں اور ساده اقوں میں لگائی کیده ہے پاکستان کے دیہی علاقوں میں ترقی کی رفتارکان سے بھارت کی طرح پاکار بھی دیہاتوں کاریں ہے بھارت کے دیہاتوں کی رسیدگی میں کی آراری کے نمایاں تدلیہ ای، علی، اتنی تعلیمی اور ایسی بہت سی سہولیات کے علاوہ مشرکوں کا حال میلاے زراعت کے میں اور یا پھر ایک سال کے دیہاتوں میں کہیں ہیں مرقہ ہے اورمیں رکیالی دھائی میں الیکوریوں کی معیار کانی مادہ نے سوال کٹواتی ہیں اور کے گالوں کی خلوں میں میں نے سگریٹ کیتی لاتی کی عورتوں کو بھی دیکھا ہے عمرملکی گاڑیوں کے همار پاکستان می مستند تیم کسایا اور اور میں دوسری عمر کی گاڑیوں کی حرارت ای گالیاں پاکسای سڑکوں پر کیڑے مکوڑوں کی طرح رنگتی دکھالی ہستی ہیں دوسرے نمس پر موٹرسائیکل اور تیرسم پر اسکوٹر دکھائی دیتے ہیں لیگی کار کی طرح ان کی تعداد والرمادہ نہیں ہے التڑا عمارت کے مقان میں بہت زیادہ ہیں ڑے شہروں میں سائیکل رکتا ہیں عام لوگ سائیکل کا استعمال بھی بہت کم رہے ہیں پاکستان میں سائیکل کی تیباسور دیر کے لگ ہے یاکماں میں کوئی ایک بھی گاڑی موٹرسائیکل یا اسکوٹر سائے کی گئی ہیں تامیرالت در آمد کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں کھڑے کی صوابسته دروغ پارہی ہے والا ماکیستامه اگر کوالٹ لیاط سے ستر کی عمارت میں متا ہے یاکمال میں ہورری کی کسی بھی ورورعار اسی طرح سونے کی ایکیاں میرے ہی دیگر مصنوعات الکٹرکی کا سامان اور دگی کے امور کی بہت سی ھوٹی چھوٹ تھیں کہ باہر سے منگوانانی ہیں اور کھاری کے مقابل میں وہاں مستی میں اس کی دو بڑی وجوہات میں اک کالی تمام بیریں باکمان میں ہیتی ملکیات درآمد ہوئی ہیں اوران پر لگے داکٹرة کی موت ہے دوسرے یہ کہ یاکان کے معنی مالیکی پکار ہے اور میاری شمع ہے اب یہاں کی محوری ہے اس کے سر کی عمارت میں ہر طرح کی ا ی منع ہے اور مالت دراداب پر کاری مہارت کہلاتا ہے اس کی عبادی دو یہ ہے کہ کھار لے لیں کی مصنوعات کو ہاکی کی انہیں سراں کار میں بولی جاتی ہیں وہ نام وہاں کی مونالی میں کھیلوں میں کنوکیت ونسبت زیادہ ہوتی ہے اور کمار کے مقالے میں ہے تو وہاں ملتے ہیں سی وہاں نے ہی نہیں اس کی کوالٹر ہی ہوتی ہی کتری ہوتے ہیں عمارت کے مقالے میں ان کی میں وارادہ ہے حیدرس پہلے تک گیلنا سماں میر یں تا او را گریان و اعتقادی اس کی نیب واں دو روپے نی گیلانکتی لیرارسدہ کے لانے میں گنے کی کاشکالی، ماده ہونے لگی ہے۔ دانی میں شدید ہوتا ہے اور میں گالی کہ ہے بھارت کی طرح ہی موسموں کے تیل .إلتهای ڈان روٹ لیں خشک میووں میں درد کا تو پاکستان میں ہیں تا افق تاماشتوں کی ماں اورا ہے علم کا ایک سواسیر فیسر حیدو رستے میں ہے سالیں روسی اسرارام میں روبی سر او را ترور و جوانی و نیروی ہیتیں مونگ کیلی ستائی تم کی اور مہتہمتی ہے تیریال کی وہاں ایا سی پھولتی ہے اس میں سے حل نکالا ہواتاہے اوراس کی میں بھی تھے ساردیے لیتے ہیں۔ قیمتی دھاتوں مرسو اسمارت میان غیر ایستا ملک بہتر مادہ وقت نہیں ہے میاری وہاں مہنگی ہے اور شاید اسی لئے منگل کی ہوا ہے عورتوں کو سونے کے روراب پینے کا کافی ستون ہے چاندی کے زیورات میں بھی ان کی کا فی دلی میں فیشن مردوں کا کام اس مس اور تلوار سے لوص اور سپورٹ کی بے بس لنگر تھا ماں کی نعلیر کم مدی لیستی برسوں تیریاسے ہویے کو میں بھی ارادہ کروگر اسلواری تامین ساڑی سام مواقع پیراور یہی بات ہے عورتیں عمواشورے رنگ کے کپڑے پہنتی ہیں اسی کی دور میں یا کسانی موری پیچھے ہیں ہے ہمارے اسلامی کا چولفورمائے اس کے مالی وہ مرید سے ہو کیا ہے ایک پاکستان میں رتی نام دارد کیا ہوگیا ہے جو حال میوستاعامدادوں کی پاکستانی طور پر دو سال کا کہہ کر میں کے ان کے گھروں ۱۰۴ میں عدرا العا ام مرات. 1 راهوں کے گلی کوچوں می گھر روانہ ہوتے وقت میں منقول احد دوی کووں کیا رویہ کا کیا اماں کے ان کی اس کاوی د کریکا تا امی اطلاع دی کہ میں ان کے دو رو کے پاؤں گا اور وانت) لیں اس طرح چند گھی کے سہاگھو نے کا موقع گاما انئیں لاہور کے ارائیں سڑکوں اور کیاریوں میں گھوم کراس زندگی کو دیکھے گی لاستیکی کی جس سے میں اگاتا ہی کھا گئے ، اس درندگی کی ایک علم میں آپ کو ھی دکھاؤں۔ راهی کمال روڈ لاہور ولی کی طرح ایک راستہ میں اس کی آماری دہلی سے کم ہے مجھے تایانار ایمانده املات اس کی آبادی ۳۵سے ملاگو کے درمیاں ہے لاہور کی ال روڑے اس تابرہ نام کہلاتا ہے، پہلے کی طرح اسیا کنار واوروربور ہے اس پر بڑی بڑی مارمیں واقع ہیں میں سے شعور کی گئی مر ہیں ان عمارتوں میں بڑے بڑے دما تراورسوروم ہیں سب سے ناپاکملیں میاں میں واقع ہیں ایسی تجارتی مراکر راره مرا ڈرگراد اور امرکات ہیں ان میں سے اگر عمارتوں کی تعمدت در داکوں میں ہوئی ہے بال روڑتمہ کیسے اور سورت ٹرک پاکسار کے ہر بڑے شہر کی طرح لاہور میں میٹرکٹرول کالام مت کرور ہے۔ السا محسوس ہوا ہے کہ عوام کو ٹرک کے اصولوں کی پا تو کوئی وارکاری ہے اوریا میں کوئی رواه ہیں۔ اسی لیے وار ٹرکوں برساتات اگر ہوتے رہتے ہیں۔ کاشتکاری پاکستان سے دوری مرداں میں سر قصور کی ہے لنگر سعی میاں میں کوٹ قالی دگر تری ہی ہوئی وار ہوں ، چاول، گئے اور کپاس کی کاش پیسے سے مروی ہے ریگراساس ہی کاست موی کوتوں کے سائے میں پر دستیار ہے کے یہاں میری آمدی میدیا میں ہی استان نام کیا۔ امیر جمہوری نظام کام کرتا تھا دل ہی دل مینس کے ایک سالہا سال عوام کی لگائی اور ترجمهوری آماری کی واعطارا۔ عدی را اشغرک راهور آمد شری سویرے ہی سفر پر رواہ ہوگئی تھیں بعد دویمنعقد ہونے والی تقرین قومی اس وقت ہی وقت تھا اورایسے عمل کیا تاکہ سے لاہور کے اندرونی علاقوں میں گوموں گا وہاں کے لوگوں سے لوں گا اور یہاں کی شورای ادرسهای زندگی کا ہر ہ کردوں گا ۔ شکار ہوکر گھر سے رواہ ہونے کی والاقمشہور پاکستانی ار افسار نگار اور ناول نگار تردید رامیر اٹلی میں آ گیا۔ وہ لٹویام اسلام آباد سے لاہورترف لا ت اور ح کی تقریب میں شرکت کرنے والی مس عدراصورسے بلے کی بمیرید دیوانہیں بھی میداہ قبل تک وہ لاہور کی قیمتیں اور سہورادی در دماهای کلسی کے دماغ میں ان کے سوالکامل سرکاری عہدے پر وائر ہی لاہور سے اسلام آبادان کی ٹالسمو کے انت غدا موکوی لاہور کردیا کہ اسلام کا تستقر ہواڑاتھا ۔ اس طرح کلیه لکوں مدیتی اور الہ یار دگر سوپ رہاتھاتواس روی ماہنامہ سر کر نیر منگریس کارول کیا تھا۔ ایک فون سے غد رااشرے مری خط وکتات کی اور گاہے گاہے تلسی کے سینے میں لکھایا تھا اسی عد رامو کی لاہور میرے لیے ایک دوسری کتی۔ عید اور اس میں سوارکاری کے بعد میں ایران کی پیدائت دہلی میں ہو گی اور اسی طرح این هم کیر میں سے ان کے دلوں نے ساہ لگاؤ اور منت ہے۔ اس طرح کی عراق نت کا ہوا ایک قدری اس ہے اور انساں کی حد باقی کمروری بھی میں میترای حد انیتے کشش سے پاکستان میر موتورھا عدا اردو کے علاوہ میانی راں رکھی گئی ہیں اب تک ان کے سوتے امامان تابع ہوچکے ہیں نیت و نو آوری تاء ان کا پہلا افسانوی محمودی ہے ان کا ایک اوں - دل کے رستے انمول ہواہے اعصااے کٹی عمر کی بالوں میں برترین و پیکے ہی ۱۹۹ کے بعد جولوگ اردو ادب میں لکھے گئے اور ان میں سے خریداروں نے ای هام میاں میرا کی آں در تریا ریلی سے ہوا اور کھانے کے بعد ان کی حالت میں ہم پاکستان کی ادنی سیاست می میں کرتے رہے ایسی سیاست میں ترنریٹ کی کوئی دلی میں تھا اس لیے وہ کسی میادی گروہ ندی کاتکار ہوئیں پرٹارکے لیے ان کے دل میں اترا متقا احترام کاییده و وادی کو ایک طرااساں ساتاہے۔ میرے دین کی جو بتادی آ۲۹ مصوری کا دن تھا۔ بھارت میں اس سے بڑے تہوری ریں کا اوم پوری دھوم دھام سے مایاتاہے آس ترین ٹی کوئی سرکاری پیالے میں لاہور سے بارہا تھا اس کے دن اور رویہ میرے اسرار میں پڑی میرل کا مٹی میٹل میں ایک بہت بڑی لری تقریب کا معیار کیا جانے والا تھا۔ تقریب رائیٹر اسد اٹلی میں ورم آف پاکستان کی طرف سے معقدکی ساری کی جس کے لیے نہایت املے پر انتظامات کیے گئے تے ہور مورب دھوٹی گاڑھ امیدوار ناصر خلدتوں سےتعلق رکھنے والے لوگوں میر تیم کاگیاما دوئیں میں شاعروادی كان والمستور علی اور ٹیلی ویر متحصلات اور ایسے بہت سارے لوگ تھے بستری ٹی نے اعتراف کہا تھا کیا ہور میں اسی ادارتقریبات کا انعقاد کہتا ہے اس تقریب میں ترکی ہو کی سر دیوار کے اونو راں کی چوری کر لینا ضروری سرکاری میٹنگ کے سلسے میں ہیں لاہور سے مارا انتقاد روانگی سے قتل مسکراتے ہوئے انھوں نے کہا تھا۔ اینتر آپ کے نے جمہوریت ہے۔ مار مار ا يخص المان محاکہ آج ہی دے دوں میرے دیں کے سہتہ اورگاؤں گاؤں میں یوم تورت ماامار ہوگا اور ایج ہی کے دل ہاں لاہور رہیے اسرار میں اتنی بڑی تقریب منعقد کی جارہی تھی۔ امکانات و صورتها بجانے کیوں کے ایک عجیب سی توی کا اظہار ہو رہا تھا۔ اسے میرا سرلدواجارہا تھا میں اس سال سی وای مصدر طهارمہوریت میر کی ہے جس کی تکراری و بہتر کیفیقی آزادی ہے اور کا کولرگران تمام عالم میں اسی سال سے اس کے سیکسی باکماں تو ہارے ولیوں کی آبادی کے ساتی وجور میں آیاتھا وہاں اتے ہیں گرانے کے بعد می مہوری رخام قائم ہو چکا تھا اس کے عوام اویسی کی باتوں میں بھی ایسی ہی ہے ا کی صاف گوئی اور گہرے مطا کے کیتھلک وائی طور پرتی دہی ڈاروریراعات الوری دیدی دوستی سے گہری اور سے لوت ہے اس کی عالم اورخیرہ انوں کے لئے بہت متاثر کیا ۔ ایک ماری ہے کہ ان اکانورسمین ارلی ولوم ہے اوراد یہ ہے کہ ایا تا کیوی مرے جال میں ندیدیدای مورد امام ہیں کی وادی امور ہے تو کے تصور میں نہایت دوستی اسلونی اور سہایت ایمان داری سے سرگرم علی ہے سام کے سائے ڈھل کرا دیمروں میں اسے نئے اور میراں اداروں کو علی کے سالوں و روشیوں میں بدل دیا تھالیںتاری گفتگوی سلسلہ برابر جاری رہا تھا اسی دوراں ہم۔ باروں کی کمیٹی کی دوسری مرد ڈاکڑور سر آغا سے مخاطب ہونے والے آئی کے اراور اور دوست کے سوال سے لے کے حوا ہوں گے لیکر رماح ع ہی سکے کے لیے معدرت طلب کی گئی۔ میرے لیے در کی بات ہی کیا جس کے دل کا ایک ایک لاکھوں سے میرا ہیے ورگرها تھا اور رویہ سے اور بھی ہمارے ساتھ مختوں کے لیہ کے پہلے تسلی که سردیوں میں ووکیں سکراتے رہے اور کھرڈ اکڑور معاور بودند ایسی گاڑی میں مجھے توی ایشن کے سینے کے بیٹے کے یہ میرے سانترہویے نمودار ہوئے تو ڈاکٹوریزیا سے بڑی محنت سے گھر سے بغلگیر ہوتے ہوئے کہا عمارت میں خراج کوں کے بعد اب روسیه ادیانی حصے میں بے حد متاثر ہوا ہوں ه ال المال میں پیار کاکی اگر تھا۔ ایام کیسے مانگری تھی ۔ اور اس علم انسان کی عظمتوں کی بھر پور فلکی اینگل کے رول اور خدمات کے الجاسکے لیے میرے پاس ماسالعا طب میں تھے۔ میں اس کا ایک طالب علم ہوں ایک عام انسان ہوں اکڑور رآهامت ٹواری اور بہت ہی سے اساتي سمحی ایام میں کریں گی ایمان انھوں نے تلاشی کر لی تو اسود راست مشتری دارد سرعة کے سینے میں کا لکھا ہوانگی سے ہار گیا وہ اس کلام ہے ایسا کہ اس کے پیار نہیں فول رامی لگتاہے حتفها ڈاکٹر وریا عا الوردیداور تمام ادارے کو فتح کیا تھا اوراولی گفتگری مشهور نقاداورشاعرسهزاداحمد ویدہ ہوتے ہوت ستور ساع اور نقادحار تهراراحتتری سے آنے اور اتوکاسلسل برابر جاری رہا تہارات کے دواسارای کی مدربي میں آنکھ سے کیے ہوے اک تک کی پاسد سے ایچی ہوں اور میری نیت بھی بہت ہے کہ میں مدرسے کی آنکھوں کے ادیت السارمیها میناروں میں رہے گا حماب الوسرسید سے ملاقات ڈاکڑور برآعاصحاب الورسدید کورواریوں کر چکے تھے اور دوپہر کے کھانے پر ان کی اند کا انتظار تھا حب الو سیدشریف لے آئے تو لوگ کھانے کی مر ریل کے۔ دوسیم کے لیے اور کر اسے فارغ ہوکر ته اداحمدیے گئے۔ اس بات چیت میں ہمارسات الوردي ترکی ہو گئے تھے۔ الوردینے سے امیر ہیں اور کیا مانتی میں انگر کاسمیٹے سرکاری عہد پر وائر ہیں اردو ادب کی تکلیں موضوع سر انھوں نے پی ایچ ڈی کا مقال لکھا ہے دوروں سے رامادوں کے مندم بیرحمی سے متت میت سند کے موضوع مر ہیں ۔ اکھوں ےہاں کہانی لکھی، امریکی است یکی، طرومزاح میں تالے خطوط ہی کا نہیں کی وہاں نہیں استائے بھی کئے ہیں اورسدید کے باک اور درپی در کارهای موجودہ عہد کے اردوادب میں انھوں نعت گوئی وے باکی کی روایت کو ۔ صدرندہ رکھا ہے کہ اماک سااہے اور ان کا قلم کر رہا ہو ۔ قطابلي رال کی بات کے بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں یاعالمیری
19
مجھے ایک بھی سرادکھائی نہیں دے رہا
ای می بانسری کی عمار
پانی کی اگرکے ہی کھیلتی ہوئی بستی ہرنی کی رکھیں
کوئی ایک گیلا سوی الی نہیں ہے
روان را گراوروں
عراق کی اور یہون کوک می ریدلی ہوئی پڑیاں
اور میلے پریم تیروں کے ڈھائیے
درختوں کی لاشی
بالوں کی اڑتی ہوئی دیاں
مرے رستوں پر نکھری ہوئی کی کھلی کی ہوا کے سوا
دور کی کھیں گے یاں رکھی ہیں دسرها -
اسایہ کاسامها یا قزلباش
یہی کھیرا سا اور پیار کرنے والرساں مری رو مرو تماادرک ابررساتوی، کد
می کے کام کرتے ہوئے دور کے دام میں سے تھے میری رحلا۔اس دوراں کے میں نوجوان
ایسا لگا رسیم آیا فرداش کے ساے رستے ہاری طویل باتوں میں ترکی کیا ہوتے رہے سلیکٹر
دریاع کے لیے نہیں اور سلوراستائیہ نگارا ھوں ے یا ایک امام اور مقام پیدا کیا ہے علمایا
افسانوی موی ابھی ابھی شائع ہوا ہے۔ انگور کی بی اس اکائے سرورق مرا اشفاق احمرے
لکھا ہے ... مسلم ایورسے گا اور اس عہد کا امات لگا رہے اوراس کی سوتے میں وہ
تمام نامی اپنی ساری وماستوں کے سات موجود نہیں مودیامر کی پیداوار ہی
سلیم کیاتی معاهدات متائث اوراعتا رہے تو ایک بہرادار نگاری ہویا سی۔
.
f کرد پیراماکر پینے پر بورت رات کے اوتو علالت کےاعت میں دل کا سور رنگا سر اور وزیراعاس لیے کوالیتی رہ گئی۔ خواہیں اسے پوری ہون تھی اور یوں رہی میں سرم تقاس سے سو سے ڈاکٹر وریا عالے ڈرائینگ روم میں مرد میں تھا اور ڈاکٹریاس کے استکا برای احساس نہیں تھا اسے درمیاں ایسی داری کی امیں ہڑمیں بھارت اور باکماں کی میں ہوئیں۔ ادب اوراریوں کا ذکر ہوا۔ پاکستان کی ادنی آٹ ہوا کا دریا ہوا کی ادبی اورآرا گلا کی توی کا کرملا۔ بلراج کوٹلی، سوگندر پال کشمیری لال د اگر رام لعل اور کئی دوسرے مارتی ادیوں کے قلیقی سریر تارلحالات وایی پردہ موضوعا ری مارحیت کا مواں ساتورو دوستوں اور رد ادموں کے درمیان کی ہو سکتا تھا۔ اور اس دوراں بار میرے دہی میں دھیمی آوار الیس قداور وسلم کا یہ ٹاساں حمل روت لے کر ا کا ایعلمتاع های نثار اوراک الستائیدگار اس سے الگ اکسایاساں ترے اسے اپنی عقیدت ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹوری ما آن قلمکاروں میں سے ہیں سوائے عہد کی تاحت ملے ہیں حالا علي حواسے ہمیچ دیا ہے ک لٹھے والے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ان وہ تو ایسے عہد سے ہمارے ساتنے ہیں اور دوسے وہ ن کے حوالے سے ان کے عہد کیا جاتا ہے بے طقے میں تامل ادبی کسی کے ادب کی موئی قدروقیمت کے تعین میں مدد دیتے ہیں اور دوسرے طے میں تالاری اپنی رپردستخلیقی نوابان اوردیگری انفرادیت کی وجہ سے اسے عہداور آنے والے عہد کے دیساں رائے کی علامت ہو جاتے ہیں اورادنی روٹیاں انھیں کے لیے ایک عہد سے دوسرے شہد کو منتقل ہوتی ہیں اور یوں اکھیں کے حوالے سے ان کے عہد کو یہیا جاتاہے اسی لیاط سے ڈاکٹر وزیراعا ایسے عہد کی یہاں سے ہیں۔ ڈاکڑور یا ملک کے اندر ایک یا دور کا انساں تاہے ایک ایساساں ھے انسانیت سے ہے اور سے تنگ سے تند مدلهرت ہے جس کے دل میں پیار کا ساگریها ہوا ہے اور سی کے دنوں میر مدگی کی جملہ ہے انھوں نے ایک ایک موسم میں جنگ کی ہونا کیوں کا دکھتے ہوئے لکھا ہے 92 ڈاکڑور پر آیا اردو ادرک کا امام ہیں کے کر کے بھی اردو ادب کی بات لوری نہیں ہوسکتی پاکساں رواہ ہونے سے تیل میں ہے سرگودھا کا درامیابی حاصل کیا تھاکڑ اکڑور پر آغا سرگودھا میں رہتے میں اوریری ان سے ملاقات کے لیے ہے سرگودھایا اسے رورور قلڈ اکانو ددے نے اطلاع دی ایک میں سرگورهایلنے کایر گرام۔ سماوں کون کیسے لیے اور میرا کا کارمیام ہے کہ گھر سے لے در محور ی کو یہودی لاہور تشریف لا رہے اور حصور ہی ڈاکڑور رانا کا دوں گا کر وہ لاہور کے ہیں - اورتیں اس کی کو من واقع لاہور جا وی یا ہوں اس وقسم کے لو کے اور ساڑانواری میری گاڑی ڈارور را یاکے میلے کے سلسے کڑی چندری لمحوں کے بعد الماس در در وارے وہ مرد موتوریئے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو اسی انہوں گھر میں اسے ایک دوس ع گر ہو عمل کی اس گلی کے دھرے لمحوں کے سگی میں ژوے یار کے پیروں سر پر وار کر رہے تے اور پیار کی پروار کے یہ اصرار دالیں تیمی ریاست ڈاکڑور سرآغا سے مراعا ما عاری سہ مری نے پہلی بار تو امام را دوا نہ شاعراوراں نگار رام مهدی علی ماں مرحوم سے دوسری پارٹی میں ملا تھا مانایه م ۹۶ 19 کی ات سے بڑا اور برا ماهی میگم اوریوں کے ہمراہ ماری تری لانے کے اور مٹی میں رام مهدی علی سال کے ہاں عمیر مینیاتور اور اسے بتایاکہ بہت عقلی ڈاکڑماح برصہ ہیں ان کی ان کے بارے میں تھے علم ہوتا تو قیامعته دسر ورق ہی مٹ گیا ہوائیں استصاب کے قیام کی کہایا دکتر نوروری سی شک رام مہدی علی خان نے لاتے رہے اوراسی طرح ڈاکڑور مراسما سے مایانامه تعاریہ وانا لدماں گاہے اسے خط و کتا بھی ہوتی ہی اوروہ رسار اوراق کے مارواتے رہے اسی دوراں عمارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات ریاد کشیدہ ہوگئے جنگ ہون اور ڈاکا سلسلہ منقطع ہوگیا حطوتها تسد ہوگی اورقه امید ہوگیا تے معائرهسیب وبیرہ کی دوست ارسال و سه مام ستة دہی ملے د ہوگئے اور اس طرح بہت سال گورئ ۱۹۸ میں دہلی میں عالمی اردو بیمار ہوا اوردیلاکانمار میں شرکت کے لیے تو اکتای اویوں کا ودارت اسے اس کی تیارب ۱۹ بھی کیا اس طرح ہاتلة اساب دوت کی کاروان معمول کے طالت میں ہیں انکالا۔ پڑھاگیا منظم اور میں کی گئیں اوراں کے قتل بیلووں میل کریش ہو حال اویدراتانک نے لاہور کے اسے رائے کی دیی راستوں کا دکرکیاہے ویسی ہی ایک اداراورکھردراری حمل میں ترکی تھا بعد میں میں نے اسے تاثرات میاں کے۔ ایان ماانا۔ مکھی بیٹا یاسری کے ہوں میں اس کے بارے میں، بھارت میں ردوار کے ایسے میں اورشرے ارے نیار سوالات کے جوانھوں نے یوسی اور میں نے خواب دی آج کی اس رپورٹس میں حیا یا ماں ، سعاد سعدس رضویه احدی رواں کے علاوہ عمات الیکساں نسل اس میں ہم آوید، ما۔ اکرایاری، اصلاق مسن حلوی ، اگر متنی است رانی، سیدمصارح عالی است کاٹھی اور بہت سے دوسرا وتواترات ترکی کے اورتی اجلاس ستم بوالورت کے دل کر رہے تھے۔ اردواوربیحالی کے شاعرحسن موی ای گاڑی میں ہے سامری کو وائیں بھی دیتی کی ہاٹ سے گر کا لیسی کا سلسے سی وی کی گاڑی میں میں کے ہلادیا تاینیں پہلے کی دکرکرچکا ہوں کس موی سینے سے سرور ہی پاکستان کے سست طراحان جنگ کے ادنی سکت کے مارے ہیں اور سکن اردواور پانی میں لکھتے ہیں ان کا تھا موجودہ دور کے ممارساتوں میں ہوتا ہے ان کے سوی نے مطرعام پرآکرمنقول ہوتے ہیں بھارت کے علاو پخصی، دوسرے مانگا سودہ کر چکے ہیں۔ان کاملت متمو انکے وقتوں میں اسال سے سنے اور اسی دھری سے حدمان تیار کی دوڑ کوں اور سانسوں مگر یہاں سے اسے وہ مجھ سے باتیں کرتے رہے اورمیں اس کی سیدالیکی ادباری تعبت سے اترتارہا۔ اتنی ڈاکٹرویر عاکی ادی فقط نگاہ سے کر لی ۲۵ موریکوں کے لیے ایک اہم اور ارگاریوں کا۔ حلقة اران در نشست نوادر پاکستان کے بڑے شہروں میں ایسے اولی سلة قائم بیان کی مراه با قاینٹیں وی ادیب اور تا زاییکتاتار باتیں کرتے ہیں اور پیروں تعلقاسمر کر محب ہوتی ہے اس کی ترقی اور لکھے والوں کی سومار را لے بولت 6 اتیا کام کرتے ہیں ایزی لکھنے والوں کواوی|تور روتے لکھنے کی ترکی حامی ہوئی سے لاہور کےادی حلت یہ اپنے وقتوں میں کے حقول احمدسنگھ میری برتر میدید ساحرا ور کیانی کی اور علاقوں کے بارے میں شاکرتے کتے اس زمانے میں بہت بڑے بڑے ادیب العلاقوں میں سال ہوامی تعلقات بڑی اگر ة ال پیام نور کارتنقید بھی ہوتی تھی اس ماسدی ها قلمکاروں نے ہی تقلیت کی نشستوں میں پر میں اور بعدی اینجا کلیماتشابهة سیاست میں ہی ہوراریحا او در ماتا کے تولیے کیسوں میں لاہور کی اناری دستورالطوریان دکر بھی کیا ہے۔ لگ بھگ ساٹھ سے میں بال ہاؤس میبیا تو صدر دروار سے متعلقہ اروت کے جنرل سکریٹری اوشہور ایسا لگا رو پر ویسارت در استاری کے لیے تاریخ رویای دی سینس کے دارای وی اور رور امت کے سر ریور ابرار احمد میاں موتور کتے کی اس کی ای مرلے کاال تاروں اورارتوں سے بھرا ہوا تھا اس میں بار بار و تعارے لکھنے والوں کی تھی کلی راسې حواستیں تھانے دوں مجھے اطلارا دی تھی کو بھی اس اجلاس میں ترکی کریں انہیں یہاں سے بری املاک کی اسامی وجہ سے وہ امر ہیں ہو سکرگ بیانگری میں اسلام کا دیا ایڑاا پلاس کی صریحا سجلالی کرانے کی میں گوردار هرمیں لوگوں کی اور ماں کا امریں کی تو ترقی کردار کے اکلاس میرم اپان کا سایہ پڑھ کرسیاں اوران و مرد موستا سیرت کی سیاسی لیکی نے امری که این کار روانی معمول کی رات یا مر کر مر بھی ریہ سکور ہم اس نور کرے کہ میری اور فری ہار مانے اور ماہرین سے بات محبت کرنے کا وعدہ ۹۴ گھی تبادلوں کے قریب واقع ہے اس میں اسکائیل بیول، درختوں اور مردوں کی مار ہے۔ اور یہ سب اس کی خوب صورتی میں امام کرتے ہیں اترنے تھے تاکی و نیکی کا کون سری کوئی دوسری بڑی تحت اکمال میں اتری دور ہوتی ہے وہاں کے امرار مس سے بڑی سرکاری تقریب لاہور کے اسی سالارباع میں دور کی جاتی ہے گدستباہرمیں صدرپاکیاں عا۔ ا اط سے کام ہی میں بھارت کے در واعطاب را حرکا مدعی کو پاکستان آنے کی دھو دیتی تواھوں سے ۔ دلوپ تول کر لی ترین نے امید ظاہر کی تیا کراوماح عمری لاہوتشرب لائے تو روایات کے مطالق اسی سالیار مایع معنادار سرکاری تقریب ہوگی ست السه ہوگا اور سالارباع کوانکے بیاس رس ہو گامت ساید سهاراوم ہوگا سرلو رنگ سرینگے کھول کچھے دہرائیں گے مصنوعی رویوں کی قیامت کی عادی نکھری ہوئی اوراس کویر کو ئی نویلی واپسی کی طرح سما سورا ہوگا۔ مار کا وقت ہور اتا ترین مارادا کرنے لگی اور ماروں میں قدرے میں بتاوں سے لطف اندوز ہونے سے مار سے فارغ ہوکر ترین بیمر پارے ساتھ بولیں تالار اع سے ہم لوگ رسی کویارک کے لیے رواہ ہوگئے کی رائے میں پریس کورس کا میاں اور ہانگھوڑوں کی دوڑ واکر قسمتی اسلامی کو مکے مار کے بعد اس میریامهدی عائد کر دی گئی اور اس ہب ہے اور گلے مردوں کو کتوں کے مالک میں تبدیل کر دیاگیا ۔ یہاں بڑے بڑے انہیں متولي میں ہیں اور یاسر رFibre )کا سا اک دل کت آسارہے تین کی وہ سے یہاں بھی جنوب مبل سلامتی کے سواں اور لوٹے گروں سے نکل کر گئی دعاؤں میں پلانے کے ان کی تصاوں کی دلکشی سے نہیں تھی میاندھ لیا تھا۔ سامنے سے ڈھیلے گئے تو ہے گمری ریڈر کا میرے سام کے گھر سے میرے تھک گئے نے لکی مھے بھی ایک ادیس بن ہی مرہواتھا۔ ان ہاؤس لاہورمیں حلقہ ارباب دودی مرد بیمار اراک اجلاس معقدا لگایا شکریہ کا ہاتھ رہا کر دیئے اور میں امی کے اجلاس میں ترکی کے لیے رواہ ہوگیا ۹۳ مگر اس میں کیا اور رات دی میستورا ہیرے کی کستورا ہی ریاست کا دار بھی نہ تھی۔ ورق کی طرح معدے حمایستادا تیوی اورحاب احمد دعا کی ہے ایسے ماموں بڑے اکھیں مشابہت سے دوستوں سے ملاقات ہوئی اور سام ڈھلاکر لوٹ آیا۔ آج کی سامنتری اوریوں کے مل گرسما برداری اور سی ہوٹر سنگینی میں رات کا کام کیا۔ امریکی ساحت ۲۳ مورینولی شکر وار دریا پاکستان میں سے اسلایط تکومت راغے والے تا در می آمارے اتوار کی جائے تے رور چیٹ کرنے کا سلسلہ جاری کیا ہے تعلیمی ادارے یک اردوائر، اراروغیرہ یکساں میں اتوار کے رورگار ہے ہیں اورنہ کوئی سائی حالے تری سے مالی کی گی کر کے دور میں ایسا کوئی پروگرام۔ ساوں کیوں کرتی ہونے کے ماعمرے اورتون سال کا ہو گھر سے کا مر گیا تھا صح ماست و عروسی بارے چہرے کے ایم اور ایل تھری کے موڑ ہیں اور یک میلیے تمام ساروسامان اور لوارما کے سات گھر سے دل مٹ بارایا اور بڑا ٹاؤوورهzo)تھ اسے عام طور اگر کہتے ہیں ۔ دیگ لاہورسے میں قومیٹرابرار مرد کی طرف ہے اس کی ریکی کال کی درداری یک گلاسے سنبھال رکھی ہے ریگستان میلوں کے تھے میں پھیلی ہوئی ہے، جہاں دیا کر کے ہر طرح کے عالورمو حوریں متلی نسلوں اورشموں کے کئی کانورتور دگی میں پہلی بارمیں ہے وہاں دیکھے۔ یہاں ایک مصنوعی تعیل خور مورتیارک اور بیلوں میں بھی اس کے تدعتوں کھانے کے لیے چن روک سیہون میں حمد کی تعطیل کے باعات یہاں کا فی رسی تھا میں گھوم گیر اس نے کوردکیاہواترتا ٹخنوں تنگ عملے اس نے وادی میں امرا دو گھورتے رہے۔ قدرت در مورتی میں انسانوں کو ہیں کہاں سے بارہ انوروں کو کی عطا کی ہے اوراسی تور مورتی کومائے رکھے کے لیے ان کی ہر طرح سے بہتر دیکھ کمال، رورتیں اور برادری کا ماحول سائے رکے کے عام انتخابات کے ہوتے ہیں دویم ہو گئی تو ہے اک پارک میں ایراڈال لیا اور کھلے پینے کے لی دلواراتامرالیتے رہے۔ ہارروسری از سالها باعتنا معلے دور کی تالی یہ ایک تارینگے تو لاہورہرکی ہم قادرا علائبریری میں ہے تواسم قریتی ماست استانی کا سے پینے بی ایریگیٹر میں ایک عمر دکھائی گئی میرے لائر بری کے بارے میں ہر طرح کی جانکاری ہیں لی معیاراں وہیں مختلیتوں میں لے گئے اور ہتھے سے متعلق کتابوں اور دیگر امور کی یادگاریامہ تعمیر سے ہی سیارے لالتہ ایک تادرلاشر ہیرے اور یہاں کا نور احرلورر اسے تربیتی مت کے دور میں ہے رنگت یا کامراھی لیا حکم روا ہونے لگے تو انھوں نے ویٹریک (visitors book ) میرے سامنے رکھو دیتا کمی ابی تاترات کر دوں اورمیں نے کیا کانوں کی سنت میں رہ جائے کوئی جانتا ہے ہیں پر ہماری ملاقات ہو میان ادیب اور علم ساربار جواد احمد اس کے پیارا بھائی ولی تصورلیحدراتی ہوئی اوران کی دلچسپ باتوں سے تعطلها دور ہونے کا موقع ملا حاب اسم دیتی اور ایمان کے سارے ہاں اک ھو رھی ھیوای العدووی پڑیں مرلی کا ٹیسٹ میں ایکاری تقریب مسمویت کارگوت مام مجھے اما تقر کی تا کی میرے سینے میں ایک ہوٹل ہے پری پاک کی ویسے تقری مورخ ہوگئی ہے وہاں سے سر کے ہمراہ میں گمراگا۔ ایک اورادبی تقریب آج ہی لاہور کے ایک نمودار ہوں میں ایک اوراری تفریق کی گئی تھی ویترستر کے تار مزاح نگارسری مری مرحوم کے سری نمونے بشری تقریر کی رسم رومانی کے سلسے مت مشہور اردو اور جای تاسان رضوی نے مجھے اس تقریہ ترکی ہونے کی دعوت دی تھی تاگیا اگر اس تقریب میں مشترک مووی ارس و رام راجااتهاو او روحانی گوی مهموں میٹھائیں۔ اس کے علاوہ بہت سے دوسرے قلم کارحضرات کی آندھی متوقے اتمام این قلم صرت سے انکیتا ملاقات ہوجائے گی ، سه سوتا گر میں دعوت قبول کر لیتی لیکن اسحاق احیا و یوکان تقریب میں تربیہیں لاسکے اوراں سے ماقات کی خواہش پوری نہیں ہوسکی لیکن بعض دوسرے ارب دوستوں سے ملاقات مرورگئی اس سامارتفری کی اور مشہور سانو ومص احرص کی بارینتر الگ الگ مو و مانتے ہیں ۔اسی طرح قلم موضوعات سامس، لسد یکسانوی ادب ووکے محی الگ شے ہیں کتابوں کے علاوہ لائبریری میں ریکارڈر Records اسکرو دلم رنڈر (Micro film readers ، ویڈیو سوشل ( video material اور ڈیوورول ایدز Audio visual aids ، بھی ہمیں کمپیوٹر اورٹونٹی میں گیا یہاں اس میں بہت سا تاریخی وادی دی رواں سعد ریاستوں اور طریقے مخلو ماکیاگیا ہے بہت سے قدیم اورتوں کو ائیر وال کی مدرسے محدود کردیاگیا ہے اليسی هزارکتانویاد خيري تا اعلاٹریری میں اس وقت انگریری اور دیگر تدبر بالوں کی پیالیں ہرارے ان میں موسمو دیں اوریگامی ۱۹۸۲ سے ۹۸۲ تک کی قلیں میں سے کی گئی ہیں اور ایام سوالوں کا امامہ باقاعدگی سے کیا جاتاہے فی الحال لائبریری میں ایک لاکھ کتا کھیے کی گیارہ اس وقت لائبریری میں مختلف ممالک سے مختلف موضوعات پر سموسے رائدیلر اور ترید أقاعدگی سے لگوائے جاتے ہیں۔ ایسے میترسانے اور خریدے امریکہ اور برطاس سے منگوائے جاتے ہیں میں کی ہوئی تعداد ڈیڑھ سو کے قری، میر، کناڈا میں، ہانگ کانگ نعمانی مایلی، روی، سعودی ور وغیرہ بہت سے ملکوں سے رسل وغیرہ بھی یہاں آتے ہیں مالک سے نور برای احیاریاں منگوانے کھائے ہیں اس میں بھارت نتائج ہونے واے احاراب- دوستان امری بدو امرا اذان اورادی لکیریں انسان ہیں مارا عطل اثریریه حواس اورتوں کے لیے لیوسکتی عوریوں اگر میں اسلا کے علاوہ محبعاد دیگر لومعاشات کو کری ویروموسوعابیر کو عام طور سے رکھا گیا ہے۔ اسی طرح بچوں کے کشمیریوں کی بلی کی دو صورت اتفصویر تمام موجود ہیں اس کے علاوہ کیسیٹ اور میں کی ہیں میں سے ہی دل میں لیتے ہیں۔ الیکتیکی رنگ رنگی سجاوٹ اور کتوں کے لیے خاص طور سے تیارکردیاگیا آرام دہ جمہوریت میں اس کی ریکی کال عوام کے و عات جوملحیمحابه تمی وائر الطائریری ان سیاح لاہور میں ایک دین اور نامدارعا رب میں واقع ہے اگری حکومت کے رائے میں یہ تامدار عمارت بیماری کی تھی وہاں دوباتوں کا راج ممنوع تھا کم قیم اور نام استعمال کے بعد سات قائم رہی لیکن اس کی کسی سوسانٹا کے اویل تک محدود رہی کہ عام آدمی کے لئے اس کلن مایا اور اس عمارت کو دیکھا ایک خواتی اتیتی در بر علم کی حکومت کے جانے کے بعد اقتدار مارس الاسلام کے تحب مایکت حمام عالیہ سیال تراھورے با کمان میں اسلایر کی تکومت را غ کرنے کا قصد کیاور کہ میں بہت سی تبدیلیاں لائی گئیں۔ اسی مدلی کے تحت میار کل کو تم کر کے مٹی ۱۹۸۱ میں اس تالارعا میں قائد اعط لائبریری کھونے کا قصایانه ای در سرباوکلتوریں اس الائمری کی ریم اقماح مدرضائے اراکی۔ ہماری ایک کلاسیکل آرٹیکر کا نمونہ ہے اس لیے اس کی تیاری تنان وسوک اور ورصورتی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ۔ برطانوی سامرہ کے رہائے میں سویں صدی میں اس عمارت کی تھی کی گئی تھی جس کی شان وشوکت کو برقرار رکھے کچھ دوراتش کی گئی باتیں ساتھ ہی اسے ایک اٹل لاٹریری کاروبھی دیاگیا ہے عمات امنیت ایک تیرے رش گا اور اس کی میت چاوی بینگ موتورتر پینگ قوی وتیوں کے دل تراوس آوران ہی میں چھوٹے اور طے میں امسال بی سکن لائبریری کو ہتریں ویراورتالوں کی الماری اورتیلیوں سے آراستہ کیا گیا۔ تاندر علم لائبریری کی خوبی یہ ہے کہ میاری طور پراسے روعوں میتقیم یا اشتباه الکتریسرچ اسکالر کے لئے ہے اور دوسراعام وائیں کے یہ دونوں موٹے شیعوں کوتلمسانوں میر تقی کیاگیا ہے لائبریری میں بیک وقت دو سو سے رائدا وارمیٹ کر مال کر سکتے ہیں۔ دی اسکالر کے مال کے لیے عام انتظام کیاگیا ہے کہیں میرے میں ہیں اور میں انڈا سکری کے لیے دینکوں کو خالی نشستوں میں اشاگیا ہے تاکہ دیگر مل سکے اور خوش گوار نہان میں میر کرین اسکالر مطالکرسکیں اور لوٹ موٹروے کی لاٹری میں اسلام پاکستان اور اوٹیں ٹیچرکے ۸۹ انتقالی تعلیم کے ساتھ ساتھیوں کی دل میں ایسے کاموں میں ہویاہے نے سکی دایی شوق ہی کے لئے کیوں ہو۔ اسے باتوں میں ملیر مدگی کی رتہ داریوں کا احساس ملتا ہے اورای اس کام کے کینگر پیدا ہوئی ہے۔ احساس اونگیر مدگی میں وشواس اور قوت ارادی پیدا کرتے ہیں۔ اس سے ہوسے مارا کے ٹاور کانگری میونیکیوں کے رنگ برنگی توڑیوں کا ایک اسٹال لگا ہوا ہاں رگوں نے تاریکی کااشار جوڑیوں سے بھر دیں اور بوٹیوں کا ایک منٹ میری بیٹی کے لیے تھی لطوری منتیں کیا۔ ازیں ہم مہمانوں کی دوا یا اور دیگر روایات سے کی گئی۔ اس موقع ملیں پاکستان تعلنی ڈمان اتعلم کے دیگر سیلوں پر بہت تفصیل سے ماس میت ہوی تھیلی باری پلاک یکساں میں لار تعلیم رہے ہیں ہے اور کی وہاں سرکاری اسکولوں میں کون کو موت تیری ہول ہے۔ اس کے مرنکس کارینگنگ مامونوں میں لاری علم و ہوا اور دسویں سماعت کے موتی کی سرکاری سہولت مترم دولوں نیتوں میں پرائیویٹ ماڈل اسکولوںیعی پبلک اسکولوں کی گھربار ایک کہ یہاں اور وہاں والدیں اسے کتوں کو لیے ان نعیمی اداروں می میرلوانے کو تری دست ہیں۔ بھارت کی طرح ہی اکمان میں بھی ایسے اسکولوں کی بارہ ہے۔ ایسی تعلیمی اداروں کا کاروبار دونوں دنوں میں ایک سیاہیے۔ کتادوں کیتت بائد اعطم لائبریری الامارٹ سٹرمیں بھارتی ادسوں کے الزام میں منعقد تقریب کے موقع پر قائد اعظم لائبریری لاہور کے ایک رتردار مسرت کا نام تھے بارہہ کے لیے لٹریری میں آنے کی رٹ و کیا اس کے پروگرام میں سارا کی تعرکد تریائیٹ سے ہر تائو علم باربری ساماگی عالمنا سعد روی جوان ہے تواب اسلم قریتی اے مہایت گرم توی سے ہمارا استقال کد اساسلم وقتی اثر ری انتطام کے غیر سرکاری کی ہیں اور اس ادارے کی دیکھ سال ان کے ہے۔ AA میرا بار دیگر را در سنگھ بیدی کی ردگی ہی میں سائن ہوگیا تھا اور اس کے بیان قولیت حاصل ہوئی تھی اور ویرا میرے اس ہیں اس لیے بیاورامامکی نہیں تھا۔ میں نے لاہور سیتا وا میں میں کرنے کی بہت کوشست کی، لیکیں رابط قائم ہیں ہو سکا ان کے دلی میں ان کی مقیم ہوتے ہوئے بھی ان سے ملاقات ہو یاے کی نی نی ساهاکیاکتار مرلیٹوں مرور بھارت کے معاملے میں بہتر ہے مگر حقیقت اس کے مرنکسنتی مسیریاسے شک حری تریں بولیں ان بستیوں پر کام کرنے والے لوگ بھی تو ویسے ہی ہوسے پیاس لعی اس سختی اور فرض تماس التیا مالک کے لوگوں میں موئاراومای ابھی مرحلے کیوں دا نہیں ہو سکے اور اسے کیا ہوسکیں گے ۔ میانارارکی شیر ادیاتول سے ٹکر آج ایک ماتریاکمان میں ہوا۔ ہرسال او نوری فروری میں مختلف اسکولوں می: مهارار، لگتے ہیں یہ ایک طرح کی تقریب ہوتی ہے شرمی کی ایک سمت کو بطور مہاں سویدعوکیاجاتا ہے یہاں تفوی انتشار ادا کرتا ہے۔ اسکول کے لیے ایک بار ارسملتے ہیں اس بار میں مختلف قسم کی پیروں کے اسٹال لگائے جاتے ہیں باسٹال کھلے بیٹے کی ساس نے کرتوں کی دل میں کے دیگر استما کے ہوتے ہیں میتر چیوں کے ایسے اقوں سے تیار کرتے ہیں اور اسٹالوں پیراں کی ریت کرتے ہیں کیوں کی دلی کے رنگارنگ پروگرام بھی ہوتے ہیں میں سے ہی شریک ہوتے ہیں۔ لاہور کے ایک مقامی ماڈل اسکول میں طرح کے ایک میبااارکی تقری معقدی گئی میرا اماراتی عمل کو کراتا وہ اس تقر میں مجھے بھی اسے سانتی گئیں۔ طاہرہ اور دس میاں کے ہمراہ تھیں۔ اس کو سواگت کا لایاگیا۔ اور کھان ٹرسٹ کزنترکانتاح کیا میاا بار میں میں نے بہت سے اسٹال سجائے ہوئے نے لڑکیوں کی تیاری ،موں کی شوری، مهدوی کول اکیلے اور ہی دوسری ای نیں انشادروست کے لئے بڑی یقین میں سے سے اقوں سے تارکیاتھا بس مجھے بہت ہویں رالی سرکاری مہدی برای لائبریریں ہیں میں ان کی امداد ساد تحمیت او سارے من موہ لیا۔ تری تایاکرائی اور عورت میں یہیں کرتے ہوں اور تقریر ممارستے ہی میں ان کی تقریر بیٹے کا موقع نہیں ملا جوش آمدندهيد تاكيريم شحاک طرف سی اگر در ۲۳ جنوری کو سویی مهدیان برای محاء کی یاتاح کی طو سے کے امتار موصول ہوا میں پاکستان میں میری پریوش آمدید کہا گیاتھا اور میرے دورے کی کامانی کے کیا دوائی کی کائی پر یہ تہ ورتا اور کالم نگارحات میں امر ہی سے اس کی شکل کی محمد پاکستان میں اس میں امروې اور عمارتین اسکور ہمدرینگر میں اس کے مرماه ہیں۔ دونوں ریوں کے کئی بڑے شہروں میں اس کی سائیں بھی قائم ہیں اس کا مقصد دونوں یوں کے درمیاں اری، علی اورتانی سٹیر زادروشگوار تعلقات عام کرنے میں تعاوں یا ہے ماریں امروہی کراہی میں مقیم ہیں اورلی اور یہاں کولوں میں مصروف ہیں۔ ان ہی تھے کا انماط مطاری سے ایک خطاب راغرکیب موصول ہوا۔ دونوں کیا گیا کہ میں ان کا دورہ بھی کروں ڈاڑتیل عالی دواشی باشد رای بویورٹی ماہنامه ادی ڈانس کے مدیجات صادا ملتا اور تنائومی شاعری بھی کرای میتی ہیں اور تمام دوستوں ملے ہیں کرائی کا دورہ کر کے ان تمام دوستوں سے ملے کی مری یار و یانکی بانک کوئی پروگرام سے نہیں ہوسکالیا۔ افتتاح سعد سے بات نہیں کر سکی اردو کے مشہورادیس حماراح سعد اور ادار نگار تر مریوں مانوس می می مام ہیں اور وہ انکاری مشهد و تلاش کرتے اس کا نام ھی رہی ہے اس سے مس کی اور میں دارالتا ہوا تھا اورادبی حلقوں میں اسے ایک عالی مقام حالتقد دسترس محمدی در سال کاروں سے سایت موس بورت را در گرمای مورتال کاتما AY دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سائرہ بانی کے کئی افسانے میں پہلے بھی بیٹھ چکا تھا۔ مرد بیٹھے کا موقع ملا اوراستے پر بہاکہ سائرہ بہت سی دوسری اس میں اسامہ نگاروں سے قلم طاقي ہیں۔ وہ عورت کے کردار کے ساتھ ھورداق ہیں تو میں یہاں انسانی رشتوں کے معدات کلیاتی ہیں تو میں دور ہیں اور آنسوؤں کی میدانی کیفیت اور تلی حقیقت سے ہم کیا کرتے ہیں۔ سائرہ ہاتھی کے افسانوں میں باقاعدہ ایک پلاٹ ہوتا ہے اور اس کے کردار جیتے ہائے اساو کی کہانی ساں کرتے ہیں کی اس عورت کو قاری پایدار رپر قلم کار کے سانس کیا ہے اس کے اساروں اور علامتوں مئے لوھتے انہیں اسی لئے سامرہ ایک کامیاب اوشولی گل ہیں۔ امانه باورحدة لودفي وعد الودگی اور شاکریبور الصاری تو سرے سے کہانیاں لکھ رہی ہیں اور نواب میں کاتای احترام میام حاصل ہے وحدہ لودھی نے لکھے کی معراور رقاری کوٹ کی نہیں آئی۔ اکتوں کی کولر کون کی تخلیق کارت اور پاکستان کے ادنی تحریروں میں بیٹھے کولیے اور ہر ایک سے احساس کو خم دے جاتی ہے اس مری میں پڑھے گئے وحده لودھی کافایل بے حد متاتریہ۔ تسالے کر کے فقرے فارغ ہوکر سائرہ اسی کے یہاں سے ہیں اوریژری گھر کے لیے روانہ ہوئے۔ وار بے نور کے تھیوے عاری مامان مقطع الرسے تعاب کرتے ہوے انتئے کہا۔ والے لوے پر میں اور اس کے چھوٹے کالی ہیں ال یدالعاطیں کایا میں تھا-کامیار تھا۔ اوراتمحص کام ہوتا ہے خدمات کے اسالیارستوں میں ایک احساس ہوتا ہے اور یہی احساس تو ہیں زندگی کے قریب لانا ہے آئیں نیت کرنا سکھایا ہے مختتامی احساس محتلواسانی بتوں کے روپ مرے ہوں پلایا۔ کھانے سے پہلے کھانے کی میر پر اور کھانے کے لعدرالی بھائی سے بہت دتک بہت سی امیں معروف انبار لگاروں، ادیبوں اور سیاروں نے ترکت کی تھی۔ ان تمام لوگوں سے بیک وقت لے اورتار حالات کا موت وام کرکے سال ہاشمی سے ہی محتا مرمت اورتکلم کا اظہارکیاتم اس وقت میں سائرہ بانی محمود انصاری اورکئی دوسرے علم کرتا ہے بیوی کے ساتھ تھے یہی کانوں کے ٹھیں گے۔ اہرارتی کی واروں کے بعد لکھی کی نوید با مدیرامی تی اندر دیسوں کیت کت لیتی ہے سائرہ ہاتھی کی شاندار مهال لواری اور گرم کریم اور حلوے اہلی روت کی کھر نوروائع کی تھی مری درندگی کی ایک یادگار سام تھی سائزه هاشمی ایک خوب صورت دى شحصیت سائرہ ہاتھی کی تعمیت یکست ہے۔ اس کی میتھیت میں کمی لائی تو مورتی ہے کیوں کہ سائرہ اورایک تاس عورت ہے اس بیان کی کہانیاں عام طور ریورس کی مدگی کے مختل بیلووں کیا کرتی ہیں ڈاکر عبادت بریلوی نے سائرہ ہاتھی کے پہلے سالویمور عمارت کی دیوار کرد آمار میں ہی لکھا ہے ۔ اس میں نہیں کر عورت رہی ہے ریگ سه و آوار ہے اتے اسی لیے تو ستاروں نے اسے رہا کی شاعری سے تعبیر کیا ہے اس کے لیر رہ گئی ہے اور ہے، وصانے کی ہے، اول ویراں ہے اس کے دیود سے تصویر کا سات میں رنگ لاتا ہے ۔ اورانسانی ردگی روتی سے ہم کہار دکھائی دیتا ہے، الکس انسائیت کی تارت اس بات کی شاہد ہے کہ اس کا وجود اس حقیقت کے ا ووداسانی به مدگی کے ہر دور میں انکار ہے وہ اگری مکالمای اهل اطوں پر لکھیکی لگی ترارافلاطوں ای کے شعلے سے ٹوٹا تھری اس کی اس عورات کے اسی ماحول کے لیے اسی معاسے اورتہد کے لئے ایک ہی ہیں کہ ایک پیپر مندی رہی فلموں مگروں، سیاست والوں اور تہد کے علمہ داروں نے اس شئے کو سکھانے کی است کی ایک بیٹا جہاں اوبر کا دیں اور اسے تھی کہ انسانی بریدگی ترقی کی ہے سامرلیں طے کرکے آسمانوں پر کمندیں ڈال چکی ہے لیں اس کے باوجو دکور ہرات میں مخمور اوردورہ اور اس خوری اور دوری کا کر اس کی بندگی کے مد مانی ،معات اوتمهدی پہلوؤں پینگ طرزتا ہے سائرہ ہی سے ایک انسانوں شاکی پیلووں کوختنی راونورت دیکھے اور سائرہ اسمی نے کہا اساس لگاروں کی اسی نام کا قیام اکڑ کیوں دی کی لاہور آمد کیا دلار گا اس تقریب کی فطرت کے خاف امتیار لوہے کی اس میںدرت الطاف کریں تارٹاور وی اور میں افسانے پڑھے۔ اس تقریب میں سرکت کرنے والوں میں تی تی کشور اپیزوال والد، ڈاکٹر عام ہیں، ڈاکتر یوه انصاری، ڈاکٹرسلیم اس روی، طراوی مسعوداتعاسماك سعدانهای قوی، مشاط فاطمه را قوی معمولی دلوی، مگر ابصار عاملی ، امس بتائی و عترت در الطاف، مایر لودھی، وحده لودگی اور دروں روسر القلم مرات تال فتح کے نام سے میرے دم شیر مخلوط ہیں ہیں اسکے دو بیٹے اور سے گئے ان مرکب ہمیں کی گئی بالاتر ہوا تو اس میں اس میں کاسلسل مروع ہوگیا۔ دائی طور پر میرے ماریں میری کہانیوں، اولوں اور ڈراموں کے بارے میں سوالاب پر کیے گئے کارت میں اردو ہندی اوریجانی ادکے قتل بیلووں پر آتیں ہوئیں ید ماموں کو کوٹ کراں میں سے ملت وہ لوگ ویکی فقیر سے ادھار نہ آنے کے لیں عار کے ساتھی کی طرح ان کی دائی وابستگی تھی کئی ایسے لوگ کھی کے قیام کئی قسم کے دہاکے میں ہوا تھا اور بھارت کے بارے میں بہت کھانے کی ان کی دیدیا ہری پور کے مختلف سوالوں کے جواب میں سے اھمکی سوارکاری دینے کی ترکی میں سدت سے کیا کر دونوں طی محنت اور دوستی کا حد یہ موود ہے اور دواوں ان کے قلم کار اس ورغوام دونوں دلتوں میں بہترتعلیات اور دوستی کے خواہاں ہیں تری ئیل، و عمده لودی، سائر مائی مور اداری کشور امد مایل ورد کی ملاقات تحارب کے قول اونی مردوں میں اکتشائع ہوتی رہتی ہیں اوران کے قلم کے نواسے دونوں دنیوں کے دائیں کے درماں ایک ایساعد انتہائے وے حد طاقتور اوراؤٹہ لیکن دونوں دلیتوں میں سے تارانے قلم کار ہیں جو مرد ای دلسر کے مردوں ہی میں لیتے ہیں اور قلم دوراں کے رشتے سے وہ دوستی کے اس رشتے کو استوار کرنا چاہتے ہیں اسی لئے وہ چاہتے ہیں کہ دونوں باتوں میں بالوں اور رسالوں کا زیادہ سے مادہ تیار ہو اور دونوں دستوں کے دریا آئے سوائے کی پاسدوں کورم کے آسان تری سایاجائے ۔ پیداوار میں لاہوردینے والی میلی بنیادی ترقی میں مت ڈی تعلڑیں وہ اسے درست کلید دو اس کا گولیٹیں ملی نمرتال کریں اور اس سلسلے میں روروتو تیاریاں ترور یا ان کی تدا تا کہ اس میں وہ پاک کے تمام مڑے اودسوں تاروں کو ترکی اشاعت کریں اس میمورع پراے مہتمعسل او گوی سے مات میں ہوئی ماهنامه حرم کی مديره طمراد ہماری اور ترقی سے ملاقات کرنے کے مقبول احمد دموی مجھے ایسے گرے گئے تے دلوں سے ہیں لاہور میں انکی بینک های مالی اوریوں سے ملنے میں اسکا تھا میں اس کی آدھی مہات تصور ہی رہی کیوں کر روٹی کی دی گئی اور وہاں سے میں نے لاہور جھاڑی میں مشہورامانگاه سائرہ بانی کے بارہ اماموں رسالے کے ریشس کا اہتمام کر رکھا گیا مقولو لوی کے گھر میں امام حرم کی د رهایی و در کووں کیا مہرو ٹھہ سے تمام کفر کر اسے دلوں سے میں لاہور میں ہوں اور میں انہیں میں نے وعدہ کر لوں گانکی لاہور میں اس عوام کے ایری رورتیں ان سے ملاقات نہیں کر سکا۔ طاہرہے کہ اس کی انگیٹھی ہوئی اور میں ایسا تھا میں ہوں کیوں کی موقع سے ماں کی بارانی دور کر سکوں۔ مجھے یاد ہے کہ مدريد سال قبل ایک پارامتر تربی۔ ان میں تو حرم کے مہم سے تمہارے لطورح ہاتھوں سے تھے ارسال کے اس سے قبل اور بعد میں بھی ارسال وہ سامر یتیمی نقدی او رفت و احترام کے ساتھ انھوں نے میرارگرایی رسانے میں کامیا مائرة هاشمی کے مار ادبی نشست لعد دوپیگری ترتی رہی ہماری مائیں اگوں نے بتایا اور ان کے لیے سائی ہتھی رواروں کی ہیں تریکو میں سے تھا اورہم بروقت رالیے گئے۔ کچھ لوگ اپنے کے اور ان کی آمد کا سلاماری ها گدھر ہم لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہوتے رہے ہیں جوي اور سائرہ بانی کا دین دو مورت ڈرائینگ روم آنے والوں سے مرگیا توتقرب شام سا۔ کی صورت تیارکرگئی اوراس تام اماسے ایک ادنی سیر کومریا یا امام مہمان رکھاگا عهد من ان کے ہونے عقل کل پریت سنے تھے ۔ اس طرح ہاری رسموں ری سانسی دینی کر لی تھی۔ اطہرائید تا محان، مدیر سردار اور اسے کھانا ہیں۔ امام خلقتے مدیر ہیں۔ امام ادب لطیف کی اداری کے وائصھی مرام دیتے ہیں رورام امروری میں گریں ایار ہیں۔ یمانی اور اگر دوران میں شاعری اوریتی لکھتے ہیں یور سے ہوتی ہیں انھوں نے سے پہلے لیاری کے افسانوں کا اردومیں ریر کیا اور دعای افسانے کے نام سے یکتاشا ہوکر سے منقول ہونا میدیا نی فلموں کی کہا سماں اورگیت بھی لکھتے ہیں بہت سی لرکی رانوں میں ان کی تو علقات کے ترسے ہوئے ہیں عمر کے اسویں سال کے قریے کے اوور دل اور دارکے بہت خوانی کی گی عمل میں ہی جائیں توحاکستان کوسوں دور کا بھائی ہیں اورا طراود کے قہ میلوں لوں تکایتیں گے عمران سے ملایاب رہی اور ان کی ہستی سور بالوں اور مجہوں سے گھما دور ہوتے رہے۔ دیر سے کی نہیں ملاقات ہوئی ابہام ادب لطم الدوران وادی میں سگ میل کی نیت کرتاہے اس کی ہی ایک نامدارادی تارتی ہے اوراس سے اردوئے ہر ڈے دی اور اگر کسی کی طرح والستگی مرور رہی ہے ۔ مسق، ساحر لدعانوی تمامی طاقت کا اس رسالے کے مدیر رہ چکے ہیں۔ متلیه هم زم کے تہور امراوراہا۔ اور نظم کے مالی مودی سرکت ملی روم کی صاحرادی ہیں۔ وہ تھی ہی نئی ادن توپ گہری دور ہے۔ ان کا سول ملةہتی ہے اسے حلق میں وہ ہی معمول ہیں یاکماں کے مقبول ترین قلم کاراسحاق احمداورانوقد ان کے مد میں متلیتدی منی اس کے ہاں سیاہی ہوئی ہے۔یات سایت وریراعلی اور دولت درجا حق راے بھی متیق کے میں ان کامیارا صاحب کی میٹ سے ساہاجارہاہے۔ ۹۸۱ اس سے صدیق کے ماہنامه ادب لطی کی دیت داریاں سھال کھیي 1984 میں ساوش امد میر کی وفات کے بعد سے ہے انھوں نے ادب لطیف کا معنی میں ہر سال کا تھمائے دینی حلقوں میں نے سیدکیاگیاتھا ۔ باتوں ہی باتوں سی ملیة علیے مجھے ایک ارب لطف کی ردگی کی تم مدیایورے بہت بڑا کام کیا ہے۔ قسما کی رسیم کھیر بار نہیں ہے۔ انھوں نے ایردگی معلومات روس نوس) شروع کی اورینت مانگی اور نہاتے بلند مقام حاصل کیا ہے وہ اسٹورخاکہ نگارلک مھربیت کے مالک ہیں ساکوں تتلی کی سانتامیں الئے ہی پی سی میں اھوں سے ہے کہ عمادی اور سازوں رہایدلی علیے تحریر کے یہاں میں ان کے دو سی بی اور ملنے والے بھی اس کاکوں میں ردگی کی بھی دلا دیر اور دلکشیر حمایاں دکھائی دیتی بیت کویٹھ ایران رہ ہیں سکتا۔ ان کیر مارسلیں، دلکت اورماں دار ہے تھو تھو مموری کا بیت کی باتیں کہی گئی پی میں اس کی فی مہارت ہے۔ پر گیا اور نے تنقباتوں کا سلسلہ لگ بھگ ڈیڑھ دیاری با لعاب میری طلب کی کیوں کرح کی مرویات کی دبستان طوں کی وداع ہونے لگے تو اور قوت کے لیے انار کے کاحکم صادر وپایا اور ایک حد میں مردوں کے ندیده ام میں یہ تتلوں اورخت کے سائد کے تیر کیں۔ یہ دونوں میں پیسے کے اغرارے کریں۔ سیم صدقه اوراطراوی سے ملاقات حارورتوسوی مدیر امت شان در منی دلی یا محترم دوستی اکمان میں ایسے میری دوستوں کے نام لکھوں سے بات بیانے کی دت داری کے سو یی اسے سکس روس ہونے کے بقول دہلوی تھے ماہام تخلیق کے مد ریحااط حاویک روز گئے امام ادب لطمیانے سائع ہوا ہے۔ ان دونوں رسالوں کی دنیا علی اور ساله ملی ملے ہیں۔ اطہرادیان کے معاوں میں ساری صلا کار اور دیکھی ہیں کروادید لیک کر مجھے یوں لعل گیر ہو گئے یہ برسوں کی عراق کے لعلی لهس ہوتا ہوں۔ حالاں کہ اسے اسے ہماری پہلی ملاقات کی۔ آج سے میل تک ہماری ماں ہاں اور تعلقاسا دریا ہار تخلیق تھاجو کے برابر موصول ہوا تھا اور کبھی کبھار کیے گئے مے کار کرتے ہوئے انھوں نے کہاتار لیں اس میلے کیے ہیں رہے۔ اب وہ ہت بڑے ادبی اور تالار آدی ہوگئے ہیں لوگوں سے یہ کہتے ہیں ، دویارمٹ سے ریاده بات نہیں کرتے ۔ ان میں اور اگلے وعمرو وعمرہ مین اسے کبھی میری ملاقات نہیں ہوئی، کونیان یہاں بھی ہیں فی الکیاں کے ماووراں سے ملے کی سدوات حتی، دہلی کے ان بڑے ادیب کی بات دہر میں حال میں اس سے پہلے لفوشر کے دفتر اورآ مرے دہی میں عمل ماسکے وہ العا گو رہتے تو کی اھی لکھوں نے نوں ر کے قے اورلے جبریں سام ندسات دور ہوئے تاروں کی ما کا کلیم انسان اوریم میں رسائے، فون کا دیر تکمیل کو دیکھے دلوں سے رہا کھاا طفلاح کی کانیں اور قرار دو نقول احد دہلوی کے ہال میں لعل ماحملے کے دوتیماتو ان کی پیاری پیاری تھے لوں لمحوں میں ہی نشر موہ لیا اکثرلوگ کہتے ہیں کلمن صامت کو لے کر دور سے زیادہ ہیں ۔ لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں ن لیگ کے سال اس کے ملکی معی تھی اورسٹی آوار میں وہ کہے جارہے تے اوئیں سے مارا تھا۔ انھوں نے قریش کے سر کی کہانی ہیں ، اس طویل جد وجہداورمحبت کی داسال الیاس علم مرد کو اس معام مرسيله میں رکھوسے کی ہے۔ القوس د اردو کا مرداوی تریدر ہے جسے ۱۹۴۹د کے لات میں امیدی تا کی اور بارہ مسرورسے جاری کیا تھا بعد میں ساب و قاطر اس سے واستہ ہوگئے اسیریل ۹۵۱ دی ایل اے اے سیمالا اور میں رندگی کاکومالیا اردو میں سے تیار رساری میں پیرا منیر کے سایہ کہی جاسکتی ہے کہ ان تک کوئی ایسا رسالے نہیں رکا امداد کا اور انتی ادکا دسترس گماندہ قومیں ہی ان ترامیم کی صورت می سائع ہواسالوں کہ اس کے مد ایمانی بریم امیروں کی اشاعت نقوش کا طره اشارہی ہے ۔ ادی موعوات براوراداتها میں مالامال عامر مانع کرنے کے علاوہ سر جنتوں میں اس کا رسول مسائل کے 4 کے ملے یر ہو گئے عمارت مماس کے دوستوں میں سے الگ ہی انکی من مات اس وقت گھر پر ہیں اتری موتورتیں اور ایک بار میری ملا کر میلئے بہتر کی رانتری کی اور کامرار حاصل ہوا ہی عطا وائی فائی کے نہ ہوں، مکانوں اور کراسولی کی لامح اعراں ہے کہاں کی ساداترستے تھے سے دائر کیا نسل تلی کی تقریریں طاهالی تاگات سونے کے زی لے گئے اور رات کے کیا اسے اروع ہورتری ی ریکارڈ کے ساتھ بہت سے کسی اٹالا میں ۔ ان مرحله موانع رکیکی تری کی تقریریافتی دن کی تقریریں موی صورتم دی ہیں ۔ ان کی آمدل میں ہوتی ہیں سیتوم کولیاں دیتے ہیں ان کی تقریریں بیت ولورا گراور ام رہتی یا بیماری بیٹی ریکاڈرے اوتاکیا قدوسے سیاسی لوگوں کی تقریرں سے مس ہی کونٹی میں تقریر کرنے والا اسماٹر کھل ہی ہمارا دوست کیوں ہو ہم اس کی تقرر سے کئے ملے جلوسوں میں شامل نہیں ہوتے نکر آن زندگی میں ہیلی ارم سس کشیکلٹی کہ ہر تقریریں کر لفادور ہوتے رہے کیوں کہ کیوں نہیں ہوا کہ مری کی رانی اس کی کوئی کہانی ش رہے ہیں ان کی تحمیت کا ایک اور بیلو تھامے ہیں مریمارکماکام قوت کے دفتر میں ۲۲ موری لاہور میں میرے لیے مشروں ترس دل کیا۔ است و رو سے فارغ ہوکر ماہریلی کے لئے تیار ہورہا تھاکیوں کی گھٹ کی دوریخی قوت کے درحماس متطمن ہی میں دی آوار میں ۔ وہ کہ رہے کل اس میں تری ان لکی هر کسی کام سے باہر گا ہوا تھا ۔ ملاقات نہیں ہوسکی کسی وقت آیان .... ان میں سے دور اسے کا وعدہ کر لیا اور چھے کھیل دنوں دہلی پر ایک والے ادبی سے ہی باتیں مارا گیا۔ وہ مادرانی کی لاہور ہو کر آئے گئے اورصاحب
48
تفرینایدرہ ہزار روپے کی مالیت کے زیورات ہی کم قوم پر میں رہ رکھے کی نور
میں لانے کا
" رسمرار ہو گئے۔ باقی 5
, سکوٹر میچ دوںگا
میں نے سکوٹرکی میت کوان تیار کی اور کہا روہراروےای
اس کے ہیرو کالری مودار ہو میں اوپر سے نیکی کاکر کہا بھی تم
تسوس لے لوں گا
که می توانیا" سور وہی ہوگا انه
کم ٹوٹل لگا وہ اس نے میرا ہو کر کہا ہے دیکھیں ۔ تم تی منت ہے
"ترم اراک و به
مریم کشی رقم درکار ہے ؟*
، مطیع اعظام ہوجائے گا۔ اس پیامک پیرا ہوکر کہا۔
وہ کیسے کیسے لويا۔
میلان اشوری کلورای
گراس سے مکان کیسے سے گا؟
سہاے گا اسے ایسے اٹھتے ہی کہا " انشورنس کرنے کے لعد میں
سوتی کردوں گا میں ہمیں ترمری کے ایسے مکان میں رہئے ،
اس آہ یا ادارہ ان میں کی طا قل کا جادوگر ہے یا نہیں ، وہ گھونٹ گھونٹ پانی کے بہار
ساتوں میں دور در دنیاسے دل سکوت روااور بہایا ہے میں تاریکھ
ہیں پاتا کہ پہلے وہ پیسے ہارون الرومان عطاء الحق قاسمی استان میں سے تقول یا در
ارے کالم وہاں سات دلہا کے ساتھ بڑے سائے ہیں۔
تو کہر جا که با این تاکی تھے ساتھ لیے ایسی گاڑی میں بہت دیر تک لاہور کی
سڑکوں پر گرتے رے - دل کھول کر امیر کرنے سے اور میرے دونوں گریت
رسوں پیش کی د کو آسل کردیاتھا اوراں اجالوں کے سمدریں ہم دونوں لاہور کی سیاہ ٹرکوں پر گھومتے رہے ۔ امی کرتے رہے مقصدگو مام اور مر کر ماراده قالیکر ملا کو ای میانی رده ریدگی سے سموں کی حد لگتی ہے ارے دل میں مدمات میں، میں اور ہاں میں سے بیاہ ترکت ہے - اورتامدیہی ترکیب ایک کارنوردی کی علامت ہے عطاء انتقامی میں الفاط کا نام ہیں وہ ایک ماہر متاح ہیں حوالے قلمے ترسے بڑے سے بڑا ایرنی کچھ یوں کر جاتے ہیں کہ جیسے کم ہورہی ہیں لنک روتر ہی کے نہیں ہوتا ہے کہ بہت کم ہو گیا ہے اس کے الفاط کا طردھے سے دل میں مرتا ہے چھی کا احساس دلاکر سورانا ہے اور مسکرانے کے لیے خور کر دیا ہے عمرو مرا کی بهکامان میرش ہم دیکھے کو ملتی ہے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھے والے محمد مال اس کی ترکی رد میں آئے ہیں اور ایسے اس صوص مدار میں انھوں نے استری کی ہے دیکتر عطاءالحق قاسمی کی کلاس میں اکوں سے تھا تھورے یوٹطریناکے درح کے ایس اور سہایت کامانی سے درندگی کے مختل اس کی سیاسی موت کی عطاء الیا گیا لاہور کے ایک مقامی کار میں پروئیے ہیں رورا لو انت قوته کے ادنی کرکے اپارست ہیں، اور مور کالم نگار اور شول تا وہیں اس سے بڑھ کر وہ ک کے دل وداع و استاندار انسان ہیں ان کی شمه منوی امر ہے اوران کی تحلیب میں مہدیتہ ایل اور عر وریانی ہوے کی دہ یہاں ملتی ہے یہاں عطا کا ایک سال سے لے میں کر رہا ہوں وسعد نیوتوں کا استعمال ہونے کی شادی کرتا ہے اور والمتوترطبقے کے لوگوں کو مسائل کے ساردہ مہم کے لیے حور کراہے .روسيروت السمی امیر کر رہے ہیں -ا اوسط دورے کا مکاں بھی تمرکاسان توئم ادرک ڈیڑول کر دیے گئے ہیں ۔ میر سے کیا سويا * سامرار دیے او مانس کارپوریش والوں سے اسے دوںگاه اوراق وه مجھے مادہ ہیں) یار میں نے عرض کیا، اردوادس مساحر مریم باسی ایک بڑا ما اور مجھ سے یورواساس کار کے بارے میں ان کی یا بیماری ہونے کا کیا مہ کھا لیں حر ہوئی کہ ان کے دہر سمت ہیں حوا ہوں در مراتعارف کراتے وقت وہ ہی یہ کہتے ڈاکو کیوں میر صاحب کار کے ایک مروں انا لگا رہی۔ پر نہیں ہوتی اند دیکھے ہیں ماحول دیا نہیں تھاکہ محمد قاسمی صاحب سے کسی طرح کی کون سید هانی ہوتی بہت سے لوگوں کی موتوری مرسری میں ہنس گیسولوں یاکماں کے زور سے پر بھارتی دوستوں اور ان کی ادبی سرگرمیوں کا دور یہ میری ادبی سکیموں کا ترا ہوا اولیں یا وہاں عطاد القاسمی صاعترصے کے ہال اسال کھارٹی لاہور کی سرپرستی میں علم استان انڈوراک مساعره سی کراس آتا ہے سلمی کی طرف سے اس مشاعرے مسترکت کے لیے بالمال کے ممارسوار کو دعوت دی جاتی ہے اس رسی ساموں کويت اسے لیے گئے تو اس میں مطار المتی والی کے علاوہ حساب احمد ندیم قاسمی کا نام بھی شامل تھا دل کے موارے کے اداب احمد ہاکی کھی کیارت ہیں اس نے دونوں کی کاشت اور روایت تھی کہ انکے ہیں وہ سارے میں شرکت کے سہارے بھارت کا دورہ کریں ۔ عطاء الت با کی اسی لیے لیں وقت امر ہونے کا ملک احمد ندیم قاسمی اسای سیور نہیں رکھ کر بھول گئے حل مکرام عطاء الحق قاسمی عادات تانی کی خصت کردم لر مالیت کی ہے وہ طومار کی یاد آنے اور دہی کی طرح مل دے اور ساتھی نے بھی اپنے ہمراہ لے لے۔ او منٹو کی گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے عطا النی کی نوے کیا کہاں سے میں لے لیا۔ تاہم مر جانے کا ارادہ بھی ہیں تھوڑی دیگر سگے آئیں کریں گے ، اوراگ نہ لگاتے ہوئے انھوں نے گاڑی سٹارٹ کر دی سامسر کی تھی میر کرتے رہے دار کی سڑکوں گلیوں اورملوں کی نہیں کرتے رہے ہاں الکوں کے تعلیم حاصل کی تھی۔ کی اور وائی کا آغار دیا اورسوس کیا تھا اور پر تقسیم کے ساتھی وہ یا عری سے پرانے ہوکر ایک دوسرے سے دیں گے اسی ہوٹتے تھتی ہے بھارت اور پاکستان دو الگ الگ ملکوں کا تو قائم ہواتالک دھرنے کے لیے ہیں جدائی طور پر سرداورهای خم کی حق تتقائے۔ بات چیت کے دوران ہی پاکستان کے تہ وقت اور قلم کاردان ڈاکو میودر گریاصات تری آئے۔ الیسے حال میں ہوئی اس پر تھراتی ہو کر تفصیلی ملاقات۔ ہوسکی کیوں کہ اس کے سے ڈھلے لگے تھے اور پاکستان کے قد در مورادی حساب احد کنتاکی سے ملاقات کا وقت اور اتنا سردار مورے کرنے کا وعدہ کریں گے اور ڈاکٹر گریدسے امارت مل کر کے میں اور قول احد دوی وال سے حل میٹے۔ ملاقات احمد ندیم قاسمی سے ایرانی و مقطع کی عمارت میں اقوں کادیتے دنوں میاستاں کے حمدا مار کر دوں میں سے ایسے اور اس کے مد سرحان احمد مدیر اسی میں ادوار میں احمد مدمقامی اور فتنوں اقد رام اور بہت اوگاہے بحهم دفتر میں داخل ہوئے تو وہاں دیم داد کے پرستاروں ساروں اور اریوں کا جمع سالگا ہوا تھانگ سود مدیم مناسب عام کے معلوم کرے ربتی جلا کے مدیر مادر کی تقریم شرکت کرنے گئے ہیں اور ابھی اتنے ہی والے ہیں۔ ان کی پرسیاری میں وہاں موتور حضرات اور یوں میں مصروف تھے اور ان کی عیادی باتوں سے خطرہا ہے سے بیدر میں منٹ انتظار کرنے کے اعدما احد دی اسی دور میں اس سے نو وإن وجود تمام لوگ ان کی عیار میں کیے ہوئے ملا موتی کی گئی۔ اماک کی کیا مدرسے کی تھی اس کا وہ مر ماداگاسی مامتا کلاس میں داخل ہوتے ہیں توست امام ہے اور سی ایسی سادگی میل میں کھڑے ہوجاتے ہیں یہاں مرده حاویری آنکھوں کے سایے منا مقبول احمد دہلوی نے احمد ندیم قاسمی صاحت مرمتعارف کرایا تو اسکول میں کی مدنی آگئی تتفا کی اساس سے مراتعارف وہاں موجود تمام لوگوں سے کرایا اس میں سے اس کے ام یکی مواداری کو مہیاکرتے ہیں اس کے سیکسی ہاں میں ڈانطق کے مردوں کی توارد ہیں کے سر ہے۔ ایک بات مورخاص طوریرمیں نے نوٹ کی وہ یہ ہے کہ پاکستان میں روسیا مرے درح کاتالوں کی اساس کافی بڑی تعداد میں ہوتی ہے اس سے میری مرادساد وعام قاری کے حداتیں نہیں جا سکتا ہے اور وہ اسے پڑھتاہے بعض لوگ نشستی که با سی دیر میں اس مرتے ہیں دو طرح کی ہیں امی تو جو زبان میں افراد کامیار روری ہیں نرمی میں ان ریاستی اداران یاتا اور کیا جا سکتی ہیں دوسرے کی تا بیشتر ہوتی ہیں ترکستان میں پڑیں گے عام رویت ہی ہیں ان دونوں پیروں کی انہیں ور ملکر کاستا دوست ہوتی ہی ہو قانونی و غیرقاول دولوٹین سے پاکستان سے سال میں اسلامی، انسانی مشتی، ساسی موضوعات مریمی گیاهی و بانکیتی اور روحت ہو تیاید ہوگا اورت کے موعور میری یا کمان میں کسانوں کی میت ہوتی ہے۔ بھارت اور یاکماں دونوں ہی دستوں میں ملا اماراتالوں کی سماعت کی ساری عام ہے اس کی بڑی وہ یہی ہے ک دونوں ممالک کے درمیاں اس طرح کا کون سمجھ نہ ہو اکانت کتاب کی اشاعب ایسے میں ملتراویکی منطوری ل سالار میں ہو مجھے یہ دیکھ کر مال ہوا کہ میرا کیا میں پاکستان میں اسی طرح نمائی کی جاری ٹی میں اسلام کا نام کے معتمد میرکیاگیا لیا۔ کے سایت مطاطل ہے دونوں ممالک کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ کوئی ایسامعاهد و ریاس تحت اس طرح کی پوری اور روری کو روکا جاسکے اوریا کا ایک مقوی کا قط ہو سکے۔ راهواری میں حیات میدارحمود سے ملاقات او را کاری میں ایکاروان دامورسے ملاقات اورمیلی با تو میں نے بھی دور کر نگاہوں کمردار ہو اور اردو شاعروادبی مرسوم ریاست کے میرے کان میں اما دا، کے ایڈریپرومیسر ہیں اور ایک سے اشاعت اوراس کے ایک بیست دریاب مر کے ہت الماراتون راح اولی انسان ہیں ان کا تعلق کارتی اسے اس کی سلائتمل سالار العمل تیز کلیر ) کی اتمیت کے دوران سردار مودا سے کیپ کی یادوں کو تاره م} دلی دوست کے دن سے رواہ ہوتے تور ویبری وی دی رہی تحت عنوان بی میرے ہمراہ تھے کے ارد اباسے گنے کے کھیت میں لی تھیں اور اس بہانے لاہور کے گی عمل ہے اس کا موقع می ری مقولے کی بیٹرے کی ماتار کرلیا دہ نے بڑی محنت اتمام دوم وی سے طے ہوتا میں نے درکار میں اس وگورے معطر تھی میرکیں أردولت سے ملاتایی اردو پاکستان کی قوی رانه لول بیان کی ماں بھی ہے۔ میری بات ہے کہ ہاں اردو کاموں اور مریدوں کی تابت کالی ہوئی کتابوں کی اشاعت اور دوست کے اسم محمد منتر سے ملے نئے ادوارمیں ہے وہ اس طرہ پاکستان میں اردو میں ہندوستان کے مقالے میں بارہ سال ہوتی ہیں ان کا اسائیمعية کی عام طوری دوستان کانوں سے ہوا ہے۔ اس کی وہی ہے کہ وہاں طاعت کاسا کام حدید ماریانس نشریاوری کیک سے کہتا ہے وہاں کے مال میں واتات کی تر سہولیا۔ سترہیں لیوی پر کوئی کتاب میں ہے وہ ہمیں دیکھیں کہ ہر سال میں اس کی ما دوتا ستقوی بھی یہی ہیں آسمٹ بیری پیتی ہی ہیں ان کی تردا میان کہے دایر شیری پاکستان میں بھی ہندوستان تالوں کی طرح قیمت های سادہ ہوتی ہے دراں کی ایک بیات کی اشاعت کی بات سو سے لے کر ایک ایک وی علوم کے یہ ایک عام داری ای حمایت میں ہیں کے مرار دیا ہے اور لائبریریوں کی ریت متی ہیں کھارس کے معاملے میں وہاں کالوں کی سرکاری در دریادہ ہوتی ہے۔ ایک ماہاروق مرور ہے کہ بھارت میں زیادہ تر گاہیں دارای تیر برسائے کرتا ہے کہ انسان میں سرکاری عید پر وہ ہر از خاورمیانه مبشر جاتا ہے بہت بڑے ماموں اور بڑے اداروں کی کانوں کی اساعی اور رویت و ولوں ولتوریں ایسی ہی ہیں لیکن میں امری رہے سایہ کی سات ہیں اوریت کی ہیں ۔ بھارت میں کٹ کر کارواح ہر بارہ ہے حکپاکسار میں کوئی ان کا بھی اٹلی میں ہیں میں اس کی اور سادو ٹسٹ میسی کی یاد میں زیادہ ہے اور میں می آج ہمیں معین ولی دوست کے دوحالاتاسراراحمد صاحب کو میں نے دریائے کوکہا اورمیری ورتو اس کو انھوں نے قبول کیا۔ ولی روس کے دفترمیں طاہرہ تیس اور ری التیں رتی سے یہی مارسلا بار ہوئی طاہر اور وہ دنیاکام مانتی ہیں رمی کی دور میں میٹھے ہیں اور ترین کے سیکریٹری کے والصراعات ہیں ترین نے ان تموں سے متعارف کرایا الگ اداری ادارت کادوترتقالیں ہاں کاتوں کے سیاہی الگانتری کی اس تربیت اور راؤاں سستے دار کا اور ان کے کام اور ہرات میں تین کے لیے مادیاہ تھی اسی کے سا رویات میں سے وقت نکال کر دریاگرد رورہی دھرنے کی کوس کریں یہاں ان کی آمیں سردی معائے ملی ہوئی اور ہدایات دے کر وہ حرای مشرون میں عورتیں طاہرہ، ندی اور تھی ان کی عمر یاری میں دستر کاکام کارح کو بیلارہے تھے۔ میرے دی اوریجانی رسالوں میں بھاری سے استری کے نام آئے ان خطوط کویٹھے کا وعدہ کانیاحوں کے انہیں ہے اس لئے کے اور میں ہے یا نشست کا اظہاریها -- خدمات کی گریتی۔ مرتبط بڑھ رہا تھا تو ترکی کے ہے سراں رات کے رول کو ھی دیکھ رہا تھا کہیں دل کی گیتی کاموں میں سورہوکراں مسجل مجارہے تھے مارا ان کی بھی کم ہوئی تھی ۔ کی اس محنت کے عمل کی تھی تو سیکڑوں ہزاروں مل دور مٹھاں کے لال دارائیں نے انھیں دیتی میں دل ہی دل میں سوچ رہاتھاکہ کے والوں کی برادری میر تی تری دی تھیں اسے پڑھے والوں کی ای گیری اورصدای ابیات اورتلوں کی دولت میں ہوئی ہو تری عطي- ترین اس دور کی مقبول تریں اور میں سری اتریں ای دوراں قول احمد ہوئی آگئے اور اسی دوراں ویسے گرم گرم سائے کلک بیٹی اسکا سموسے اور جانے کیا اور اس سے سانے پر پھیر کر ڈالا تھی مشرق کے سیرپورٹر حار بردارادی تربی سے آ جانے کے ساتھ ساتھ میں سردار کے سوالونا مرامی لارا اور وہ میرے مولا کولیے قلم سے دکھا رہے طاہر اور درسے باری باری کیر کھائے رکھا اور اراملی کی پی سکھرپیدمیائی ہیں۔ 1 وہاں ایک کھرا ستے اورامتی انسان کی ہیں ایک سے اکتا کاری میں جاری ہویا اری گروہ دیورات کا ردولوں میں ہی مرگ ادی آنها موسعودي حوراتوں رات انکالے آدمی کو کی تیاری ساریے میں نے امی تا کی امی ہیں اتنا حوکھی ادی آقا کے گروہ کا کاری کر ئیر نام داری اور ایمان داری سے کمایلاتا ہے۔ زندگی کردهای میاں کے لے ہوتارہا ہے والے پاکستان کی ادی گروه سرلوں کا کیوں کیا ہے ۔ مختلف دھڑوں سے ہوتے ہیں مرد اور ایام ناچاہتے ہیں خواہ وہ مارنے کی ٹیلیا کے اور دیکر حامل ہویاکی منڈورٹائر گایی وادی میں ہماری کرکے لے الہی کی ہے او کیست مایا اور اس میں میرے لئے ہم آئے دن ایک رومال کیے جاتے رہتے ہیں ایک دوسرے گورایا جاتا ہے گویا ارت ہواکوئی کیا ہوگیا - ان باتوں کے باوجود رہ رہی کہ او بینا کردار نگار ہیں ہمعات کے مامی می توہیں اس کے ہو۔ تم کیا ہے ۔ واں ایسے کیسے میر امان اورتواں نواں کہاسوں کے حالات سے کھلا کے خت ہوئی کھانے سے دنیا کی نیکیاں لیتے ہوئے تیری ماں کے بارے میں تاتی رہی، اس کی کہاسوں کی امید کرتی ہے اوراس کے مکمل تیاریاں ہوس کے منگوائی ہیں۔ اسی دوران لارمونی سے خات از سریع ترین نے اس سے لکھ کر دیکھی اولیڈی او تھیلیاں سے لوں مروہ ھے سے رابط کام کرنے کی کاشت کرتے رہے کہ وہ کیسے ملاقات کرنے کے خواہاں بے حد وہ آے ہوے تھا۔ تحائف سے لدے ہوئے تھے اور آتے ہی یہ کائی انھوںنے سر اور گھر میں بانٹ دیے اس گلے نے دوستوں میں خدمات کی تدت تھی دل میں ولوے کے، آوار میں تو شھادت گاہ کے حب وہ ریکشن ہوئے تو میرے دل وداع پر ان کی تکالتاریانا وطن دوست کے دفتر میں استوری کی صح وں کی مٹی سے مدار ہوئی دوسری بار در سریال آوارهای بروز احمد کی تی حورورارم مترو کے سرلورٹ ہیں اور انٹرویو لیے گی جوہر سے طیاحاس" و دسته بام سے تریاکارانی استانی اداری ہے اور اس کا ایک سا درد مر گیا ہے۔ پروگرام کے مطالق حوان حوان کہانیوں کا حالق عريان علی ساد عریاں علی ساردیر سے آئے تھے بات ہی میں ترکی نیکیاں سے کوئی عام اس میں ہونیکی سرورمار سان واسطی اور کرمی کاشت ہونے کے لیدیتی ہے عریاں علیے ایک باقاعدا وشل تیاری کرا . يرواں دواں ہیں ہوشوں میں اور تواں حواں وخوبصورت کہا مارکت میں لوڈشیڈنگ کے ایرانی تیم مدیریتی میں سے ایک دوسرے کی پرچھائیاں دیکھ رہے اتے اس لیے مدار میں ہوا کہ رواں مالی سارے ہے عرفی کے ان العار کاکیا ریمل پیرا ہوائیں ملاله ہے کیریال ستراتے ہیں ہوں گے خوش ہوتے ہوں گے ۔ روتین تیرامونی تویقیا عریاں تراماتے اداروں اور روسوں کے درمیاں ترلے اور برای تمامی ورق ہے افسانے کی بات ہوے گی توان نے کہا میرے نام کیا ہوں سوی صدی ہے اوربعض دوسرے رسالوں میں نہیں ہی سے آپ کی کہاسال بڑھا رہا ہوں اترنے سحر ٹورا عریاں ٹیمت کیے اور ماما نمی توڑے ہیں ہوئے۔ . عریاں میلی مرر کھل کر بولے ۔ رہتی ہے توتلے کی پیشقت ہے ہمیں بہت برسوں سے داماد باری ہوں گندی روی کی آڑ میں ہیں میں الیا دل کی مرا تحاریر میں اور جلدی سروتی ہوگیت مانوں رات میں کہ انھیڑیا اور افسانے کے موغورع مرید نام کرنے لگے۔ عریاں علی ساردی می تواں نواں مہاسوں کے جانتے ہیں براساس مہینے میں ناکام های شعریاں کے اس ایالوی مو سید کا بیان پڑھیں تو مت مت سے وہ گھرے ماں کے ویوں سے اس انسان کیسے اسے بہتری میں کیا کسی بھی کھایا۔ سرمگیں کہ تم ہوں گی ، ارود کے مسوں سے ایسا کیا ہوگی ؟ ایسا انساں کو کس کے دانے کی پیری ریاکے لوگ ایک دوس سے کہیے کہ ہم ایک دوسرے کے معانی ہیں ، ہم ایک ہی ڈالی بریٹے وا میپ ہیں ہم نے ہتھیار یک دیے ہیں اور محنت کی اسکی اے - آترین اول انسان کی ان سے گانا دل کے مرد
19
اردومیں ایم اے کیا اور اس کی مہم اس نے تم کو دیکھ لوتھر کے عالم میں نویں محالمسلمه
نشریات کا کمال ہے اور بریسویل ایک ہی سانس میں اترے ایک سو کے دوروں کے لیے
والے واقعات مانے کہ میں اسے ملک میں ایسی قویراں کا ادیب ماساع کہلاتے ہوۓ گی اس کا احساس
بہرحال بہاری وہ یہ ہے ک ڈاکو کیول دھیرکادورہ یاکمال کا میا ہو اور فارسی ہی کما
دمای دبیرستان میں کیا ترین کار اور ناولوں کی ہیں کیوں گو کم تر ہیں تاش -
توں کے درماں کا ساغرساهل واسطی
دودا دوای سایہ واسطی اماتوری موم ہےاس کی لاکھوں نے بہت جلوس کے شا
کمیٹی کی وہ ماداآباد کے رہنے والے میں سمائی کی تو اس دن کی باتوں میں مکتب اراوح نیک
میڈیاکستانی وہ اسمشرٹ واش سرندٹریٹ کے اعلی عہد سے میراثر ہیں تم میں سادہ اور
سیر ہلکی برکتتر مت سمیت ملک میں سی ٹی یہاں ہے متارادیسحاب مرادیے
سایر واسطی کا ذکر کرتا ہے کہ میں لکھی ہے کہ شاہد کے ہاں وہ حساسیت مڑی واضع
ہوا ہے تواگ ایتیش کے دہی کرتے عمارت ہے نہ کہ تم اس دور میں سانس لے والاک استان
اس دہں ہی ہوسکتا ہے: مال ہوتا ہواسطلی کے پیداسعار
اڑاہوں ڈور کی گولیوں کی باتیں
لہو کی تعمیر سے نکلا ہوا میں مدہ ہوں'
حومل سکے نومروں کے ساتھ مل وربه
تعلقات کے شرح میں سلام کو
درایر کئے سے میسلی سویرا
یہ کہا بیرناکریں گے
میر گلی میں کر کے ماموں سے سطرها
گیا میں نیٹ کے میں انھیں لوں یر
48 سه کرنے کی بھی کویر ہے۔ کرتے۔ در تالار طیٹیالیاں ماتعتقليها ماهواره کوله کما لیتے یا اور کسی شے کے ڈاکڑچی * ہے لال التعاون اور ملتا ہوں اور میں یونانی ادوات مسٹارٹ کیاہے.۳۷ در میں ساموال سے بھاری بجائے منگوائیں آباد ہوئے اوراب لاصارمی را گسترہ دنیاکے اگر روی کا عنوان سے ایک کی اس تیار کر رہے پی سی میں پاکسمای سیما کے معمول قلم اور کوتال سیاسیاسیات کے تحت اکٹھاے لاہوری ایک کونسل میں دوالفقار الشاح اور بعض دوسرے لوگوں سے مات میں کی ہے۔ ڈاکٹمارے ہماری انگاری میں اصار کیا بھارتريا میں اگر اردو سرکاری رسانہیں ہے نام کی اساسات کی رو سے امام مروارادی اور کہ تعلقات عامہ کی اف. اما ما مدیاساں، شاٹ کھیلتے ہیں تو معیاری اورمول ترین ایگی اس ساری تاکمروی اما نگار روی زماں علی ستارگئے ڈاک کیوان عیر شمارہ نے استمالی کار کاستے بڑاماره سرمایا ہے میں اتر گئے یا پانی تریلی کے کئی بادل بھارت کے مرویاروں اور گردوں میں الاساطی کے ہیں۔ اکر کاظمی کے سوال کے نواب میں ڈاکڑھاسے کہا میں نے اس کا کیا میں ترکی میچ میں سر مادہ رہندی میں ہی اردو میاری کریں اولوں کے توکی کی دیر تھیلے میں سامان کا اردو ڈیسک ارک تکلارغ ہوتا ہے اور تمام سالوں ہندی اورانی ، میں اس کی کوئی اشاعت سات لاکھ کے لگ گئے حکومت اے علی النگو المسمار کیے ہوئے ہیں اردو کا کام بھی انھیں کے رہتے ہے ڈاکو کیوں پھر سے ہاریانیت کے درمیاں ترین لیست می رہی یائے بیان کیروسری بھی اس سائے حواصی دیر یک بطری کیا سے کویی مرا حلاٹھی، گرہ سٹاک ما کی باتوں اور تیری کی پیروی سیروسیاح کی معلوماتی گفتگومیں نے کی ہے کہ کی بارش می کردم ترین لگوا کر رات کی کہ ہمارے ہاں قوی ربان وادیں رکھا جائے تو قالی دکانی ہوا اوریراوساکائویورٹی کے ایمایانی سایر کا کیا میں نے کرای لیزوری سے کبھی روکتے رہے۔ روزنامہ مشرق کے لیے انٹرویو گھی میرا کی مورات کے لوٹی ڈائری پر اور بات کرنے کے آواردی ایک روم میں داخل ہوا توبيراما کوریا با لیے تعارف کرایا۔ رورا به اسار متقا کے کاراتها حار سرورمارتے مشہور سالواتساب واستلی وراکرکامی تھے اورٹوریا میں گھر سے شملا سوالاتھ ملانے کے سرورمار مادے کو مات میت بھی ہے کی وہ رورا به سرقہ کی ، روی کی اشاعت میں اروی اتمی به عنوان کے تحت کی اسی طرح سان مون بھارت سے ادرکے اردو کھلاڑیوں کی ھم بھارتی ادیوں کا سرکاری دور) پاکستان کے بڑے شہروں میں ردو میں ہونے والے کام دعا کے لئے مدسرور نیک عمل کرکات کو پیاری ہوئی دس اردگار کو کیوں دیتی اور کھلاڑی سکرا گئے سواں ولوں لاکٹر کیوں کی لاہوری ان پر حملوں کی ولتے ہوئے ہی ہیں تابہ واسلیے ہوں مرتاکستری من اور ماں بیٹی کے گریں دنوں ڈاکٹر کیول دیرھارت سے آئے ہوئے ہیں اس کی کیا میں اکرامی ما کی موکووہیں سو ملیں گے ہم بادشاہ سے کہا کہ اس ہر یوسی میں گھسیٹ رہے ہیں میراں سے اس سارے جانے والی ان کے بارے میں لوک دائرے میں ہے لوسمیار تک کوئی سوداللہ سریال اوار اور مٹی کے گر کے پارسه مرام سے یہ بھی بتایا تیاریاں کے گھر کا انماں کے گراف میں ہے اور صدر دروار میں حاصل ہوتے ہی ادب اطاعت و تجارت کی مالکان اور واپس کرنے لگے ہیں میری ہون میں چینی اور رینکنگ میں بھی توڑ ڈگری کتابیں علی میلان میں ٹی بی 3اتی ہے تو اسے نوٹسٹنگ کہتے ہیں) ا مولی کو ٹیک لگے ترین کے کہے کے دلالت روانگی سارکیاتھا مگرصوغ و گرد طارق رویارمیٹ لیتریکی اتنے ہی مدر در وارے کی اندرونی دیوار کے ساکت کھڑے ہو کر ڈاکڑ صاح الکا اور پورا ڈالا کھول دیمرے کے سے نکل رہا ہے اس کے عاری ہوا لیا ہے سوئی کسی کے لب روئی کے گھر لوڈشیڈنگ کے بعد ڈرائینگ روم کی ڈارک ماڈل قصدتم میدوں کا رنگ لاكلاتا ہے تاکہ ڈاکٹرمادیار دواسینیت کے ادبی ہوں گے میای ال سے دوری اماکہ کا وی یاسایی و4 کا احساس بروقت کم ہے اور آج پوری موٹی بوٹیوں کے اسٹور قائم ہیں۔ امری مردی اور قبول میں ہیں اسٹور وال ہورہے یں اور ریت کا کام بھی جاری ہے۔ اسی طرح میں نے انکو یو افقة علار میلگر تشہد حاصل کرلی ہے۔ لہرایا کیا باتیں ہو رہے لی کر سارے معالیں اس قیم مڑی بوٹیوں کے علان کی ساس راع ہورہے ہیں اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ کار اور پاکستان میں اس طرتها علا کی رو مل مل کر اگر توست دی جائے تو وہ دنیا کی تائید کی کر سکتا ہے ڈارٹیاں اورکاری اس کے ساتھ اسی نو صور امر ہو مری گفتگوڈی دل ہیں اور درای۔ بہت ہی ساتونکال کے ہو اور کارت میں پی ایل سے تعلقہ کی بالوں کی یادگاری میں ڈالیں دیا ماتلیم یاکریانکایاتعد و دولوں رشتوں کے درمان اشتراک معاہم اور دوتاماعت ہوسکتاہے کاری اس کی تواتر کتی کروہ اور اسلام آمادمی پاکمال کے لوای الا ایک شمارماری اوریں پھیر تیار کروں گی میں نے معدرت طلب کی کیوں کہ ایک تو وقت کی کی تھی اور دوریاکی کا دورہ کرے گا مرا یاری منقعادی تھا۔ شرجي کافي اوروك العددویہ میں گروداتو تاکہ سرکاری کام سے گھر میری مویے میں اکو میں ریلوریوں کے لیگیوں کر کھانے میں مددی مدرس ہوتی ہے تریاکان مڑی تعدادیں ہیں ایسے رات میں قرآن پاک پڑھاجاتا ہے امیر کی اکھلایاجاتا ہے اور غیروکھیائی نے ان کی مدد کی مانی ہے تری بیسکام سیاست خاموشی اور اقای گی ہے کہ میں گھر لوٹنے میں ہے دیکھ کر تری ایہی لوله کوکی گردن کے دوران کریم می نمرود میں سال کی تھی کالا ویرها و بیماریہ مایا گیا تھا میں نے اس بارے میں ہیں ہے کہ یو تھمایا تو وہ اس کی کاروائی کای اتوں تعلق کرے ہمیں احساس اورعدات سے ہو اسے پیس توالتعالی کو مار کرے اور پیار کے کا سہارہ ہے مستری کے المیرالما طے ہی سے کام والوراحساب سے دیا تھا۔ هر اس موضوع پر یاد مگو ہوئی فستیوالی کی ماری امریکی فقراطے ڈالتی ایکس ولوں نے اسے معمولی اور روادا اسامی میاد فراہم کی وقت کی تیز رفتار سے اس سال کولی داراں نوری منتقل کر دیا اور ماں ڈر میں کوئی نام پیارا یورپ میں ملت یمانی کی میاد سرامیریتی تم بیانگر ای اس صورت میں یہ وہاں پر قائم ہیں ہوسکی۔ اس کی ریاستی کا ہائیرہواں کے سرے حامی اور سے محل رویکو میں روب پروان ولای ہومولی کی طرح ہر بیوی کا بول بالانے میں حال پاکستان میں کی ہے میں وہ رات یونانی کی صورتحال ہے ۔ اس بارے میں ڈاکٹریاں سے بات چیت کرنے کے لدې کافی الوک علی پاکستان میں سرکاری سے یروهای وارس بل کے تحت المت کی متل کوسل داری قائم ہوگئی ہے۔ قومی پرورارت پاسنگ میلتو پانی کا الگ ڈائرکیلوررٹ ہے اسی طرح میں اسٹیٹوٹ آیلتھ اسلام آبادمیں لتلت مورسیاب ریاکمان میں ملتانک علی ڈائرکیٹوریٹ قائم ہوتی ہے تحت ہونے کی عملی سے رسول ہسپتالوں میں مداهما رکموں کو تطورت عدم تعینات کیا گیا ہے ڈاکٹر سال کے مالی اسده سال مرید ۲۱۳ دسیسراں کھولنے کی منظوری دے دی گئی ہے آنکھوں سے یہ بھی بتایاکہ دیگر صوبوں میں ملدی طت کے الگ تھے ان کے بارے میں ڈکٹیاں کے طالت اکستار میں گیارہ طیب کا عنوان برتر می سال تقریبای سوطا علموں کوا دیاجاتا ہے اس وقت پاکمان میں تقریامالی پر وڈیو ایم میں اور ان میں سے گینگ ہراراتها ولعلهارت های کوالسماد کم ہیں - دی یویو میلادی ایرانی سالار ای او ڈی ٹھانی ہے کاش میں سرکاری سایر والی ریاح سیراوربیتال عام میں سرکاری اور سرکاری اداروں کے ملا رمیں کوئی سہولیات مستر ہی نورانی وامان تیار کرنے والے اداروں کی ایک ملک گیر اکتیں و میو میکراسوسی اترتاتے ہیں میری اکسماں کے نامداری اور مالی دواسارادار سازی لکڑیاں کاکہناتھاکلت کے مالوں میں پاکستان اور بھارت ایک دوسرے سے بہت بھی حاصل کرسکتےہریاں کا بھی کہا گیا کہ ایودیک دواؤں کے دھراتر اب کے لرژیاگھر میں احساس پیدا ہورہا ہے کہ دن اروبا وی بوٹیوں سے علاج ہی میں ہماری اسی کی ہے یہی ہے کہ ہم نے اس مر ملا ملت بوکانیں دلایا مات هام سے مشہور سا راح ارایں آرگی زیرادارت شائع ہونے والے کا سرکارکے اردوعری مامائی اینگل کا نام پور سے دکرکیا و سرکاری ہوتے ہوئے نی ایادی کرده ہے باقاعدگی سے اور بڑے ہی اہتمام سے اس کی اشاعت ہوتی ہے اور ہالی دکر بات یہ ہے کہ اردو کے محض بہت بڑے ادموں اور شاعروں نے اس کی اداری کے راش رکام دیے ہی اول دلوں میں بیماک آرد و ترکاء مواں کے تحت ایک پرایکٹ پر کام کر رہا ہوں بہت قمر ایک اور نرمی سے ہوا اس تیرہ ملا کے میں ای باستانی باک تر کاروں کے یے ھوں ہوپایا ہے، میری رائے ہے استادے۔ مرندگی که توی کی بیو قام بالسماں کے دورانی اس مومو بوروتون کے پیار میری کہانی می کردیم متر ڈاکڑا دیدند و شروی تانک سیاست کی رائے اس سلسے میں اکورے امی کی معیتوں سے لوارا مواد کے حصول میں متقول وہوی تھی مروری کام سے مل گئے کے حیدر سرت معه ربی ہی کے دن میں ہی طاقتا حماس کاری عادت ہوئی دینے سے کی اوٹلی تریدکے مدیر ہیں آسمان سے ان کا ایٹلی اور ہوں میری ڈائری میں درج تھا۔ ان سے ملنے کی خواہش کی تھی فون پر بات ہوئی تو انھوں نے دوڑایا ہے کو کہا اوریرات مایک دم اگر کاری است ملاقات کرے لکل میٹا پاکستان مسی دلیہی طریقہ علاج کاری مارے ہاں اڑاکریاں مارنے پر اچانک ہی ملاقات ہوئی توپاکستان کے ایک مرور ملتی اس داں ہیں۔ دوسان به انتهای پیالی میں سری لرکا اورکئی دوسرے ولیوں میں بیٹری علاح را رائے کے مکان معمولی ہے ڈی اے کی ترقی یافتہ ممالک میں بھی دلی دوائوں اور علاج معالے شکان لیلا رہی ہے مدارس اسلامی فلاح کے نت آندروید اور رومانی دور میں نے مل کر پاکستان مرداواست ہے کہ سورتوں مری ایمن کو رد کرنے کی کو شیر و گی اور اسے اسلی کا نام دیاگیا ہے کول گمرکعت والی طے ہے اسی لیے قدرت اور سرمایہ کاری اورڈاکٹران ہورہا ہے ملک توی رسالوں کودری تعلیم کے طور پراستعمال کیا جارہا ہےا ور میں سرکاری ربانوک دریم در اداراہ انوں نے کہا کی میٹنگ میں مطالعاتی مواد کی فراہمی کا دارومدارکات آگاہی پر ہوتا ہے اسے ایک موتر عیسی کی وساطت سے دوغ دیا ہے اس اہم ضرورت کیوں کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے وزارت تعل کے تحت اس کوسی کی شکیں کی قاتلی پالیسی کے نادر تعلمکھیلاؤ اور والد کی خوبیوں کی رائے ی بینک میں بہتری کی وں کی روراوراستہ کو ٹلی ستیو کی ہے کہ ملطصور کیگی رسمی تعلیم کے معمول کی کانوں کی سیراور طل میں ڈالا ہے۔ بیانی کی کتالوں اور مطالعاتی موار شاھانے کے لیے کی تھی اسی میں کئی انقلاب کے گئے ہیں اس کیس کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے میرے دریافت کرے ارکہ کو سر عمل لوریرکیا کررہی ہے، اس اسے وار کو قومی کافی ترقی کی پالیسی مرتب کر کے اس بیرئل کرتی ہے اور ساتین کومت اور برائیور شعوں نے اداروں بصنع، ملت رو رٹری سیروارا به تنظیموں کے تعاون سے مصوردی کرتے ہیں جو مسائل دیتے ہی میں حل بھی کرتی ہے کس کی دے اس کے مقاصد کے حصول کے لے یا رقد کے رات میں قوی اورعالی سے برتالوں کی باتیں مندگی واقعی اور ملک میں معیاری کانوں کی عصبیت کاروں اويصوروں کی جوهر افراد کے لیے ایک پروٹکتی ایوارڈر دس سائے میں کسے ممتص الله ملسری لائبریریوں مشوروں اور الداروں کے بارے ییلو استمع کر کے بیر ہڈی اور ڈائرکیری کی اور میں تالے کیسے کرسکی او سے ایک ماہنامہ رسالہ کی انسان کیا جاتا ہے تقاڈی لوستی اور معیاری تمام راہم کرنے کے لئے اولسن کی رو سے ایک میڈرر کا بھی حلال ماریہ نے اس بات کو منایاگیارت میں اسی طرکے دو بڑے اداره اردويروموس بیورو اورکلاک ٹرسٹ آف انڈیا میں اس کے علاوہ دیگر بالوں کے ووغ کے لیے بھی بہت سے سرکاری ادارے میں مختلف ورارتوں سے متعلق ایسے ادارے کی یاتاتی پروگرام میلاری عمارت کی محل موبائی حکومتوں کے مختلف رسالوں میں ایسے ارارتوران وادب کے شعور میں بہت معدن کام کر رہے ہیں اور ایسے رسائل وریدوں کی اوتوبارہ سے توان اداروں کی طرد سے باقاعدگی سے تالے کیسے سوائے ہیں۔ پر لوگ گور وکی پیاسے روک لیاہے انا گورور مالی، ای ، مرتے مار میں سے بڑھ کر ہے یاانشگاه ہے گوروم دار جیسے کیسر نے مرکات دریتیم کی عمر میں لاتا ہے ۔ آباد أسماد کے بیٹوں سے کم ہوا ہے وہ اگر ساتواں عرفان اورامرهاوٹی) ہے جاتا دینا اور گورواں تحول اساں، ان کے دین کا استن مدل کرتا ہے، اس کا بھی اس لوک اور بیلوں میں ہر بیٹا اور بیلوں میں بھی تھی اس گالیاں نہیں ہوتا حاب حمدالعير الدار صرف اسلوب کی طویوریتوت دی ہے ملک سکرت شکواعل امریکا میں اردوترتمی کیا ہے نیم مہا بھارت کو لگ گیرے یارسومات میں اس امطار میں منتقل کیا ہے کہ اردوداں بآسانی اور دل ہیں کے ساتھ اس کا مطالہ کرسکے والرصاص کے سامنے کی بھی داد دی ہوئی اور کافی عمر بیٹی میری کہانیوں کے پلاٹ کردار اسلوب اورطریاں سرای رائے کا الحبارگیاتو نے والی حیرت ہوئی ایسے علم والار المال سے مل کر ملا کیسے خوشی ہوگی مشتمل کونسل آف پاکستان میں حالصایک تفصیلی گفتگو کے ورم اول ترک کنسل آف پاکستان کے دفتروار ہو گئے ۔ گوریٹ ڈاکڑ اور اردو کے متن ورقتل کا حساب دوالفقار احمد السماح سے ملاتا۔ وقت طے ہوا تھا انت صاحب ہمارے متطرقت وہ سہانت گرم ہوتی اورخت سے بلے بھارت میں دو ریاں اور ادکے عتامیلوں برہ تعمل سے آئیں ہیں ۔ اسی موضوع پر پاکستان کے حوالے سے بھی ماتیت ہوئی۔ انھوں۔ تمل کونسل آف پاکستان کی سرگرمیوں کے ایسے میں کی جانکاري وی رکوس قویسٹ کا ایک سرکاری ادارہ ہے ستات ماسنے بتا یا کسی بھی ملک تعلیمی اور ثقافتی ترقی کھوار و در راه است تامل کے تھائیں کو ان کی راتوں میں موروں مطالعافی موادی راہگیر ہونا شیامالک پر توعام طور سے یمات عاید ہوتی ہے جہاں تھروں خواندگی کی شرح میری سے صاف اه میں ہوا ہے حا آثار دوران میں شاید پہلی باراس حرکت کو نقل کیا ہے خالد احساس بڑی محنت اور احترام کے ساتق اس کتاب کی عادتیں کی تو ریلی کی انتہار رہی ۔انھوں نے ایمات میں گفتا، یارولوید امیشدا پترویوہار گرقرب اوران کے لئے کا گریبات میری راہ کی ان باتوں کوجیو اور جنھوں نے مہاماریکترمال بھی مہاکار الکیت میں ہائی اقدمات اس امر کی ہے یکا تیں تو میرقیم گئے بیلا نے مریم کی آتیں درست ہیں دوسرے میں تھامیں ہیں کہ انسان ہیں اوران دول حنتوں کے درمیاں تری کی اصل ہے تیری اسلو میاں کے موے ہیں مہاکارب تحقق ر کھے والمعلم کتھاؤں لی متقی کی کہانی، راد پانڈو کی کہانی ، ارسی اور اروقی کی کتھا ، راہ یکتیت کیا تھا، بعید نیست اوکت کی کہانی ساوتری کی کتا کوشک مراسمہ کی کتھا ، راہی کی کہانی -- یوکا ہتی اور صورتی سے بیان کیاگیاہے کہ وہ دلچپس کتا میں ہی میں صدیوں سے لوگوں نے هایت روق و شوق سے پڑھا ہے اورایسلر بڑھاجارہا ہے پاکستان جیسے اسلای دلستر میں دوران میں اس کتاب کی اشاعت ایک بہت بڑا کاربامحموما اسلام سے کمد بھارت کے علم لے، مہدی اور مرنے کی نسل کوروماسکرانا۔ مہابھارت می کنیم تا کواردومیں نقل کے با آسان کام نہیں ہے اس کی ماں کا مشکل ہے پہلے تواس راں مہارت حاصل ہوئی سیاہی دوسری بہت بڑی انور کو اس حماسے ہم آہنگ کرنا ہے جو اس گریتر تروع سے گھر کے بھائی ہوئٹے مالدصاد نے اس دعا کو ایسے امدرید کرکے ایریاں شوہر ہوش اسلونی مہارت اورسور مورتی سے اظہارکیاہے رال کی کلی وسعت اورعطرت ہے امارت کی تلخیص مها عمارت ستم بالا کتا کے دوسرے ماں کی سرسری نظر رکور پیار میں ہیں بنا یا اورگور ویوں ترلوک بروی بی گور ویتے ہی اکو اٹھانے والا، دوسرا پتا بمیرداں کی یوما سے یہ لوک تا کی نوا - مت پاکستان میں امارت و حضوری کا آعار کی طرح ہو اس سے کسی کی مدھی عقیدے کوات والاران یورت برای گوار پاراگورورکام کر دیں ایسا کرتا ہے یوں اعلی میر یقیں ہے انہیں اگر توکی دیا کتنا ہے اس کا ایک دیاسا احساس ہی کے کسی کونے میں ہیں سا ہوسکتا ہے میں احساس ہے ای کبھی اتنا ہی کی تو ھ کی ہمدردیاگو دارے میں کس کے لیے ان کی کتریکی عطاکرے میں یہ ای کی قیاس کی بات ہی کر الیاس انسان کی بات کررہا ہوں تو معدہ کے عقیدے سے سارے سرگرمیوں اور قدروں کے ایسے میں مرد اس کی گہری دل یہ ہے کاس موضوع رہام کیا میری مراداب والعرائد ہے۔ مستنقل مروج مصنف محمد الحریرخالد حمام عملیریر خالد لاہورمیں مکس کر کے اعلی عدس پروائر میں معمولی روی دریاطلاع کے تھے ان سے ملانے سے ہی ان کے دیے گئے اور اسی نام سے ان کے میری لاہور دکالا کی تایاکم سیارات سے ملکیتی ایتام تر روایات کوقی طور مسور کر کے وہ بڑے تپاک سے مجھے ملے اور بالوں میں کھو گئے۔ اور باتوں،یانوں مر ہیلی مارویر بارانا ہو کر الصادر اردک پاراگرام تا نبی کریم کی تلی ساب ماطر بالوں پر میں نور حاصل ہے ان کی سوری کلیقات کی شکل میں ) کی تعدادکم دیا ہے وہ ایکس قلمراح مهتمہیں آنکھوں سے دیانی کی بالا سے وی، داری کانگریسی کے توسط سے کئی اہم تالوں کے سر تھے کیے ہیں اس سلسے میں ان کا الکتری کارامه اقالی وطہ ہے کتاباں کتو ایسا موتی ہیں. سلعة اعمال اور ایسے دور کی تنہائی میں ساتویں عطر اقصی کے درمیاں جاری ساتا مها کار کنتقال کے عنوان سے ہے ہاں اردو نالیاں ماں کی سی الصدف تا ہولی ہے مادہ سے ملک میں مہاتم نے والدصاس کے مال سے اردوادب کوریات مہاسعار ہر وون کا تقتس او تیار کی گرتی ہیں ایسری کا وہ ایک ہے سر کا سرکہ بیان کیا۔ ملعی نے ریماوں کی رکی سے ڈر گراں نے ساری کی کہ میں لے لیا۔ تمہیں اس و الساقطعی نہیں ہے میں توان کار اداریرایارا لگا اس کی مسیار کی تمدن کی کیا مرد کی مردانگی کا طهارتل اور میں خوشی ہون تیم برائے کہ یہی تھیں ساتھ ہی انھوں نے ایک دل سی واتو داڈالا۔ ' اس لیے ہر جگہوں سے تنے کا تھے ایک عام ومتعلمیات اور راستے اوری میراک میں سکوب بدیر گئے ہم سے سنا دیا کے خواہاں ہے ماتیت لی تھائی کیسے کہے گئے کہ وہاں کی لاڈلی مین کو درای کاوش ہے دیئے اس کی روش کولیور کریں گے۔ . وغيرو وعرو۔ اور اگر وہ سائیں نوکیا ماں کے لیے تیارکرینگے ہیں امسال، سراں، ترکاران ما باقی ہیں مرد الک کھڑی ماما میرا قالگی وہی سکیس . ان کی ماترای عالی میسترس یانگران و کیا اسے بھی ہوتے ہیں۔ کسی که داری مرد سے ساری کریں کیالی رسانیم کاری سے اس به اور درس بیل صاحب کی تری کرے تو اگر وہ یہ کہ میں پل کے نیکی و کتانی استیکر اہواری کروری ہے_انتی ہماری روح ہے سیاست میں ہے ایی ماں سے کیا ،چڑی سے کیا میکی سے کیا سالی سے کیا اور کیری سے کیا مٹی ملا مرد ہے مجھے اس کے انگردی سے پیارہے۔ وہ مٹامتی ہے۔ اس کی مدیں کے ہماری نہیں وہ کیاجاتاہے حاحا ماہ میں اسے اے ٹوٹ گئی ہوں، مٹ گئی ہوں میں اس مٹے میں سے بہت کی حامل ہوا ہے ۔ تباہ وه اساسطار سے اداسے سنی ہوں وہ ہوتا ہے تومیں ان کے لمحوں کو گڑیوں کے علم سے میر پر کر کادرسانی مل جاتی ہوں اوراس کا دل میرے لئے سہاروں کے ولی سے کم نہیں ہوتا اور میرا لیں گے کیا ہے اوراکی دام پھولوں سے لکھی ہیں کہ وہ چلاجاتا ہے اورر تطار کی رت اکساتی ہے ان کم تواں ہوجاتے ہیں اور میں سدا کا شکر ادا کریون کرمان و تولی کے مرے ہیں اسے یا اس کے بارہ کے رہتے اور اول برتری کی عصمت کی تو باتوں کا خراپیار ئورت قائم کیا نیکی کوسرکرصععلریٹے کی محوری در میان میں کھڑی ہو اور سکھیر کہتے ہو کہ اسے ایسے کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔ ده انتظار DA دار کے مال میں ایک سوال اور پاکستان میں سے تیار راغیٹ تالے ہوتے ہیں اوراں میں تو ہمیں کے لے ٹائیٹ وہیں ان کی تعدادت رادمہ ماله اولی میری بھی شائع ہوتے ہیں ادینے والے سے لا حصرات ڈائمی ٹیم کے پریوں کی اہمیت نہیں دیتے یا یوں کہ میں کیس ده دوسرے در کے ریال کرتے ہیں نقاد لوگوں کے لقطاطس والے برسوں میں ہی کیا ای کاری سینیت اور مقام کم ہیں کرام متریالی تحریک کے ناموی او کی ہوگئیں ادری کے ساگر میں یہاں کے نماد حضرات ایواں ادب کے چند بڑے بڑے ناموں بارور ایسے لوگوں کان میں کی کہ دوں تو کے این گروہ مندی میں گھسیٹ لیاجائے گا جس سے میں ہمت ایادامس سیاق آن ہوں ی برگ لوگ بریں ان کا احترام کرتی ہیں کرئیں نیلم میں کر کے ٹیسٹ روم ادرے کے یروت ہیں عام طور سے وہ اس میں میر پیتی ہوں ال بیریوں کی چالیس کی تحقیق سامأ گیارہ بڑے اوری نام کی ان میں کیسے مل جائیں گے گا وہ بھی دوسرے دورے کے ادیب ہوگئے میری دادی حیثیت اور مقام کیا ہے۔ اس سوال کا تواس سے لاکھوں مارئیں کے پاس ہے س کےلیے مر لکھی ہوں اور قومی احترام اورخت سے لوارتے ہیں اورٹری شما مر کر رہے تھے تو تھوڑی دیر کے لیے ماں تین صاحیت لیے نے اس کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوٹھاں نوکریٹری سے میں نے پوچھ لیا۔ریشما سے اس کی ساری موسوی اوالدیں کیطی سے طے کی گیت مستری سے کٹ ماسک جاری رکھی اور تین ماہ کی نگاہیں ستر کی اس آ گئیں درگیر دولول سایرسا مسکارے سوال پیش صاحب ہی سے اوچھے تری نے کہا او یارک میں ہی سیاح کی گئی۔ کالا مال ہے اب ان کے ہونے کو یاد ہے کہ ایک طدمت کی ساری کہانی ساری اس کہانی کی تحصیلات کا ادارہ تھری کے ان جرالواط سے لگایا جاسکتا ہے وہ کہ ری مشتی .... ٹرصاسے دھمکی دی کی کاروں کی ساری تجھ سے ہیں کی گئی تووہ تھے راسری اس کو اور مرتی ٹاکرے سائیں گے یا }ه معمور تھا۔ شاید ۱۹۵۵ء میں دواں تھا۔ کیرداروں کے دیپ له بھارت کی نیکی نہیں ایانی میں سواے داود اکرام اور یا چاول کیانی اور سال کے ان میں ۰ ۱۹۶۳ء میں ترملرم میں ایم اسے کیا ساموائی عملی سیاسیماب نومورٹس میاب کو سی آی آرٹی اور ٹویر کونسل اولیورکی مری باہوں سعودی برر، امریکہ کڑا، مرات بالا وری باپاں ، اسی لیتا، ایڈویتا اور کارت وغرہہ سے لوکل سمکی سے مالامال ہے کہ آساال ہے میں بیٹا ویسا کر تری کی امیدیں لری حیا کا بے تاياد ولی دوس میڈم کے نام سے ایک ساعت ادا کی ہلارہی ہیں لیں اس سلسے میں دو امین نہیں ہے خاص طور سے لوٹ کی ہیں۔ ایک پی اس ادارے سے مرد آی کی ایات میں سال ہونے ہی دوسری بات یہ کہاں کالوں کی تینتہ ارادہ ہے اسلامی آید کیاکہیں گی و کہ مجھے اس ادارہ سے ابھی تک مریدی کیامی سائو میں میں انت تعانه توست کشی تو یارا دوسروں کی کیا میں بھی قائم کرے گا لیکن اس کا اساوتاما سطر ہے میری کام روسری اسامی اداروں سے ساری کیوں نہیں پڑی؟ و مردانی کیا ہے کہیں اتاعب کے معمای سلة اوروں صورتی سے ھوتہیں کرسکتی میں ہوتا ہوں اور میری ای الک عامرلے ورنہ لیے ترکی کی ہیں تو مرے بادل سارغ کر مہرکرتے۔ دوسری بات اس سے کیا لوں کی قیمت کے بارے میں کہی ہے کالوں کی اشاعت سے لے کر کاروبار میں لیں معماریاتی کاریئے کرنے کی تو ایسا ہی ہوتا ہے یا ترے دیکامات جاری رکھتے ہوئے کہا سس ہوگتاری سیاہ اور دیگرای مواقع بمباروں، لاکھوں رویے کے تھے دینے کی تیاتی نوکر سکتے ہیں . این کتا میں احرار ہوتی ہیں، اگر ورای همگی بی ترم سورماتے ہیں ۔ وئیرو و گروه حیرانی ہوئی تھیں ان کے سات کی شدت میں حقیقت کی تھی۔ وہ لوٹے چھوٹے ہیں بتائیں میرے دل مدل کر رائے کی نہیں ہے کے اور موٹے موٹے ہوتے ہیں اور حالات کی درستیں آجاتے ہیں شادی سے میں کسی بھی لڑکی کو مردکی دولت کے بارے میں کریم میں ہوتا وہ لو کرتا ہے۔ ایسے میں اشتعال و بوری میدونس کا تھوڑا ہے کہ ہوجاتا ہے توٹھے سالت کلی کا عمل شروع ہوتا یا ہے یوں عورت کوکتوں کے ساتھ سے اتوار مل جاتا ہے میلانی یانا گل کی ہے اور روح پرورھی ۔دکھی دلوں ٹھ پرگار فورس کا معیاری کام سے پیدا کرے اور اعمال کے لیے ہے کیوں کی پیروتی تو اسے اقوں سے کی ہے میں رکھی ہیں کی کیوں میرا خیال ہے کہاں سے اتقول کا کی میتوں کی مویں کام کرنا ہے اور دیگر کام کرنے سے زندگی کے تجرباتی مدیریت ماهانه ہوتاہے ، تری ردگی کے لیے برا یات کے حامی تھیں۔ اتاری کیڑوں سالولید بیماری پیدا ہوئے اور میں ان میں کوئی گروتانایی تو ہے کرتاس لوگوں کی زندگی میں دوہریں متواری نیلی رہتی ہیں اندر کا عمل جاری رہتا ہے۔ لڑٹ گھوٹکی اور ماہراتی رہی ہے اس کے رویے اور لکھے کا مل جاری رہا حالاں کہ اس کرم کی کمی کوتم کرنے میں ہلاکت کے گر دل میں ملے والا دیکھیں۔ کھا اور کھلی بات یہ ہے کہتاس لوگوں کی ریگیوں میں بڑے کڑے موڑ تھیں اور یوں لگتا ہے قدرت ہاسے ساتھ ڈال کر رہی ہے گریوار کڑے اکٹھی راستوں سے گرنے کے اعدہ مجھے احساس ہو کر قدرت کا کو کام ملتے سال نہیں ہے کیوں کھٹملوں سے گدی لیر سو بیملی کیا ہے ۔ فلم میں روانی بتا دیا اور فورس کی بہت سی مرلیں طے کر کے بعد رواں والی حامل ہوتے ہیں ؟ امانتی آی بتا دیں کہ اس کواتنی شہرت کی آگاہ کر ہیں میں نے سوال کا جواب میں ترے سے ساحت ریشر بڑھورا "واہل دل میں مٹھائی ہے آمروں کی ہو تو رویال کو تیار کرنی ہے گئے توریت کے لیے تیار ہوا ہے کرد روس میں ہو جاتے ہیں اورمال طی دوست هاتییه امتوں میں سے ارب کےوالے سے سیداتیں کرنے کی انٹری اورلولیا آیا با ادارک لکھا؟ ماں علی صاحب اکیڈگر سے باہر ہے میں اسے میں سارسگری ڈھیر ساری در دار الوقوت سے بھی کرتے ہیں اس ایرانی را براکور ہی میں بیماراسمی کی اس کی حیثیت سے سیاسی داریاں کی ہیں وطی روسلیٹیکے کام سے ایالیک ساعت ادا کی جارہی ہیں۔ ایک امام کی تایت کی تحریری ہی تمام کام - مرد توش لیست محتلام ہی التهام میلوں سے ایسی اور تو ہیں ہیں ؟ انیت کاسلسل جاری رہا۔ کی تھی ایک سال ہوں۔ یاہتا ہے، عام عورتوں کی طرح کتے کیڑے میں کراراوں میں تانگ کیاکری میات کی طرح قول پتوں میں وقت ضائع کرنی تیار ہیں میں تشكل راستوں کی مار ہوں۔ انکا یہ حال آتا ہے کہ بامقصد رسیدگی می گوینی رسیدگی ہے۔ لاکھوں عورتیں مقصد رسیدگی قرار نہیں دیا میں گھر کیا کرے تاباتا ہے ۔ یہی سوچ کر میرا سی رفتارست کام میں مٹھائی ہوں میری اسی عظیم ہندوستان ساتوں سروتی مائیڈ وار کرکہاکرت میں ان کے بارے میں میں بہت کھاما اور پڑھایاہتی ہوں جب اس هایت وائیں سائیں تو مجھے ان کی سوارکات مرور حوائیں میں سے وعدہ کیا تھوڑی دیر کے لیے اتجرح کی مد لالک میں ایسے مومور کے کے روایا۔ سیاست میں تھا لینے کا فیصل کیوں کیا اور کیاری صاحوں کو کوئی عمرانی تو نہیں ہوا ؟“ وکیل صاحب کی رضامندی کیوں کو کام میں کرتی جہاں تک ریاست میں وقت لیے کا سوال ہے بیمار اسی میں خواتیں کی اشدگی کرتی ہوں یہ کھیتور مدگی کا انکل اور بامقه سیاست میں سے زیادہ بات نہیں کی میری دلی تویسترین کی تعصت کور بارہ سے راژ بارے میں بھی آیہ کی تخلیقات ، جرات اور شاہرات گواہ ہی کی عمر سے ہیں رباره کام آتا کیا ہے۔ اس کا کیارا ہے ؟ رکھی پیالی میں میسکی اور ھیر توں توں وقت گر رہا ہے ایک ایک با قیمتی نگاہے۔ ستاری سے یہ کا وقت تعلیم حاصل کرنے گورا شادی کے دور العام بار بار آیا تھا میے سوہریح تحلے میتھوڑا سارقادی وہ راسل حب لڑکی حقائق کی دنیا میں قدم کرتی ہے تواب ۵۴ اگرونگرور کوتاہ رو ہوتے ترکی میں یوں بے باکی سے کرسکتی ، ہر ہیں میں اسے توہرکے حیات اور حالات کا احترام کرتی ہوں میرے تم کبھی بھی اقامے ہیں میں کا وہ احترام کرے ہیں اوراص اوقات امشوروں سے بھی نوارتے ہیں دوافع السالوں کی طرح ایک دوسرے کو لے لیے رات پر جانے دیتے ہیں، برای اعتلای ردگی اور تیاری کی دلیل ہے گرم ایک دوسرے کو اتر کر کے قائل نہیں کرے ملک کی کہانی میں میں مرد کی دولت کوے نتقاس کرتی ہوں تو وہ میراں ہوجاتے ہیں رسائی بھی کہتے ہیں کی ہیں میری بہت عطا ہوئی ہے اور میری بڑی بات یہ ہے کس کیلئے سے ہے اس مردکوگھے کی کوشش کی ہے جو دن رات مسار ہال اوروبا میں تم کے مرد ہیں اور مت کے مدیر کی کوئی قابل اعتراص بات نہیں اور ہی میشوپری احساس کمتری کاتا ہیں کستواه واهات ربی کھی کو انار پدر آئے تو ماں کہ دیتے ہیں گرمای شکر رالی ایرلے کاباعث ہیں میں ملکی سارے کہا ہے ۔ مراح ایک الطای دل بھی اسی کی انقلاب کے پہلو نکل ہی آتے ہیں؟ تیری گئی جہاں سرسید کی قول میں اردوادیے ہیں وہاں میاں نماد الک معروف کریں اور بہت بڑے کاروباری اسالی۔ داعی میاں بیوی دونوں ہی ای الگ میاں اور الگ مقام کے مالک ہیں میادہ شہرت گری کی ہے میں ایک سوال کیا عام طور پیرمردی نہیں چاہتا اس کی بیوی کی ای الجھی ہو وہ کہاں اورحی مانی مائے اسی کے توالے سے یہ انسان اور انہیں اس کے کسی صورت سالہ توگر اکھاڑہ سماتے ہیں آپ "إن ۔ گھر کیا ہو سکتا اگر میں چند باتور یار صاں رکھتی تو میرے سال میاں باتوں کا دھیاں ہراس کورس کو رکھنا پڑتا ہے تونگر میں مرد کی برتری کال کرتی ہے اس نے میں میں تری تیل میں ہوتی مرد ایک بیوی اور ایک ماں ہوئی ہوں اور گھر کے معمولات پیرمرد میرے کیوں اورمیں تو کا استحقاق ہوتا ہے اگر موی ترین نام را باقاعدگی سے ادا کیا کہ تورات ہے، سو برادریوں کا کام نے اسے کیسے تو سکوے کی گھار ہیں نہیں سیاسی لیے سکوں سے گذر رہی ہے الشریے اس الخمسان سے کہا۔ رسانی . مه میں عورت کی بات اس کے سیکس ہو ہی عورت کی فت اس کی مدگی کی ایک داستان بهترین دانی کیا ہی می کیول سانی دنیا کی کہانیاں لکھتے ہیں اور بھی ہیں آسکا تھری کی انتہا ہے » ترین کے العالم مشینی اور ضرورت تھی۔ سوال یہ ہے میں نے کیا ہے ۔ اس میپل آیکوریا ہے کلمات کہوں مردوں کے بارے میں لکھتے وقت کسی کی ساتویں اوپر کوسش نہیں ہونایا ہے مرد عورتوں کی طرح کے انسان ہوتے ہیں ان کا رلی گئی ہے اور دلی صدمات کی دیا کہ روایت اور بہادری کا ہول اٹھا رکھا ہے تحت دونوں ایک ہی بات کرتی ہے طرح نورایی نگرانی در کویر و کار برای ردگی کی تھی اور کہیں کول ستالین سری عورت ہی ہوتی تھا اس کی بات ہے مختاری نے ہل اتاری کے مدین ان کی مت سے پہلے وہ ترکی کی است وہ کسی کو مدینے میں مدد دیتے ہیں اور وہ موسی مروری بھی ہوتے ہیں اس کی لگد تھروں سے الٹیڑھی ہے دستک ہو تو اسے ایسا نہیں ہوا تھرینیا سے گرتا رہتا ہے یہ ہیں سے وہ اصل صورت طرائے تواس کے دل میں گھیر لیتی ہے خواہ وہ اسے بیوی سارنگ میں ڈالے بارلوی ماکرینالوں میں سے اگر عورت کی طرح مرد عورتوں کو مار کیے تو وہ دماکے لیے اکا ہوجاتا اس لیے وہ طا رامادوارارا و رسوم و نظر ہیں یا گریتفقت میں مرد کی میت کوشاں ستا و متن برای تاں دے دیتاست مرد اور عورت کے حد ما لا تعلقات اورخت کی مانی حقیقت پیرترین کی ماں کو ار کے کر دیں میرملکت ہے مانالی سقیقت ہے سایکوی مرد اسے یوں تسلیم کرنے کے لیے بھی تمام را مسیر اولسرینا ملک اور اس صاف گوئی سے میاں کر دیا ترین کی تحصیت واقعی ایک گلی کا لیے شری ریلی سے ایک رالی سوال کرو اس لیے انسانوں اور بادلوں میں امید مردوں سے کوئی رعایت نہیں کریں میں اس کی وردیاں اڑاتی ہیں۔ اسکے تو وہاں تین صاحب کا کارول ہوتا ہے؟ میں تو میری سے بڑی دور میں ہیں. ال کے اسیرتویں سے دور کی بیلی سا ہوں۔ راہور کا کر پیشہ ور لوگوں کو پیسے کی ویلیانسالوں سے روکتا تا ماکرو۔ اس طرح تم مت کی سیکیھرے تای عمل اورتمے کا سدرت گراسویں محب یاس گانے کا وقت کیا تو باہر ہی سوکھ گیا اور برائیاں تو واقعی ان کے دور کے انھیں ایثار وقت میں دی ہوئی گھی میں ان کے ان میں کھاتا ہوں تو میری چاہتا ہے ہمیں ای رگوں کا توں چھوڑ کر اس کی سیاہی سالوں اور دولوں آنکھوں کوتر کی نوک پر رکھ دوں، سکھ میں اسکات ادا نہیں کرسکتی اے میں وکیوں کی کی دست سے ہوں میرابیا تو گھر کی ہیں دماع میں نے اسے اسے لیا اورسور وگدار کاترایے مرییارے دیاہے لامرد ترلانے سے کون ادبی سکتا ہے ۔ میں کوئی تو ایم اور آنکھوں میں عقیدت اور تھی میں نے اس کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کے اوالوں اور ناولوں میں محنت کرنے والے حل کرنے والے اور فلم ہے والے کردار ہوتے ہیں مرد عالم اور عورت مظلوم طاقت ہے - السا کیوں ہے؟ " عالم اور ظلم کے علا وہ بھی تو بہت کھیرے کرداروں میں ہوتا ہے لیں یہاں تک عورت کی بات ہے اسے معال کرنے کی تربیت ہوئی ساہیے۔ گریمالایا مقام کرنے کی ترسیلی چاہیے تو ایں کیاتو مردہیں ہو ما » یقین ہوتا ہے اسکی ہے وہ سور ہوتا ہے ۔عور کوہت کے الاسکا مال کر کے لئے تیار رہا ہے گر توبہ کی برابری نہیں کرنی سی ہے جہاں تک عورت کے برداشت کرنے کی بات ہے تئیں عمارت ہے دس میں سے ہٹاکر تخلت کرتے اور وہ بھی تو عورت ہی ہے۔ ہاں میر سے اسرراست کرنے کا مطلب تھل، سروباری اور راستہے انکساری بوم توعورت کی تیاری صوصاتی اور دہلی میں ہومیوں کی وجہ سے عالم سے طالمردکویحییتی ہے۔ حکم محنت کرنے والے کرداروں کی بات کرتے ہیں تویوں میں سے ایک مرد اور ایک عورت ہے اس کے روپ مختلف مرور ہوسکتے ہیں مرد اور عورت کے تعلقات کے موضوع مهابيل کی تو ترکی کے دل کاشر کی عورت کو انسان کرنے سے اس موضوع پر این سایت ساری رکھی عام طور پر کہاجاتا ہے کو روخت کرتا ہے تو اس کی زندگی کا خصتمدادریہ اف ایک مکملحاوياتي رجل بات چیت کا سلس میں ہی نکلا تو سوچا کیوں کترن سے باقاعدہ اٹولو کر دیا اور میں سے باتیت کاسلسل آگے بڑھاتے ہوئے کیا اس کو یہ ادارہ ہوا بھارت میں نا میں ایک مادرید کیے ہیں؟ میرایکا ول گله دمایار (اردو) بکارگیری رہندی اور قادیانی مسلسل میپ ہی کا ہے ۔ اور دوسرا اول لاروالیوں اداروں میں ان دنوں پہا ہے میرے یا سروری ایک بڑی تاردی ہندستانی تائیں کے خط است برود و او را گریری کے علاوہ ہندی اورپیالی سالوں میں میں لگے ہوتے ہیں اگر مری اور اردور بالوں میں لکھا توآی پڑھ لیتی ہی نہیں ہاری اور پانی ماں ہیں لئے حطوا یا اس کی کریمی » ایسے بے شمار میری فائلوں میں مو ط سے ہیں۔ اس سی آیت پڑھواوں گی یه نے ہوتی ہوگی لیں کیا اس لیے قانسر کے خطوط کاوار دیتی ہیں ؟ اس قدتھرورت کے مارو دمری ہی کوشش ہوتی ہے یا ابات میں اور ادب کی طیاگیا تھا اس کو لکھے پڑےاتون کا کیسے اور کہاں ہوا؟ میں نے سوال کیا اسے گویا استونی برہمی ہونے کے علاوہ ساراماوراداری کا کم دکھائی نہیں ہیں۔ مجھے مار ہے جس میں پھوٹتی توانای التا اسی ساکھ ان سیاست خاص توت تاکوں کے سے علم حاصل کریں حطیں ہیں، ارین تارمیں ادروساشام پیدا کریں ۔ میری ہیں دستتارو میں اسے باقاعدہ تروتے سوتے اورا سورپرابهامی دستے میری امی کی ساعه میں ماں سے الکلامت سالارمساروں کا اہتمام کرتے ان کا انکار بھی اس میں ماھر کلاکت میں مری ہوئی تھیں وہیں سے بہت تھو کر میں نے پڑھے کی لت لگی کتی اور تا کی میری اس عادت کوے عید کہتے تھے وہ میت کم کرنے کے ایسے لوگوں کی صحت میں بیٹھا کر وہ بڑے لوگو کہے لگیں باتیں کرتے رہے هشتاد سالت اس کے سیکس موگیہ میں سے ہوگیا می باشترین کا چہرہ سوالنار گیا ۔ سائیں وے کھائے ہیں، سے کی ہوں گی وہ میری بات متی ترین کدکھا کر ہیریٹس "شایری است و مصاحت واقعی کم گو ہی میں ہی بڑے مدار دی و مربیا تر پیٹ ترمی کیریں ہوتی ہی ہیں اور تیار تمہی کو پیر ہیں میں بہت سدے سادے دی ہیں ہرصے سے اس کمرے میں دینے سے ہنستے ہیں اور مسکراتے ہیں کی کی عصمت کی دعائیں بھی تو مرے دار ہوتا ہے جس طرح ہم پر اور ہر بات کا یہ ایک الگ مرا ہوتا ہے۔ اورارت ریلوے کال کی دی اسید زینلوص اوروں صورتیست کا مکمل کر میں کردیا، کھے ادارہ ہوا کشمیری ان سے کافی متائر ہیں۔ سے ان کا میں ایک تاثرات اس لیے دو ہیں لاکھوں کے لیے استادوں میں ایک بادل تالے کر کے لاکھوں ہندوستانی قائیں سے آیکور و معماری کرایا وہاں سے ہے یا ہتھی لیٹی میں اما اگر سوالی سرین کراس سے میں ہمیں کیا اسکی ماں ہو کر میں تھوڑے اور مدینے کے لیے میں نے بات کہ دی قدرتی طور برترین برند اورئوری ردعمل ہوا۔ و صاحب کی تصت ہیں یا ایک کھلا او را قیاسات کھلا تھا میرا کردیکھی ان کے یادوں میں ہی آنا تھا ایسے اداروں مسلسل اشاعت کے لیے اکھوں مرےاول کی بات کی تھی۔ وہ اس کا معاومی سیاست کے لایا،اول نگر میں نطو ته امر میں کیا مرد میں یہیں ملا لیے ہندوستانی قاری کے لیے ایسے اداروں میں کھولے اول شائع کیا اور لاکھوں بوڑھے والوں سے میری تور مرکل کیا وہاں تو سہتے لیا و مرے دل ہے کے دلق اسی روانی وار طرح در اکسر ہی تھا لک ایک ایسا تو اس جانور کا سایہ داری محمت اولگی ہے بی پیدا ہوتا ہے ترے تو میں دوائی کی بات کرتے رہے ان کے لیے یا قولی امل کی ہے۔ ساتھ ہی وسواسی سین کی آوار میں تھا۔ تا۔ ۴۹ درمیاں کالونی اوررسالوں کا تبادل نہیں ہوتا اس حالت میں دونوں ملکوں کے فائیوں کے درمیاں مقبول احد لوی اکادفین کی ترتیب رکھتا ہے وہ دوران جنگ کے تقائی امیلتون سے بھی وارسی یکسان صیات اس کی اہمیت اور عادت کی ایک وجہ یہی ہے کہ وہ ہندی رسان گوی حامل ہے۔ اور تمام اوصاف کے علاوہ مقتول میں ایک بہت اوصف اس کی ساری، وشراق اورنی ہے گھر میں عام طور سے احسار مرد ہوں اس لیے کہ میری دان کائریری میں تو تنها به پاکستانی دی طوعات بیان میں سے میر مقبول احمد دہلوی نے وقتا وتا ھے ارسال کی ہیں لیکسی باندی کے دوسروں پرختوں اورعمایوں کاقص لادے کاتون کی صد لوگوں کو ہونا ہی مقبول احمد دهلوی ان میں ہی ایک ایسا انسان ہے۔ اور اس کے اساں سے ھی کر تیں کرنے کا موقع منے آنے لاتاحالا گریت کی دلوں میں ہی ایک دوسرے سے مل کے گھٹویں سالگی رہے سے انکی ملاقاتمر حلوں ، کروں اور دونوں ہی میں ہوئی تھیں آج کی بات اور ساتھ کاسلسل راس کے کھانے تک جاری رہا اور کرانے والے کل کی ع کرنے کا وعدہ کر کے وہ رواہ ہو گئے ۔ ورحنات وچ چوپڑھ کا آج وقت تھا ، موت کیا تھا اور ماحول بھی دکھانے کے لاد دیگر گھریلو کام کاح سے مارا ہوکر تیری باتوں کے موڑیں دکھا دیں جدر ورقل اس گریں اور جان میں کیا انکی اس ہاں احساس نہیں رہا تھا یوں ہورہا تھا کہ جیسے میں اسی گھر مریوار کا ایک مرد ہوں اس گر کے سیاسی مرے اپنے ہیں اوراس گیر جیسے میں بالوں ہوں کسی طرح کاکولی ہی تھا لیں تاوتوی کر دی راہ میں نکل گئی وہمت کی تو ماں کی سیر کے کے لوگوں تک کی باتوں میں یہاں تھی۔ تراکتری و کار ایڈیٹر وراہ ہدایارہ عالمی اوکریزد اوگرت اسے ڈوڈہ یکساں کے دوراں نہیں ملے تشریف لائے الحاق کی ادائیگم می سامنے بیلے پر اس وقت میرا اترنے مایا رونمائی کی ہیگ مٹے گھنٹوں ان سے ۸م مدل کا اصلی مستنیر ہانگیر ترین ہے اسے بیداری کے نام سے پکارتے ہیں ساری را ارائیں کوس کھاکر پروان زھرہ اس کی مراوترصت برای مالی بین ماسکا زیادہ اثر ہے اس سے چھوٹاکرایوں میں سے الگے اسے میں نے پریس کا نام دیا ہے اس کی مائیں ہیں اور تومان تہرا دور بیٹی سے اس کی بہت بڑا ہے نیکی کی بیٹی سند میں اور بیایی مارك ادب دوست مجھے یاد یاری میں پاکستان کے لیے رواموات گزارے تھے عام طور سے کہاتھاک لاہورمیں تاگی کتی اور مت مار میری مراوں میری اس کی طرف سے امری مرور کروں یولیری میں سے اسیں کام دیا بارارارکی کی وہ بھی لکھی اور نام ڈھا گیا تو وہ ان عقول الوكيطة دکرمقتول دهلویا میں لیے اس کے ساتقالشا نہیں کروں گا قول ہلوی کارگر کروں مقولہ اعلی بلی سے نقسٹر کے دوراں وہ پاکستار مل گیا اور وہیں کا ہوکر گیا پاکستان میں وہ رورت ہے ویسے ہی ملامت میرے ہی ایک راکٹور مریام سے ہی تعلقات روم دوست رام مہدی علیہاں کے توسط پیدا ہونے کا م کی برس اٹھا دیا میں رس ہو رہی ہے یقول سے میری عوام کی مرگی دی ماه سال ہے اسامہ کی دہائی میں اس کا پہلایات موصول ہوا تھا وہ تو میں ایک ڈائٹ کا درباره تھا اس کے بعد سے استیک اسلایماری یہی قول ویسے تو پاکستان کے ایک میک میں امی کرد مات اوراردیوں بھائیوں کی قطاریں بھی وہ ترکی وہ روی کے تہورادیتر مدسے اہامسوی مدی، یو کے مینطور سادہ پاکستان میں طویل عرصے سے مار ٹی وی ادا کر رہا ہے پاکستان کے اند قلمکاروں کو عورت کلیات مینوس دی اورص وگاری تحریروں کے درومان تاریں اٹھتی ہیں اس کے قول کی سخت اوربھاگ دوڑ والے لاکھوں کماری قائی ادن پیاس کھانے کے لیے قول پاکستانی اداروں اور تاروں کے پیچھے کیاگیا ہے اسے برداشت کرتا ہے لکسر انکار کرتا ہے اور یہی کام ہوتا تجارتی سٹے پر بھارت اور باکمال کے لاہور تعلیمی ادارکاتہم یہ یہاں کا مومیونٹی اکٹیویوریٹاں روبی، انگته اولاد کی ملکیتی اداروں کے علاوہ پاکستان کا سے مٹار لیے اشتری اسی شہر میں واقعے لاہور کے نوٹ کی گری کے نام سے بھی اٹھائے ہیں وہاں دانائی کی کامرار ہے ہی سے لاہور ولقد بھی رکھتے ہیں اور یاری کرتے ہیں لاہور میں حضرت میاں میرا مروری ہے تواس استکا درس نتاو حه شمار میرود موی سنت ہے میتھوں نے گولڈ میر در سرکه سگ اداسے اقوں مسکراتا لاہور ایک ایسے طاعت اورامگاھی کر رہے لاہور سے ایکتائیں میس اعمار جاری ہوا زمسدار کے تیار ہے۔ انگریری رویہ امت رسول»، لابی، برتا۔ نوائے وقت، کو بتایات ، مرق دینی و احیا لاہور کی سیاست میں انتقال کر کے گریر کے علاوت ارادی کی نئی میں ان میں سے مستراحاات سے بہت اہم رول ادا کیا۔ لاہور کے درد اور گورودواروں نے جہاں وہم کے عقیدوں کو امید رکھتی ہے بتایار مانع ساہی قلعہ ان کی مال روڑے استہ کوتور مورتی اور ولی عطا کی ہے میرے ربانی کی کہات ا یہ ہے کے ہونہیں دیکھا وہ مل ہی ہوا لاهور کے چندتایی مقامات کی سیر اس میں لاہور بیٹھے نکل بڑا شری روئی کے چار بیٹے ہیں۔ مشر جنوں تراوش ٹاٹا مگر ممالک میں اعلی تی سے عمل کر رہا ہے اک سے کیوٹیموں نے لاہور میں بیٹھے ہی ہوکر نا ہوگی شکل سے ساتھ ہوئی اور ہے مدار پاکستان، تای قلعا ورتا دیکھی مار مارگارتوں اور گھروں میں مری کو سیاسی وڈیرے میں ہیں۔ ایک کہانی کو تاریخ کے اوراق میں درہواں سے مرگی وہیں کھڑی ہے اس کہانی کے نقس دیکھتاح لوگ یہاں آسای تصویری پیتے ہیں اور کہانی کو چھو لینے کے لیے گھر لوٹ جاتے ہیں وج گئے رح میں ہے کیوں کے ساتھیار سے وہ میرے ایہہ اٹھیں اور قیمتی تے کتوں کی گولی مالی میں ساری راتیں اوران کے سوال جواب ممول وداع میں کریں گے م ہیں اس مقے میں جائیں تولورجہاں کی قربھی بنے گی سی پر کیوں ہوں نے پرانی ہیں کیا کی وہ سے ہے اور یکم اس کھیل رہا ہے نورجہاں کا شعر ہے میرا برا عریاں ائیرلئے گلی ما میر میر واہ سوردامی لیئے معلوں کے دور میں لاہور کو مرکزی حیثیت اصلی ہمایوں کے دور میں یہتوتوں کی دانشگاه میناوترا کرو تو اس سے میرے لیے کوئی کرایا اور لاہو پیر توڑیں گئیں بتلادیں بھی عورتوں کو ان کی استعمال ہوتا سا۔ لاہور پھلوں سے پل علی اولیا دانوں سے ڈھائی سو سال تک حکومت کی معلوں کے دیسکھوں مهارامریت سنگھ اور بیر گریروں کئی سال تک لیے تخت و تارح کے اقرار کیا منہ دیکھوں کی ستای مهارات ریجیدگی کا تقرہ سے ہو سکتا ہے۔ انگریروں کی تال گارانتی و خودروی سے انہیں توڑ دیا گیا۔ لاوہ جنگ رادیکاتہ متحدہ ہندوستاں کرنے میں انگریری اسلامی آبادی کی انہیں اس شہر سے امیدوار قلیا۔ لاہوٹہ شریک پاکستان کا ھی نہ رہے۔ ۲۳ پارت ۱۹۴م کواست ہے منٹو پارک میں پاکستارے الیزار دار پاون کی اس مقام پرسیاریاناتی ہے اوراس بارکلام اقبال پارک کیا گیا ہے۔ میلے اس کا انگریسے اک بار ٹیسٹ کہام پیتا انار انامنٹ کے نام پر ہی موتمار بھارتی پاس میں میرا ہوا اور کرامت سے مل کر دہلی اونی ہوتا ہوا لاہور گیا تھا اور عرب میانی صا ترتان میں ہزاروں میت کے چوراہے۔ اسی مالی صاح میں ان گستشحصیات کو تواں ہیں۔ لاہورارغ وهاٹیمیا کا شہر ہے۔ . دانشوروی، در کاروں اور شاعروں کا شہر ہے کر کے دورمیں ترقی اور مفتی اسی شہریں رہے گیران مراقالاسی تبریں کے مول باند علی لاہوری ملیا مودودی، مول المعلی ماں ، عراز چتا توش کاشمیری، ایلری، شق اورحیط --- ایک طویل سلسلہ اقال لاہور کے میں لاہور کے ہوگئے ۔ لا موردہ دیتاکالی لڑکی یا علی میامیں سے ایک بڑھ کر سارے میں تھے اور بے شمار { کامیان لیں کہ میں ہیں۔ ۴۵ کہتے ہیں کہ عمارت کا ایک راہوتاہے لیں کا میمردیوں کا میں، یویارک کلاس نسل پوٹڑی آگرکاتما او مور کار س دریا ایسے ایسے شہر کے ساتھ صدیوں سے ہے میں لیکر لاہور کے درباروی کی ادا مال موڑ کے ڈوریلانے اور فروخت میں پاس کھانے کی اداس اسی دریاکی ہے کسی راوی شہر میں کے سائق رسانه هاتما برای اروڑ کر دورگیا تو لاہور سے اڑیالوی کہا شروع کردیا مصر کے ہیں اور یوریکے میل ژیوکانی سیلا ہی نہیں ہو کان میں امام کرنے والے راوی کایان گلای رنگ کا ہے گلی گلاب یاد سنہری رنگیں ہےلاہوری در وارسے بریلی کیانی قویٹرے رنگ میں رنگی ہوئی پاس ہے تو معلوم ہوکر دورہ گوری رنگ میں رنگا گیا ہے۔ مونگ بلی ایسے کھائے تو وہی لال تاییں ہے اور شہر اور اسے وہ گوں اورگیوں کا شہرہ لست مگر میں تو لاہور کا آسان نیستی رنگ کا ہوتا ہے سند کے دل مورال ہوتیلیں اڑاتا ہے اورتیگیں وٹاہے بات کے نام کی ایکاری ہوئی ہے اور جوں جوں وقت گر جاتا ہے اس بار بیرکہا یوں کے دری بتاتے ہیں اسی طرح کی ایک کہانی ہے کہ ایقارہ اس کے دو بیٹے ایک بیٹے اسلام میں سے را اور روس سے اور جب اسے دونوں نعتوں کو منع کیا تو لاہور س گیا اور یہی اس شہر کا مام سیاسی اندی تاتاریوں کی بار بار اس کا ۳۷۲ ہجری میں یہاں کے ناک کے اختتاطان کے محاکمے کو عطا کی اور تار لاہور کے ناک کے بات ہو گیا۔ لاہور باری بانگی مقامی اور ایمانی اورستی شہر اس شہریں عالم اسلام کی سستے بڑی محمد ارشاد کے نام سے موجود ہے یکدسادگی اور پر کاریابی و صورت اورعه موریس بارساید الگری دکھی کہا ہے کیوں کے علمارشاه عالمیے نہ کرایا۔ لاہور کی یہ سید ۹۱۲ عمری میں سلطان محمدرزنوی نے ای رب کی باری تعمیر کی اس کے لو سیکیوں کی سیرچ میر محمدی داستان ہے اور کہتے ہیں کر لیتے یار میں تم کر دیا گیاتھا اور سے معاوں میں امال اور گالیاں بھی تال کے ایسے ایسے میں اقبال کای مراحل ہوسه مسیرتومادیت کو ایمان کی راتواره منایااایا ہے متولی ایتا بادشاه ها نگران روکھی لاہور میں واقع ہے مکھیوں کے ماما سیر گری ہوئی اس عمارت میں پایار -ام کانال سازی کو سے جانی دیداری سیم کیا ہے انھوں نے گریت ولوں ای کارت گروه کام کرتے ہوئے کہاکستان کی ملاقات کھارتا اترتی گیان در سگ سے ہوٹل میں ہوتا یکی از راستے کے روا نے کھ وی توں ہی دساء ترین نے ای مات کھ اس ادا سے ہی انسانوں کی برسوں میں ان ناسیت کار بدل کر تین کے حامی دورے کی رد مال مردمان متری حیوادگی سے ہی ملاقات اور عورت مل گارڈوں کی صورصورتی، گیان لیں دہی کی کہ میں بھارت میں پوری آزادی ، یتیم کے مدیر پریس دہلوی کی یکی یکی میرا جگمگورورا مہدی احیا میاکہیریٹری دہلی کے ایڈیز اوشہور استارویں روم میں ہی کے لڑکے اتوی تماسے ہون ملاقات بھارت اور پاکستان کی عورتوں کے شیک نوارہ اور اسے نئی دہلی سے وال کیتی یا روک در ترین نے کیا ای رواں مال من مام تیار ہونے کے لیے اکھڑ گئے تایا صدر ہیںانام بھی لگا دی ادبیات پاکستان کے پیدا علام الى الروترانے آئے۔ ہلدی میں نے بیری کے دوراں سے تکی باتیں ہوئیں اوریت وقت کوں سے راولپڑی آنے کی دعوت دی ناکامی کو طلا پروگرام نہیں تھا سری بیٹی کو ایک سرکاری بیٹنگ لابرہیماما تھانے میں پاکستان دوستوں سے ملاقات کے لیے میں مار دوستوں کے نام کر رہا تھا۔ او دیکھے اور گھومے کی مائی تھی میری اماں کئی ارادہ تعلق لاہور سے رہا ہے اس ہرارے تھے ان سے ئے ہیں اس لیے تے کا پروگرام میں نے اسے طور بر وضع کرلیا۔ گیسویاکاریده دل سکھرراهور ای دوں بھرکی مروات سے میں آنے لاہوری آئی کی مالی ترور ترانے سے اس سہرا کر کھ لاہوری ایک نہ رہی ہیں ایل میں ہے لاہور شہریالی ہے ---- لاہور رگوں اورنگیوں کا گندہ دل شہر ہے لول ۴۳ ٹال کریں طویل کے بھارت میرے دوستوں کوئی طریٹر لکھے۔ عمارت کی ورق گردانی کی اورکریم لوگ ناشتے کی میری جمع ہوگئے پیتے ہوئے کل کی باتیں ہوئیں۔ ادب اورادیوں کی امیں ہوئیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمان مہیا ہورہے دستار اوروشگوار اول کی انہیں ہوئیں ماں کی مارنے والا داری دی ہیں اسے مق نگاہ سے دونوں ممالک کے درمیان بہترتعلقات کے قیام کی مرد تفصیل سے مادیت کی رمن ماسے قبول کیا بھارت ایک وادی ہے وہاں پر میاں قال قدیق ہوئی ہے۔ عام طور سے سوتے تھے میں بھارت نے تیری سے ترقی کی ہے کہ اس میں میں پاکستان کی تر کیر دارکالی معم کارت دستی ساوارکے بہت بڑے بڑے لیے بریکٹ یہاں کے قیام میں سویت روست کلیکی اسے بہت مدد کی ہے۔ تین ماہ کاسالا امت کے اں مختلت عنوں میں بھارت نوکیں ہورہا ہے اور تایلق پی وای پیاوازی مروائے گی کہ برآمدات کے لیے اس مہڈیوں کی صورت ہوئی۔ ان کا خیال تاکهارت صنعت کاریاری الکے مت کارم مال تیار کرتے ہیں بھی وہ پوری کی منڈیوں میں بڑے مالک کا معنی است استاد ہیں کرسکتے اس لیلاری ہے کہ بھارت اور پاکتال میں زیادہ سے زیادہ بہتر تعلقات قائم ہوں تاکر مارٹر سے دونوں دنتیوں اور انور سے الیتا اور ویقی ممالک میں امت کا دور ہو ماں کا یکی بیالتاکہ اس درماں روای، ندی، ساقی اور معاشی اشتراک دولوں کے پورمیامت ہوسکتی ہے۔ کیوں کر ہاتھوں میں پہلے سے ہی ایک دوسرے کے متری میں مریم صاحب کی سیده باتوں میں ر مروری تھا کہ کاروباری سوه اوروکریوں کی گرمی کیتی میںیاں دلوں دونوں دنوں کے درمیاں جل رہے مذاکرات اورطیا نے ایک قاری معاہد کی اب اتار کر رہے اردیدیم اسی اب آگے بڑھ رہے ہیں علطمیاں بهت میای عالی سیاست کوھی علم بنا کر اس کے با وجود دونوں دانتوں کے سرطہ یدکیہ کیے ہوئے اولم انسان ہیں اس لئے رباره سے زیادہ بہتری کی امید کی جانی چاہیے تیرے امید کے روبا تریائی سے بات چیت میں شریک ہوتے ہوئے ہاکر کارت باکمال ہے اور پاکستان تھوڑا ۴۴ ،کیا ہوسکتاہے۔ اور وہ یہ کیا تھا اور نے کی ہے۔ شیری ریلی میں اور میاں رحمن آج اتوار کاریا عمارت میں اتوار کادر تھا دن ہوتا نہیں پاکستان میری ادی نمولی کردار ہوتا ہے۔ تبدیلی تاید در ماکت های معمارات کے ہیکو میں کیاگیا ہے۔ اس کی وہ اسلاف مقاطع اس دن کام ہوا ہے لوگوں میں ساراداکرتے ہیں اور دیگر مدنی رے ایام دیے ہیں اگر ہاں اتوار کی طرح پاکستاں مرید کے رورودوان اور کاروباری برائے ہوئے ہیں۔ معمولی کمائی سے اٹھ کر میں تیار ہوگا تواس کے احوں کے سو تکریم کریگی ۔ کیوں مال و آنانے والے انہیں کے میں رات ہوتے ہی ان کا میرا سوال تھا۔ " شاید ہی لکھا ہوگا وقت ہی کہاں لا " اس سے ہار میں بھی ہوں، انھوں نے کئی ساٹرک ایسے عالمی ادبی اور تاکیدگی سے بہلایام میں مشیروں مانی اور بے فکر مند ہوں گے اوران اعلان کے لے کھڑے نکال دیں تھوڑی دیر میں دعوی کرے اےگا خط لکھنے کے ایمبیڈ اوریوٹک میں عوادیتی ہوں میں بھی گھر پر ہیں تھوڑی دیر لخدمات اور ساتھې کریگا پاکستان ٹی وی کے لیے ایک ریکارڈنگ کا پروگرام میں طے ہوا ہے۔ ریکاڈنگ کے ہی کیوی گریم ہی رہی ہے دوائی کی تیارہوں۔ ان سب باتیں بعد میں کوئی تریا کی ساری باتیں ایک ہی سانس میں کہیں اور مسکراتی ہوئی مکے سے لگائیں گی ایکیا انوار دینے کاموقع ہی کتوں نے ہمیں دبائیں شدت خون پاک میں یہاں اتنی ہیں ہوں مہان نہیں ہوں۔ جیسے ای را امکروہوں منتری کی رات میں ارتقا، ایسے میں احساس تھا۔ اوراکایے احساس کی دم داری کی کوئی بھی گریریوار کی عورتاں ان میں ریلوری وقت ہے۔ مارت ایک ادیتی ھے معیارهای ترکی حالات کو میش کمار کو اور دل میں میڈیکل تعلیم مل رہی ام دیکھے کول ہی کی مٹے ڈائینیر کے گر دہ لوگوں کی تعداد سے ہیں رباره ال پکوانوں کی ترداد می گریں نی مائے گے کتے کی طرح کا گوشت تھاسراری دال ہی بڑے اورخاص ماتیکی الوژیکی را روی کی اور کیا ایک سے زیادہ دیکھا ہی ٹرے میں ہم مارقیجانیں دی کله کہے ہیں اور لوڑی پیا و معصومی است کے لوگونامی بیاناکھانے پاکستان میں کم کیا نتا ہے شایان کی وہ وہاں کے لوگوں کا گوشت اور ہوا ہے میرے بوتھے برفیلے اکیب واقعہ میں کیا انہوں نے کہاک درتل ایک برلیا لاہورآیاتھا ان سے ساں پیار کی اور کے حوالے سے تی وہ لوگ لے آئے تو میں ہے اور بے کرایا جہاں سالی اور اس کا فائدہ ہیں پیرو کاری روی کلوریکاری یک کیانوں کی کے معر ہوا ہے میں گوشت یا دوسری اور ترکاری اور یہ ہمیں اسی کو دیوار سے سکھایا ہے ایڈوڑیاں یہاں تولی نہیں پایا امرتسر سے اگر کنید یہاں آتا ہے تو وہیں سے تمہارے لیے لتاہے۔ کے لعد اسے اوریا کے سارقین اوربرلاس صاحب کی دیر میں الٹیں سے الشامل کیا خوشگوار اولیں گے اس بحول الله عن تیک اصل تارامیریلنے کا وعدہ کر کے دو تین کہاں سے وداع ہوتے۔ فیلتستان کے ہاں لواری کا اتودرمارول شو کا وزہ مقوش مکے مدیریاں خطیل داری کا خیس میں کینیوں کیا ہے۔ کے ہارر کاری صاسے منایا کسی اور سے ایک راے میں یکساں قتیل سمان کی واق مت کے در مترو تیکه دار کاری ماساں کے گاوں بومادی اماں کی حی بالایی قرص دینے والی کون ہیں کا حامی مریاں ہوئے اکھوں عددی اکسید روی تھی وہیں سے میرہ سکیں گے تو رسالوں کی فائلیں ردی میں دی۔ وہ رسالے سے انھوں نے بڑے پائے گئے کر رکھے کے تی ایک گئے۔ وہیں کی ڈیاانگی ، دل کی ڈیانا ہوگی انوار کی حدوں میں لیے کوٹاری تلفادورہواسانی سے روایت کی ہے اور اس گی۔ مظاہرے کر سکتے ہیں ۔ دولت کہاں سے آ سکتی ہے تادی دولت سے مانا ال آوری اینت تعان سوالی کل پر مدگی کیروں کا جواب یاروں کی شکل میں ایر وداع میں ملے ہوتے ہیں سنتے ہوئے کل کی ایسی یادوں میں کھو کر باتیں کر رہے تے ترین اس کی کھوں میں ہی کی تھی ان کی آوار میں ایک بڑی نہیں کی تی ای نی ساده برای بار کہتا ہے کی تقدیس اوشیما انتظارای ساید بگاراے حمیدا تھی کیک فون آیا اوربیدیتیل اسے تایا انھوں نے زبیر کے امورادار اور اول کے مید اور تارامی سلامتی کی دعوت میں ترکی کا پیار کیاتھالیں وہ دونوں ہی مایے تلمیریام میں لایا اوریات ایراں کی کونایی رویت رہی ہوگی کہ وہ اسے سات ترکیہی ہوسکے دامین شمال کی گئی دلوں تک لاہور سے باہر رہنے کے بعد اس ہی لوٹتے ورتاں کی خواہش کی کہ ان کی اس حس میر کی اورلوگوں کو گی، ٹوگیا۔ اسے میری لائیں تا ہوں میں سحری میں بیٹھا ہے ان سے بہت متاثر ہواہوں میں کمی کی دہلی جاتا تو اسے ر ر دوست بیکات بیرت سے طویل ملاقات ایام کیا اور امید ہیں دریا یکی دو سے لینے کی کیا تو نے کو دیا تاکہ یہ گلتیوں پر ہیں اور پاکیزگی در ملاقات ہونے پر وہ دور ہی گالیوں کی ایجاد کردیا عورتوں کی طرح ارادی کی ہوا) اور درایت او نویوتادی ہے وہ نارمل ہو کرلے، میدے تیاریا بیکات میڈت لے امید کا ہے کہ دوست تھا اگری میں لے میرے ہیں ساتھاکبھی خطط اتارلی ہیں ہموافقا میں اس کے اووریائی بیڈت کی باتوں کے توسط سے ان سے میری پیٹروری ہوتی ہوئی یا استارترز احساس پیدا ہوگیاماتوریستی کی میاد وہ نیت کی دعوت میں لے حمید کے موجودہ ہونے سے کیے جائیں کا احساس ہوا اسی طرح احداسلام احد سے طے کی بھی میری پیا بھی نہیں میں مایوس ہیں تالیوں کی پاکستان میں ابھی کر دی اور یرقام تھا اور میاتی کیمیں بھی کہیں کہیں پروٹی اور کامیون هائی میری تقریمیں احمد سے میری ملاقات ہوئی مروری لیکر تنگی مائی کی ۔ سترگفتگوکی مانی. قصد ان نواری اسے الگ کیا کہمیر پر پاکستان مہمان نواری پیاری ہورہے ہی اس تیل کے یہاں دیر ہو گی اور اس کی سی میں شرکت کرتے ہوئے لوگوں نے اس کی گان و او را می برند اعلان کیا ۔ أم مرتصیبرلاس کی ساڑھے سات کے قریال میں کی ترم آوار پیدا ہوئی تو میں نے کہاکرتاید و لوک گئے ہیں میرا سوالی نگاہوں سے ان کی وی دی رکھے گے کی خاص دوستوں کوگی کی ان روایات بھی لے تیک موته اور بیٹی کے ایک اس ڈائیگندم میں داعل ہو نیمار تیاری کرتے ہوئے کہا کہ استانی ریاس ہیں۔ اردو کے ستاتاریں، مٹیارے دوست بی هیدرورقتل تک گودیاں دیکتر لیکر اب لاہور ائیں اوراں کا ہر ڈینیڈا کیڑا کولیں ہے میلے میں میں ایل میں پہلے ہی ایک بات چیت کا سلسا واں کی آمد سے تری ہوگیا گیا ، پیر سے شروع ہوگا اس کی یراح اوروله باتوں کا مرا لیتے ہوئے میں نے ارباوراقها ہی ان کا نام سرکاری ان سے وہ میری سالگتاہے کیوں ؟» در سنجیدگی سے میوچیا۔ ڈیٹڈاور ایران کولیتیں کی گمرد کویں ہو پایانی کلیمانی اور ماہرین کا سے کولیپ کرنے کی پوری ریاست مل کر ہمیں پڑھیں اور برا روی میلہ التام واک بھارت کی طرح پاکستانی مری طرح سے ان کا شکار ہے سای، تہدی، میانی سیاسی رمیکہ ردگی کے تھے میں یہاں تک یاد میں تیل کا اہم رولیک راست کرگیا ہے اویکومت اس مال کوت کرے کی کی دوستی کر رہی ہے پاکستان میں مسوں وی تکومت اور ارسل لا مانگ رہا ہے۔ وہاں کے سلیٹا) اورقرایں اتنی تزریں سڑیں تحریر میں لایرکت ادوبی کا نہیں ہے کیوں میں اسیل ما ہورہاہے۔ معنى الاسم حرکالی مرادی ادرکھارت) سے ہے میری سادگی به ۹۵ درک عمارت میں بے ایمانیں تک تعلیم یاطوں سے حاصل کی اور وہ پاکستان پہلے سے کہانی اور سرکاری ملازمت اختیارکرلی اردو اور تم ان سکول اورکیات آمراں جماعت کے اوپرے مکمرادنی ساری کر رہے ہیں میا عقار سہی ایک بڑی اور ماں ہے۔ تو میں کہا یافتیں سمائما گئے رات کے کھانے کی کو ایسا انماط ہواتھاک میں شام کے معائیں اس سے میں تیل کے سال بھارتی ادیوں کے دور کو وداع کر کے لاہور والی سے گھر منا تھا اور میرے قتیل شان صاحے یہاں جگایا۔ قتیں میرے لیے اسی میں نے ماں سے میری ملاقات ۱۹۸۲ میں امامت معنی دہلی کے براي ہو گئی اوراس کے ماں سے ماریط وکتات ہوتی رہی کتی مری لگا دی کے کی آوار کشتی و گھیرے اپنے بڑے پیار اورگرم ہوتی ہے اورگی ہوگئے جیالوں کے بعد میں اور وہ ڈرائنگ رومية میرا حال تھاکاموں کے کھانے برینداور دوستوں کوئی ملایا ہوگا انکی یہ کارتستی ہو کہ وہاں کوئی اور میں تمایستی اس لیے ہوئے کہنے سے لوگوں کی بھیڑ بھاڑ میں بہت سی باتیں ہیں پڑھیں اور علامات معمایی می مات ہوکر رہ جانتے تیل تھا میرے پیارے دوست سے مالی اورپیاری پیارا ان کے کالا لکھے ہیں ہوگا۔ در صورت ڈرامگ روم میں میں تھا میں نے اور کے ادوار کی گئی تحریر میں واقاتیں ہوتی ہیں۔ وٹس اور روٹی کے لوگوں کی بائیں ہوتی رہیں کوہی رنگ میری نگار آرادات ای سایر تیاریوری اور ارتقال ٹائیو کمار کے علاوہ کئی دوسرے تاروں اورادوں کی باتیں ہوتی رہیں۔ قتیل کا اوڑھا کھوی اور رو روری ادیب والوں کے لے گیت لکھے ہیں اور الماری میں اسی میں وہ یہ تیرے میاں کرتے رہے سا رگرسیالوی کی ملی شاعری اورادنی تیاری کا کر واہ کاری اور استانی کی موت کا ذکر ہوا سیلی ارے علم ہواکیای ادی ردگی کے اند دوریتلے ادای بھی کی ہلکی لعدمیں وہ شاعری کی طوال ہوگئے اوراب مری ایک مساء کی نیت سے ہی ان کی ہیں ہے ادرک تله مو مویاب بھی رح نے اور میں محسور کا قتیں۔ مرد اکمل اور ریور اساں میں کیلیے اس میں ایک کمرے ہیں ۔ قتل میں میں میں دو باتیں سے تھوٹا ہے اور کشتی ساہتیں مستعل ہے بطورگلوکارڈیو ٹی وی اور دیگری تلی پیراموں میں برادرشرکت کے ای تاسی تهران و برای مقام پر کرنة توقیر تحت کی طرح اس کی آوار میں ھی تو میری اور ملی ہے ان ہی کے دن اس کی پہلی اڈیکیٹ }م میں آسانا سے سو حسی آتا ہے میرمام نام کے ساتھ سیانے کیوں اور میرے ان سے حالات میں معلوم ہی نتیلے پولیس اور برما کے مست کیا تھالیکی یہ ایک حقیقت ہے کہ روتاری سے مقام کا دکھی ہوتا ہے تو بہت سے لوگ ملات میں انیوں کے لیے نیں کے کئی دنوں سے ان کی ہے یاه مقبولیت سے ملے ہیں اوردم دانی کے الفاظ متع ہی کرتوں کے نیت اور تیل کے سائق بیت بعض مسرتا پانی میں نے ان تمام اتوں سے پرواہ ہوکر لکھا ہے امت تو لکھا ہے اورمت) ہے۔ ان کی مارکیال، ردگی سے والہار محت انسان دونیادوں پر دوائیوں اور کی باتیں اورکرلے لیا ہے۔ وہ اردو کے ایسے الیل تاروں میں سے ہی کاموں کی بھائی کو موہ لیتی ہے لیے پھر وہ اکس انگہ یار کے مالک میں ان کی آوارمیں انسان اور ہنسے گستاویل کے اسے کو مٹاول تترل ورگی کا ایک مٹاتارے۔ ان کی کر لوں میں عوامان کے سات عم دوراں کا کربوراساس ملتا ہے آنکھوں سے راکرات اور ہم کو شروع نہیں ہے اور ہندی کے مہت سے عام العالحالات لاح، روی انگورا دیا، میں، کویل وغیرہ کوایر وں مین اداری استعمال کیا کم امنیتی اور نہیں ہوتی اور ان کی لطافت هم کمی آتی ہے ای طرح ولادیمیان اسکولوں میں بھی ایالے میں دیگر امور کاروانے والی تو صورت اور ساده رمان است کرتے ہیں۔ ان کے پے مریم کی سستی اورتاری ہوتی ہے اسلو ماشستگی لطافت اور روانی ہو یہاں حراست میں سمائی کا سر کوی یا ایکیا میں ہے میں سارہیں ہوں اور کی دھاری کر قتل سیاق کا کرتا تو اس میں سینیٹ کے امرات امنا ایک قدرتی اب ہے اس میں ہیں ایک اور بات کہونگا استردگی اور لوٹ کو الگ الگ مقطرگاہ سے دیکھتے اور دیکھتے اس حکوئی سادگی مل کر سکتا تو عمی تا تهران اس ساری علم سے واستگی کرمی مدیا داری میں دیکھتے۔ اک حدتک وہ سلط میں ہوتے کیوں کہاریوں میں املی و عمارت میں ہوں یا اکتای سیگیت سینے کو ملتے ہیں ادب اور شر کے معیار سے کوسوں دور ہوتے ہیں تیرتان لمساعی ہے پاکستان لو کے لیے تها گیاحوں کے لیے ہمیں عم رسانی فلموں کے بھی لکھا ہے اور فلموں کے دے گی عوام کے دلوں میں کھو گیا ہے میں ان کا دی اوری معماری میں بھی کوئی کی ہیں وہاں بھی وہ ایک ۳۶ میں سے میں کروڑروے کا ہے ۔ بہت سے دوسے اوراسے کیا ہیں تو اردو کے لیے کام نہیں کھاتیں او کے تارا ماراورساتا ہے ہمیه عطاءالحق قاسمی ان کے بیٹھنے والے گی میں یا میں میدی صاحب کو اسمارتعریٹر کے ہی ہیں سکتا میری روی تویے کم سونی ملی بیکران اتنے ٹی بی کو اسعار سر کڑا ہے اس سے کیا میں بہار کویت میں اردو کے علایو جدیتاژ ہم ایک ہیں اب یہ نہیں کر رونے والی ران اور نکھے والی ماں میں رق ہوتاہے ہستان میں دیہات کی بولیاں ایسی ہیں کہ وہ علاقائی اس کی نیتی استار لیتی ہی ہیں وہاں عام طور پروران لولمان آج وہ سی سی اردو ہوتے اس بارے میں اردواداورربار کے قلم تیلووں پر نہ کھل کر بات چیت ہوئی پیالی تحقیقی اولاد کے حواے تکنیکی موصونا تھی تالی کے علاو هاریکاری وکی کی اور بھارت میں اردو روٹی بیورو کیٹا ریوڑ کر ہم نے تفصیل سے تا اس وقت مارتین طوری دور اثا کے روع کے لیے کیاکامورا۔ کسان میں ماریوں کے نام اوراس کی سرگرمیوں کے بارے میں بہت سے کالوں کے لیے پیالہ میں بہت کی کیا کر راکرت نرمیرا ہاتھ یادیں اور السوربھارتی اوریوں کے دورہ پاکستان کو دولوں دانتوں کے درمیان تعلقات استوار اور توتر گواران میں کابیا قدم قرار دے رہے ہیں بھی آتا همه ایام جنوری کولید دو یہ ہماری اریوں اور دربی والی ہارئی دہلی کےلیے راہ ہوگیاتھا اس میں اکیل لاہور میں تھا اورمیرے ادی عکا سیاسدترور ہواتھا۔ قتیل شهائی سے گهردوت زندگی تار از دوتارا تیل تھائی سے نوں سربیریا سمیت پوری کی اوران کے گریت کے کھانے کی دھونیں تول کردیا تھا حماقتیںتمان کانام دور میں آئے ہم اس کا ایک تو میں ۳۵ نہیں ہیں مہ تو سیدھے سادے لکھے کھانے والے ہیں اب کہاں برائے ادب ہورہا ہے وہاں سورت ہے اور مولتی ملتی ہے اور یہاں ادر ختاییام سی تقریر میں راقت ہمسائیگی کہتی مروان تام ہیروں کے گڑھے میں دروشلم سراج سب ایک عام تاثر یہ ہے کی ادبی رسالوں کا پاکستان اور کارت کے درمیاں تھا دل کی ریار تسلسل کے سال میں ہوتا اس سے دونوں ہوں مری رو براساس مرور ہے اس طرح کا ادارہ ہونے سے گھر مات رکی رہا۔ میں اک سمت میں نے ان میں کی اسے دیر ہوگئے ہیں ڈاکٹرگری چدارنگ كتالوں کے بارے میں تاثر ہے کہ دونوں ممالک کے سوا کسی کی طر یہ دوسرے نہیں سمجھاتے ہیں اور دونوں ملک کے لوگ ان سے مانده اڑاتے ہیں اگری سال کا کھلا تبادلوایا ہے ۔ وہ ہیں عاناحال ہی میں کار کا جو معاہدہ ہوا ہے ان میں کام بھی شامل ہیں اگر تاروں کی آرت الکل کھول دی جائے تو تا تماما بالإعترام اور میرے بارے میں تور ملک کو حاصل ہے کہ وہ اس پر پابندی لگانے اور ایسے ملائیں۔ اسے دے سراحلشح اس بھارت سے ادیبوں اور دانشور و کون و مد پاکستان آتا ہے تو بعض لوگوں کے دہی میں ہو سوال فطری طور یہ میرا ہوتے ہیں تو ان میں سے میرا سوال یہ ہے کہ دورانا اور بھارت میرقیم کے دکانی لے گیا لال کلی وقت کے مدار میں بی کام ہورہا ہے میں اس کے داوودیان استان که از دوران وہاں ایک ہی ملا سکتے ہیں کی میساکہ اسے یہاں یہ تفترشاوصانگیریاہی سر کی ملک میں اتانوں کا بھی کہ اس کو قوی رباں کے طور پراس مرلک ہیں اسکے پیاسے ہو ابلے میں ضرور ہے اگر گر میں اردو اور اگر مری کا صار آئے تو ہماری کتنی ہوتی ہے کار کا اعمار پہلے بھی مہران ایک ایکس مووان یو کے لیے یہ پیسے کے طور میں ہورہی ہے وہ کسی حد تک موتر ہو سکے گی اور دونوں فکوں کو ری لانے میں اہم کردارادا کرکے گی اور وہاں یوکے کے کام ہورہا ہے کیا اس ایلیٹ ہیں ؟ سیدی شام میں سوی صدیلی نہیں ہوں مگر آج سے ۲۵- ۳ سال پہلے سوالات کے عمال سے نکل کر اور عمل کر کے راستے کی اس میں بیٹھے ہیں میرل ہاری الگام ہے اور ہماری والا مال ہو رہی ہے۔ اردو بیرکروڑوں رویے نما ہو رہے ہیں ہماراکادموکٹ ۳۴ پورا یقین افرادی مانتی عوام سے پانی برون کرن کو کہا اس تقری میتال کے سواری ایران نے پوری اور مسرور احتمالی تلقی بالاطم و تقویت ملی ماست جیت لیا اورجله این موضوعات پیرکاری ادیوں سے کھل کر بات چیت کی تو ایں ریکت یان میںادی تقی نوری اور تری امکانات اور ان وادب کی اشاعت اویقولیت ورود شالی ابواب وقت می اشار نوائے وقت دیتے ہیں را کاری ادیوں کا و درج لاہورمینیاتو شام ڈھ رہیں الوائے وقت کے ادنی اینتر کے ایامسح حساب عطاراطی تاکہ شکل وصورت قدد دہی اورقتل سے پایته ورورت نہیں اور سات عورت کے سهامدارانسار ہیں انھوں نے ہماری و در کو لاہور کے واق اڑسیر ہی موہلی اور کی بات وہ ہیں اور وقت میرے سالے میں کامیاب ہوگئے اسرعلی ملکوں کی تیاریوں سے پاکستانی بر تاملات ماستری کی اور میں میاں عطالت انھی کے علا وحسابات انہیں ڈالر ملایر سایتی برای سود اور جائے۔ اس گلی در تمرین ریال های تروری گئی تصویروں کے سایہ نوائے وقت کی اور مور کی سماعتیں ہاں کہا ہے سال شاٹ گئی تھی چند سوال و ہوا اس طرح ۔ عطاء الحق اسی مهدی صا، پاکستان موجودہ دورہ آپ کو کیسالگا؟ كموریہی درسگھ سیدی میں پیار اور لوں ہر ہاسے اور آیے راکرسے ہوں سہارم میں امام ہی ہوا کی ہے کرائے کوئی انہیں ہم سے کی ہوں اس کی سماعتوں کے علاوہیں محسوس کرتا ہوں کہ اس درد کا ہو اور لوگوں سے محسوس کیا ہے وہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آنے کی دلی تھا نہیں رکھتے ہیں ہارایہاں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ عطاءالحق قاسي: کیا سیاسی معاملات میں اور کبھی کوئی رول ادا کر سکتا ہے۔ سیدی صاحب آن سماتے ہیں کارے ہرانے میں قوموں کی تشکیل میں، یہاں کے ارتائیں اہم کرداراداکیاہے۔ ادب برائے ادب اور سرائے سیاست بھی ہوتا ہے کہ برائے سیاست کے نوتاليه موس مورته ویت بولت ہے اور کئی لاکھ کی تعدادمیں جیتے ہیں روز نامینگ اورنوائے وقت کاش ہمارے یہ دوسرے کے حامی اور میاں میں دونوں میں اولیت حاصل کرنے کا مقالا ہوتا بنتا ہے. پاکستان میں ہماری اریوں کے وفد کی آمد کے علی میں بھی ان دونوں امارات میریم کا مال ہوتا رہا۔ اس سے میں ہمیں رورایم تنگ شے کی ہماری وی کو انھوں نے کرایی یایه دو دور کے ان کے سات گلی داکر بیعت کر ڈالی اور کردار توری کی وی اشاعت میں ہندوستار ہیں د واده عیاں کے تحت دوگیمات برمهایتا اس سے شان کیا کسو میرے دیدی ڈاکڑ و بیماری ڈاکومیت اور استاد امیری ، بروی تئاتر رادار دیگرائیں کے علاوہ اس تھری اشاعت میں پاکستان کی تیداں مارادریوں کی بڑے مار کی گئیں تصویریں گی شال اشاعت کی گئیں تھولے بھارتی ادیبوں کے سات هاتبیت میں شرکت کی تھی۔ مجلسی میاکے على دائرہ میں بھارتیوود کو خوش آمدید کہتے ہوئے رور رنگ کے میں ایڈیٹر تھا۔ میر علیزا دی گئی ہے تایاکہ جنگ سار کی رو رام اشاعت ساڑھے لاکھ ہے اسی ادارے کی طرف سے شائع ہے ولے ہفتہ واراساد اداریہاں کی اشاعت ایک لاکر ساڑ مارے۔ اس کے علاوہ پرادا ایک انگریری ہر وار بیگم اور شام کا روراہ انگریری اسمانی بورهای شان کرتا ہے توں کی رشت کانال ذکر ہے اگورے آپ کے دل کو تنگ کی تاریخ کا اہم ترین دن قارتے ہوئے کہا بھارت کا ہت ٹس تارزادی مشن اور دانشور ہارے گا تری لائے ہیں۔انھوں نے امید ظا ہری کیگی اسی طرح وتعادل ہمارا تو دونوں ملکوں کے تعلقات کو مہتراستے میں تو وقت مرد ہوتا ہے اسی میں مریگی ہوجائے گی اورتعلقات بعد بہتر ہوجائیں گے موڈور ان میں وہ ہوجائیں گی اوروال میاں بس وہ دور ہوجائیں گی۔ عام تعطیل است مدارس کا یارکرتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور اقتصادی سایر پوش گوار تعلقات قائم ہورہے ہیں حکادیار تو پہلے ہی سے مویریں لاحول ام مینیاتوری در ایران سایت ها است و داریوں شانوں اور داد و دیگران منقول پرانے تم لوگوں کی دلال کیا ہے وہ عدلاراوریوت مار ہیں ارکہ تھی این زیبای ایرانی اور ان کے وہ بکری کے حصوا عاری ادیوں دی گئیں سے معلگیر ہوتے رہے اور شروع سے اترتک اس تقربیں مار رہے۔ نقری میں بین سری بیٹی کو یہی دینگے میری اوری در استان حساس میالے تری کم تری بیٹی کو لکھے اور میری پیاری باتیں کرنے کا نہیں کیا، تقریرکرے گا می آتا ہے اکو کاری ادموں کی پاکسمال ان کو ایک نہایت توس گوارادی واقتا دیا اور کہاکرادیں دونوں بیوی ملکوں کے دردیاں بہتراور دوستیار تعلقات قائم کرے میں ایک ایک کام کرسکتیں ہمارے ای اصف تقریریں عطر رہی ہیں وہائی ہو نترداری سے ہی امریکہ میں انعامات اور کور میری ماہ کا ورد کرتے ہوئے بھی کہ یہ سروس بھی بھارت میں نے تو میری ساس کے ساکھ کیا کیا میں نے کور دیگر ایمان نے اس موق پرعت پڑھی اوراس بات کا دارکاته اوران کے وفد کے اراکین کوپاکستان میرینر و احوں نے امید طاہرکی کے دونوں ملکوں میں بہت جلد خوشی کوا اور دوستاس اول پیدا ہو گیا اور اس ماحول کویراکرے میں دونوں دنوں کاریای وترہ داری کو کوئی میںگے۔ اگلے رور بھارتی ادموکا و دردری ہوائی چہار لاہور ہوتا ہوا رٹی کے میر واہ ہوگیا۔ اور میں پاکستان میں رہ کی پاکستان میں اسے تمرات مشابات مقرات اور بہت سی دوسری باتوکل کرکے سے مہنے میں یا عام باتوں کا دککر ناموں کا تعلق بھار تی وی کے ساكتر ہے۔ پاکستان میں کارخ إدیوں کے وفد کی ستم گرمای پاکستان میں بھارتی ادیوں کے دمہ کی دراوراں کی ادبی سرگرمیوں کے بارے میں پاکستان کے اردو اخبارات میں عام طور سے مست کیا ہوتا ہو وہاں لاہور اسلام آباد، راولپنڈی، کرایسے یک وقت شائع ہونے والے دو امارات کی تعدا دکان سے بہت سے مقادی پر بھی شائع ہوتے ہیں لی جنگ، نوائے وقت ، مشرق میں ایے ٹورماتے ہیں کی اساعت مدت یہی تو ہے لگے : گوشت تروریں کھاتے ہیں اے سردیوں کا والقلیں ۔ تک جاری کیے گئے۔ اب لوگ اين دوسرے سے دار نے رہے گے۔ اناه نگارا تائیں کتری که عطا التی تاکی، ڈاکوگوی بیداری اورئیں روانگی سے قل لاویں کے امیر کے لئے انتظار میں مشتری سے ملات میں وی است که روی اور کتری نہیں ہے اسے ہاتھوں لیاک کی وہ ایک تھی ۔ کرانے کی دیراسہارے ہی مداق دیتا رہا سیری های قوا بول بدنی گیانی باتیں کی ہیں آئی۔ اس دورے کے دیگه ل ویری ایک بیان میں ماست کے پاس تیرے جارہے ہیں، میری مادری سے کہی ہے۔ "ہاں اکیال رکھے والی بات ہے ستوڈاڑھا میرا بھائی ہیں پیٹ کر نہیں اعمال کا بھی بہت سیال کھتی ہیں اور جہاں تک امت کی بات ہے اس میں سیاست میں ہوگی ترین کی سامران نہ ہو گئی۔ میری ماں اور ڈاکٹر مارگارت کرایے کروں کہاں چلے گئے عطا اولین تیاگی نے اگلے روزتعمیل سے ملاقات کا ووگیا حال میں ہوتایوری کتری سے ایدا گی اور یوں ہوا لئی سگریان دار ہوگئے لیل واریوری اور ساری میں بہت رگمی یکی اقوں میں بھی وہ اسے ہی مرگ ہیں اس حقیقت کر تے ہو اس میں سیٹ سے سر میں امامت وہی لو نے اہم ترین کاری اس امر میں مار کیا گیا اورح های گریونیو کے سائی ہوئی ہے ۔ صدر پاکستان کی طرف سے دعوت مارو دردی سے مدایہ والنہار سید کرایی و امورات ماکاری سے اسلام آباداوکیلی بوری تھا ان دنوں ایک صدی پاکستان کے دور سے پیدا ہوئے اتاری کے مینار بیا ای می پرد ہوا کے باعت کا راویوں کے دور سے اسلام مائیں نہیں سکے تھے۔ میں کے پاکستان سے رام ہوتے الروماالت اداری ورد سے مکے کی انہیں امری متھ یہ ہوا کہ لاہوری هایت یزد گونگی اس اور اتباع میں ہی پاکستان کے موت سے اریوں کو خاص طور سے دین کیا گیاتھا بے شک انگی تیاری خالیں پاکستان کے صدر کی موجودگی میں اول بالا بر روی قیاممیامت کے ادی موضوع پر بات چیت کر رہے کے کور دیگر میگاماس بہت سے لوگوں میں کے ہونة ان سے یہ پرائة ارسمراوررومیت کی ترکان وانی کی نیکی کی ہے وہ ٹی متن اور کراہٹ سے ہے حس بیماری دیوی دراھی کی ہے کہانی اور ڈاک تلیق ہم پاکستان میں سے منقول مي برونینگ اتھارا قانات رسہ کام کیا ہے اور پاکستانی او کے قطرے ایل میں موضوع ہے مریں پاکستاں ہیں کی ادیدائش کے لیے ہمیں بردارکی حامل ہویا ہے اسی طرح ڈاکزگویید ارگ میدی صاحب اور ڈالتعليق الم کی تھی وہاں الگ ہی نہیں ہے اورادی حلقوں میں ہمیں ایک عالی مقام حامل ہے کاری وودک وگیرائی بھی اسے باتوں میں گھرے ہوئے تھے۔ دونوں دلیتوں کے سویاگرادبيت هوں میسیسات سہواری حاد میراج کے دور میں یکسانی سمارت عارمیں بریانی رہی ہیں۔ اس میت کے دوراں وہ ہندوستان میں قیام کے وقت کا ذکرکرتے رہے ایں یادوں میں ترک کرتے ہونے سے سارھارتی ادیوں کی آئی کرتے رہے باتوں باتوں میں ہے کہ ان دونوں دلتوں کاسیر گرادیں ہوں تو ہیں کئی ماروکودیل ہوجائیں کیوں کہ ادب کے دل کی دوائی اور نہیں کی ہیں یا اور دوستی کہاں ہوئی ہے میری کہا ہے کے بھی ہارسے سات مین ایک مارتے کہ دیا سلسے میں سے ترکی متن اورمبارک ہو بید گرمی کے باریمور و حمیت اورکون نہیں ہوسکتا ہی کہی ہوئی اس بات میں دور تھا اور ایرانی دیاں دونوں کے بارے میں باتیں ہوتی بي تي احد اسلام احمد آگئے۔ وہ ورتاراور ڈرامه نگاریں تھوڑی دیر کے لئے الور سدیدا وکتور اہیمی پشتگو ہے ۔ ہماری می پرستم کرتا ہوا اور ان کے شوہر یا وھو دیتے تم کرتا ہوا پاکستان کی تمام موان ملی مر ہیں اوریا ده علاتے تعلق رکھتی ہیں اوروں کے شدیم و خاندان کے ساتای تلاها درست رہتی تھی بجائے میوان وریر المان چودھری اعمال کے لیے اور کھانے کا سلسل شروع ہوگیا بات چیت کا سلسدھیماری را کور میدے میری میرے تعارف کے سات ساتھ میری کامیون کی کرنے سے تواتے رہے اور میرے تیرے طے کئی کھانے میں ماں وتی روی دونوں زنا الگ الگ انتظام اور زیادہ تر وگان و تا کی ادارے کے میں نے انور سدید کوای لیٹ میں رہیں ڈرانے کی ممي عور دے کر اسے کافی بڑی رتم میٹ لئے ہیںة لورکتاسنتری کے سینے کے سائے رکا تورات کے العلا رہے تھے اور سیاسی رویے کی ماں نے کہا تھا مصدر دروار گل تھا گاوی تیا کردی تھی اور تری کیل مہایت پریشانی کے عالمی شہیں رہی میں نے لاہور میں سے ہے تلے تیرے کی رودادسان تو ان کی بریانی پڑیگی ان کی آنکھوں میں مری تر اوریدہ یہ ہے کی پریشانی میں ایک ریلوی کیتھلک میں ہے نئی کمیٹی کے لیتی گراها کد آیا ہے اور علوم اور کسی عورت کا گھر میں یا موتور منائے گیلےم کی گرمی سے کم ہی ہونا ایک ان کے لیے میں کی آنکھوں میں ٹا اور دل میں جہاد باری تو تھا تو اس وقت میں نے شرٹ مر گیا تھا ٹی وی اور ڈلیوریتی یے سائورینگ داکا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ بکھرتیاں ترین نے کی تاکید کی میں نے کسی دی گواسے اعلی ہونے کی انت کہوں دوسروں کی محوری کی والدہ اٹھانے والے لوگ کہتے ہیں تھوڑی د را رام کرنے کے لئے تو لاہور کی سڑک پر لٹکے ہوئے گھر گئے تھے ڈر کے لیے ہٹن ملی ہے میں دیر ہورہی تھی اس لیے میں کیڑے کی نہیں بدل سکا اور ویسی ہی اڑی اڑی اکھڑی کی حالت میں گے رواہ ہو گئے مگر هلی کے صدر کے دوراں تری کی امی اسپتال کی ہوگئی تو میری ودسے میل ہوئی تی ان امیروں کو توڑے کے پیٹ میں بات چین کا سلسا سروع کر دیا اور یہ کیاکہ حلو ہیرے ای میں کوٹ انہیں ترین اور ساموشی کا کوئی ساتھ ہیں شوت ، پل اور جهانی و میں ہی ان کیر دشمن کی علامت ہیں پاشوسٹارفوٹل میں دعوت ہوٹل ملٹی میں ہوں کہانی کی بہت بڑی تعداد میں پاکستان آرماتوراتری فقرہ دیا الکلی دم ہوتی اور دروسیقی کی دعاؤں میں دوڑیں گفتگوت دایر کرنے کی تله مسروں پیریم بھارتی ادیتے اور ہارے ساتبارسے نے پرانے ادیب دوستش میں مردوں کے مسائے کی میری بیرونی ئاراراراورڈاکوئی بیداری کے لیے ہے اور اس کی پیدوگراساس مکھی کے ارد ان میں بات قیاسادار میں ہی رات میں اتنا وئیر وادی کانیاوییادی اکساتیکی دوتای ۳۸ اختی کارروائیاں کرتی تھیں ان کاموں میں زیادہ وقت ہی فارغ ہوکر نظم کہاجاتا ہے ) اورا بارکلی بازار سے پیدل چلتے ہوئے اردو ارارادری پاکستان کے بہت بڑے ارب مرسوم اس اس نے جھوٹ کا مردان سے ملاقات کی معماری و در ایام لاہور نے لائیو سٹار ہوٹل ملٹی میں تھا وہانی کوردی برای مقاماقتالاگر مرگ او برای تمام کی شان میں ترکی کی سرکاری دور میں سریتاروں کے ان میں مقدکیاگی کاکوئی میں تیار میں ہوں اس لیے دوستوں کی دلسپ باتوں اور کے کام سے لیا دو رہوار کاری وی کے ازارمیں ہوٹل ملائی میں سرکاری سے برڈھیری رات کا کیا تھا اور نے ترکت کی روت دی گئی کئی دن راہ روی اور لگاتا رھاگ دوڑے ایسی کی تیار نہیں کرنے لگا تھا قرب ریٹروے کا وقت میرے پاس تھا اور یوں برتری کیش سے ہویات کے اعدطے پایا انکے ڈیرے پیار سے ساری داس ہوں گے اس میں سے گر کر تھوڑی دیر آرام کرنے کا مقصد کیا ایک عرادنی پرنیان تم ایک بیریاں کی واقییں) لاہورکے کے مقطی اتمی تا قولاند روی شام وہی تھے الگ ہوگئے اور ان کی یو گارڈوں ٹاؤن کے علاقیں وات کی اور مقطعی ادار نہیں کیا کہ یہاں سے میاتی دور ماما تھا میں بالکل کیا تھا سر کار خوری میں نے کیا تیاری کی تکمیل ہی اما کاکا ٹورنا سے ہم برایتان میں بھی دیتے ہیں گی اور سے یہ تاکیاسر جاری کیا ڈرائیور کی پہلی آگاہ کردیاکہ میں بھارتی ہوں اس کے لے لیتی ہوں اور راستوک کے علم ہے اسی لیس دلایا کمی سے فکر رہوں وہ مرل عضوری یا انکی میراندا سے ہی کی طرح ایک ایران ملانا ت ہوئی اور وہ ھے ان کا دیری اعلی سڑکوں پر اتنی دیر لی ھوتا۔ حال وقت سے یا تھا میں نے ادھر ادھر کر رکھا تا کہ لاہور کے لوگے علم اور مہمان نوار ہیں اوئیے میں نے مٹہ کی سادگی سے ڈرائیور کولیے مارتی ہونے کی استادی کی دیگر معلوم ہیں اور وہی ایسی ہی حرکت کرے گا میں لکڑی کیا، میری ملریانی اور ریحامیابی میں ریت او اسم مادو 2 انتهای اجلاس میں دریا میاں نوار ترای حساب غلام ربانی آگرو، بھارتی سفر اور بھارتی دسموکی وورد کے قائدینا کووہیں رنگ بھی اسے تقریریں کیریر میں ادکے حوالے سے خیرسگالی ، خلوص بخار ویکی دات کا اظہارکیاگیا اور امدطاہرائی کے دوران وادب دولوں سال کے درمیاں بہتر تعلقات قائم کرنے میں مددگارتات ہوگا تقریگا دو مراد علی داکر پی سیمارانی میں اردواد کے خله موضوعات پرٹرونگ آراد ڈاکر علی ام بروی وادی کامریڈار سعودیں اور ترمه رویش ظاہر کی ہے ایسے مقالات پڑے۔ کے کی استانی تقریروقار اور شانداری اور قلمکار هراس کی حاضری بھی شامل کرکھی لیکی بسیار میں تو مامون کی تعریانی را میاتی الیاس لوگوں میں مص طالت بعض سرکاری شوری میں سے لوگ باوض ادا کر رہے اور تقریر لوگ وہ کے حواری اوریوں سے یا کسی طرح سے والست پاکستان اردوراں وادب کی دھرتی ہے وہاں سیمینار کی حالت دیکھ کراسوس ہوا ایا کتمادا بھارت کی جہاں دوراں کی حالت پاکستان کے سیکسی ہے میں سوموار نہیں ہے میری ہارے انعقد ہونے والے سیمیاراس سے کہیں زیادہ کامیاب اور کمزور ہوتے ہیں هارين کادوبا کیمائتی میں وہاں اس نائی کا دکھی بطور جا کر ایا ہو گا جس میں بھارت میری اردوکی یا یک ہارسے راندگی میں کی گئی تھیں اوروں کا معمارمحاط سے ہرتالعصعہ سرکاری اسامی اداروں کی کا میں بھی میں میں سے کچھ کا معیار تو انکی ہاں میں زیادہ تر تامیں اسی میں ہوگی ہی لیاط سے معیاری ہی کہیں جاسکیں حدت میں وہ ہی میں واکسمانی المکاروں کی لکھی ہوئی ہیں اور ایمان میں سیاست تمام کے ساتر ان کی اشاعت ہوتی لیراں کے ہندونای ایالتیں طیاع کے لحاط سے گوارہ سے بھی کم تھے انہیں ای کانوں کو شان نہیں کیاجاتا ہے تا کیوں کہاں ہی کے باع وام دار کا موضوع سے اور سالوی کی رباں سے طرح طرح کے تیل کے کالوں کے ستاسکے لیے دم دارلوگوں کو محتاط ہو پایا ہے تا تری مٹی اقای تریکے والعدری اسمبلی کی ایک میٹنگ کے سلسلے میں وہاں سے چلی گئی اور اور ویراحتم ہونے کے معنی قول مولوی کے سانتردار ہوگیاتھا کے پولیس رپورٹ اور اکسمالی ۲۹ ۱۶ شوری . مارشادیوں کے پی کے اعرا زمیں تقریب - لاہوری یاروم ارور تھا۔ تریونٹی کے ماہ میں ایک صح ساڑھے لو کے اللادارے پیچھے کیا گردند روراسر اور رات دیر تک جائے رہنے کے ا عت مع بکھردیر سے سوکرایاتھا است ویو سے اسے اور ایران سٹر موت کیسے کی دیکھی تھی اس نے اس کے حالات کا مطا نہیں کر سکا تھا گریت دور ہوتے ت تمام عمارات ساتھ لے لے کے اور گاڑی میں ان کی ورق گردانی کرتا ہے ۔ دیگر می توانا کتنگ تمام حالات میری لاہور کی سرائیکی کی دوری کی رقم پاکستان کی تارا میری بیٹی کی ہانگ تعامالت برای ترک سالم و تصویری تائی اور یہ ارادہ ہے تو اس راکرتمتاکریت سے ان ادیب دوستوں سے کسی آدمی کے ہونے میریرمقدم کی اس سے یہ بھی ملاقات ہو گی با نوری میں رسالة تقوم کے دیدار امیر ڈاکٹرالوسیحا متار، وحده لودی ، سائرہ امی ته الو اگر کوئی میرے دوست تمامعقول حد ہوئی اور تارادا وتواھاتے کھاری امور کے دور کے وائیں یا کو ہی گرمی دارگون با رنگ روی دیگران را مادی کی تھی اور کم ڈاریی ام ڈاکتر ستوڑیں محترمہ ریدلیاہ کی، الوالفوتر . ويرہ تمام لوگ یہی سے وان موتور پاکستان کے اور ملکوں میلتروں اور دوسرے لوگو کردستاتا فالعاق سرکاری دور کے مالی امیری تیتیتی میل میں ملی اور وار ہی دم کو بھاری ہو رہے ہیں سے ملے اور علم کی نہیں کرنے کا واہ مدرارانا۔ ان کی تحریک کا نام استعلام رای گردگی پر ان اکادمی ادبیات پاکستان استیل اکسل اب پاکستان کی طرف سے سرکاری طوریرکیاگیاتھا کھارویی سایر اردوگئی یا مراد ہے انکا میں لے گیا تا ورای اسلام را دیے لورلاہور میں ان کتابوں کی انسانی می تگ نگه می دی مال نوار ترایور برام موریاب دپاکستان نے ہائی اختیار کیا اور سرداراں الحاد کے حمایتتون صورت جال میں درمیانی عمارت میں اردو اور موضوع بیوتی دامریکایانده انتاح کیار میں خاک در مراحل سے مراد پاکستان میں بھارتی سیراوربیا اسلیےعاراگمی شرکت کی۔ باتوں کا سلسلہ ساری رہا ات بیت میں میر تریکی ھاتریکی ترغی نیا کا دتا ترین نے بتایا تاکہ ان مہینوں بعدا یاد آیا ہے کہ ریلی ماموت مرتاماوقت محلی کا ایک مدت کے لییم دولوں سے ساز ساندوی کا کیا کیا ہے ای کا کریڈٹ وہ کھ دے رہی تھی میں اسے آپ کو هات نوشتم شور کر رہا تھاراں سیسے سادا دکھے دل اور گھوہارے لئے ادروق انسان کا طویں قوت کے حامل ہونے میاں کوئی اور تری دونوں ہی ای ردگی میں سے مروی ہیں اورایک مشترکردگی کے علاوہ ان کی مای ردگی ایک دور سے ہی محتاہے عمل اور میاں کی مدگی کار داری ہے اور ایسے کام وام ایسے میں اور میں بھی گرے ماما کسی پاکستان کے امیدی ئیرمالک میں عام ملتا ہے مشتری می وقت ادیسمان اور سیاست داں ہیں ۔ وہ پاکستان یا اسی کی گئی ہیں ۔ وہ گیٹو بوی ادریاں کی ہیں اور اس میں گر کرے اور دلیل کے امراں کی مرویات اپنے شوہر سے اک فلم میں سایای پری نے کہا تاکہ ہوں مداح رمی ماسو ہا ساسانی دور کے کھانے کی میری روودی آنا میرا یا رو گرم کوی سقاید دوستوں کونوں پر لاہور میں دی کم کی اطلاع دی گئی اور گوید مگر میری کی قیادت میں بھارتی ادیوں کے درد کے لا ہوریس داورائے قیام کے بارے میں واقعیت هاموکری کی باتوں ہی باتوں میں بھی دن بھی گیا تھا اس پر مری کے پروگرام کی گیانتی نہیں تھی۔ میرے دونوں کام نوشتری کر دیے اور اطلاع دی کہ بھارتی ادیوں کا ویڈیر ان لاہوری کی اوران کا قیام لاہور کے توں وااسٹار ہوٹل ملٹی میں ہو گا۔ انھوں نے یہ گلارے کی دری کرانے اور مع الرادار نے سٹرلاہور میں بھاری ادیوں کے ازارمیں ایک شاندار پروگرام منعقد ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں امام سٹورها دوتاموکول ہوچکاہے ادبی سرگرمیوں کا عار لاہوری بی بی میلاد کیا۔ اک دل کی مرویاتر آتی رہتی ہو دم تک جاری میں سائیں حیرت اورطوی کو تم دیتی ہیں دلوں کے احساس میں روس کردن کئی گاوں ملت کرویو کا ایک معتہ یسائی برادری سے انسان اور انسان کے یہاں سے رشتہ استوار ہوتے ہیں پیمان علی صاحب اورت کی گئی ہے میری پہلی ملاقات کی اور پہلی بار ایک دوسرے کے اسے ماہیے ۔ تری سی کی چیر کہانیاں میں ہے پڑی ہیں ۔ مخلص مریدوں میں شائع ہوئیں کی تصویریں دیکھی تھیں اور اسی میں بارے درمیاں جی خطرے کا نادر موقتا میری ان سے مایي واقعیتی اے تو میاں مٹ مار کے بارے میں میری زراعی واقعیت میں منی میں رکھا تھاکہ وہ بہت امیر دی ہیں اور ان کا کاروبار پاکستان کے علاوہ دریا کے کسی دوسرے ممالک میں کی ہے ایسے میں میر تیمور کی او بریائی وہ ویسی ہی تہی یقیقت میں ہیں آنکھوں سے دی بقا اورلک حدوتا رہتا اکتر ٹی او ردولیمر لوگوں کی طرح تایدی دور ہوں گے ان گاہیں ہیں اسی طور شاید انتی ہی نہیں ہے کہ میری کرورسوی ایسے ایسی ہے کیوں کر ہوا مرتلیر ہوگئی تی تری میں کی تحمی کا تصورمیرے دمہ میں قدرے مختلفها مہینہ ہی میری یہ رائے یہ ہے کہ قلمکار یادی کی تحمی کا رویہ اندر اور باہر سے ایک ہی ہوتا ہے۔ درحقیقت تو یہ ھی وہ ہے اس پی کسی طرح کی ساوٹ کا لبادہ وہ دوڑ نہیں سکتا کیا دل لگایا اوار نگاری کے بارے میں تو یہ بات ریادہ وثوق کے سال کی جاسکتی ہے اس کی تحریریں اور کردار اس کی ای سومیت کے ریاثروتے ہی میں کہیں کہیں ان کرداروں میں وہ تو بھی نہیں آجاتا ہے میری بیٹی کے سی داناوین میٹھائی، ان میں دانہ طریراں کی تھی کیسوں کی کیاتھا ایک پیاری، و مورتی اور دل ودارے کی تعمیت الیہ تحصیت حقیقت میں اس وقت میرے سائے معنی اور حقیقت کے اس احساس سے قلی مستر کا ھر دوراحساس ہوا تھا۔ اسوقت میری بیٹی سہایت سادے کیڑے پینے کی گھریلو عورت کی طرح کام کر دیکھ رہی تھیں۔ میاں میں اپنی تمام تروریات کوگھول کیسا گولفتگو ہوگٹ کے سیار میں سے پہلے دکرکیاوی ما کاروباری آدمی میں اور ممالک میں ان کاوسی کاروبار ہے ہیں ان کا دہی دو کاروباری ہیے اورال، دماسیات، انڈسٹری۔ - نیکی بھی موصور مروہ الیا راوگسٹوں انھیں کرسکتے ہیں۔ امری الواعدی ہے۔ اور وہ گھنٹوں مختلف موصومات پر ہی گلرانی کرتے رہے اس دوراں جانے دو یہ کھانا، قہوہ سیاسی اورمیر پانے کے دور چلے اور پٹواریایی اگرمیری اس میں کوٹ پیٹ میں رکھے ہوں۔ سنگ بردی کامدیم تانکی دو میرا وقتی که کی دم سے لوگوں کی سیارہ محرمازدگی نہیں دی شاید اس کو لاہور کا میردیولا قرتا۔ ما دربار میں اور کامراد تھا۔ لاہور کی حدود می داہو سے اگا دی میرا کام سو گیارسا دوڑے گی بہراہور کے ساکر ساتھ میں اوسط میں اس لیے اگاہور کے ساتلا ہور شروع ہوتا ہے اوراسی کے ساكته ختم ہوتا ہے۔ ہر کے دونوں طرف نہایت خوب صورت اورکتار و مروکیں ہیں ۔ سری لڑکیں بھی ہیں۔ ہریاگارا کارس لے لیے اوسیر درست میں گیاروں پر ہر لے گیا تعالی کے دکھائی دیتے ہیں سینے کے لیے سیٹ کے سے بجتی ہیں اسونوں ہاکی اور اس کی سے اور کاروں کو کیا کرنے کاکام مل رہاتھاتاکہ اس میں رہنے والے پیلے ایک توجیوں میں اعمال کیاجاسکے اس کے تھورے دہی می ایل میں کمی کا احساس پیدا کیا یہ کے کمانه کا پرھے بہت اچھا لگا تھا پہلی ملاقاتی پردوام سے ہوا کیارسے محرکتی ہوئی گاڑی کی رقارد ہوئی اورئیل کو کانتی ہوئی انہیں اس کی تیون مسٹر کی بڑی تو وہ میرے تا کہ کاروں اور کے ادیارک علاقے میں دال ہو رہے ہیں اور ہماری مری میں تراوٹ کا یہاں سے میندې تریوں کے حامل پرواق ہے ماتم ہوتے ہوتے ماری گاوی میلے کے صدر دروایستی گئی اور ایک دوسری گاڑی صدر درواره سے باہر آرہی تھی۔ تری سہیلی کے شو میان عم الرصاس کی گاڑی تھے وہ تو ڈرا شوگر ہماری ای میلے میں داخل ہوئی توری ساس کی ای گازی دوائیں لے آئے لېکولوں یکی دورے یوں محل گیر ہو گئے سیم و کمال تتر المسلم ہوں ادبیت کار را کی اساس نہیں ہوا جهد میں عدیم ایشین ڈرائنگ روم میں ہاں متروی ریل بیلے سے نو یو میں۔ مکانوں اورتوں کے مال ہمایوں کی طرح نے کیمرے کی ا گی اور اس کا احساس ہی ہے تلگرامی کوئی تے نہیں تھی کیوں لگا کہ جیسے ستار ملنے کے ادارے مجرموں والانکہ حقیقت بھی کہ اورموٹر گاڑیاں ماروں کے انتظار میں کھڑی تھیں ہماری گاڑی لاہور کی اس سڑک پر دوڑے قیمتی منارکول کی وی ہی سیاہی میں سڑک کے کیاروں بیرت سے کھڑے ویسے ہی درخت تھے اور دائیں انہیں دور ڈونگ کے لہلہاتے وی کیتے۔ وسائی کی ریتلیں ہے لیں کی مری بریوڑ آیا تھالیکن اس میں پاکستان کی دھرتی پر تھا میں اسے احساس اورحدات کے رول پریوار کر رہا تھا اور وریره رک رک کر چھوٹے چھوٹے سوال گھر سے کر رہا تھا میں گوں گماں ہوتا ہوں ۔ و اگر سے میرے بھارت میں میرا تم کیوں ساہے۔ المياه واہ کتنی دور ہے ۔ میں وہاں سے کب رواس ہوا تھا ۔ راتیں مجھے کون تكاليتویں ہون ۔ کٹے والوں سے بلیاں تو ہمیں کیا ۔ اسی دوراں سڑک کے کیاروں پر لے تھوٹے چھوٹے گاؤں راستے میں گئے۔ وہاں کے بارے میں ی مجھے بتاتا رہا محمد منٹوں میں ہم اس مہر کو پار کر گئے جہاں تک گدشت کھارت پاک کے وقت ہندوستانی اور لاہور کے مرد کس نے کی تھی ۔ یہاتوری دے مجھے ان کی اور مجھے یاد آیا تھا کہ تمہنگ دی لاگو ہونے کے نید دوسروری وی وی میں سوار ہو کر ایک برلیں یار کے سال میں بھی یہاں کیاتھا۔ یہاں تنگ کی تباہ کاریوں کے ساں ویران تھی ۔ کرا دیا کچھ ہی تھا۔ میدی کی دوڑیں ترکی ہر انسان اسے کام میں مصروف دکھانے کا تھا۔ راهوی کی حددردمی پندرہ میں مٹ بعد ہماری گاڑی لاہور کی آبادیوں میں داخل ہورہی تھی۔ ایک روسی کی دوری پر ہونے کے دائی احساس کے سوا ھے کی الگ سا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ماحول کارت کسی بھی بڑے شہر سیاہی تھا میں ہی عائیں، دوکا میں اورڑکی میں سڑکوں پر ریگی وہی ہی سے تارکاریانیں ۔ بالکل ویسا ہی ٹھیک تھا اور اتنی ہی مروی بیهان مینی لعبة امت میں کشتی فوری طور پر تو تھوڑا مت وق میں سے نہیں کیا وہ یہاں کے لوگوں کی بوتاکس ہیں سکتا۔ انترلوگ تمہیں تلوار اور کیٹ ہے اتے سناتے دکھائی دیے ہتک لوگ ایسے نظر اسے ہوںے محسوس کیا ۔ ہوسکتا سے لیکر ایسا ہی ہواست کی کہ رہی گئی آید کہا رسوائیں گے » کرتا ۔ ء میں سے دو کہا۔ وتی میان - پاکستان میں تو اسی می ہو گئے یہاں کام میںگے کی ہوشیار رہیں اور اسی کی - میرے ھر کامل ٹاو لاہوری لاہور میں یہ کہاں نہیں گئے وه ترین کے یہاں ( میں اسے دیا۔ ریشتری میں کام سے ہی دور کی سواتر پر تھی۔ اس کی آنکھوں میں سیکس کی پیدا ہوگی۔ دل کی گیت کا رول اسی کے ہر پایا تھا۔ . دولخت استرام اورعلمت سے پیدا ہوتا ہے۔ ہماری اس متمری ماتیت سکے دوراں ہی مردائیستایری کام سے دوسری طلا گیا تھا جسے وہ لڑکی میری لام مرد دیکھتی رہی تھی اور کیا میں مجھے لٹاتے ہوے بولی تی سی : أمارس محترمان سه ماں بیکس نہیں کریں گی ؟ میں نے کہا تھا۔ الیا ایران میں ہیں آنکھوں کی ر ا میرٹس ارکارگردانا شاید ان سمیت کھیلائی جاری رہتاس لکی اسی دوراں اس مریکٹر میسر کے ماترایک وہاں میرے قر آ کر گیا۔ اسے ایانیاری زیاتر کے یہ ٹاکی و تری مٹی کا ڈرائیورور مرد سے گاڑی لے کر گھر واگہ سرسید میر بی اے کے تایا گریت ہی سریا رنگ مار اشتری میشم کولری اور نورانی کھر نے آپ کو پینے کے لیے یہاں بھی دیا ہے مجھے تیری تلاشی اور لیموں کا احساس ساترا ہوا۔ بیبیادات کا ادرار رکھا۔ ورمی کے مساسا ما شادی میں کیا اور میں یکتا ن کے کام کا شکر بازار سے گاڑی میں مرگیا۔ وأهگلے سے لاهور کی طرف والی سرحد کے اس پارمی رادہ کھا رہی تھی مارولی کولاہورسے ملنے کے لیے ٹیکسیاں مردود رہے تھے سود کاسلسل لوٹے ہی لیکھر گئے۔ ایک مرور میراساں دوسرے دور کے والے کررہا تھا۔ ایک مردورموستاتااور دورا باکمالی اراروری کے اس ٹکرے کا سفر لورا ہوگیا تمامی محوں کے بعد میرے قدم اس دھرتی کو میرے والے کو پاکستان کی دھرتی ہے اس کا نوٹ نکال کریں سے قلی کی طرف بڑھادیا بارایانکار کرنے کے بعد مرور ا س سے قبول کرلیا۔ خوش آملل اس میں داگہ کے اس پار پاکستانی چیک پوسٹ میں تھانہاں ہندوستان ایک پوسٹ کی طرحی میرے پاسپورٹ اور دیگر اعدات کوریکیاگیا ۔ ۔ کبھی اندرا کیے گئے اوراس کارروا يتكل پاک سات منٹ لگے۔ قلی میرساں ایک وسیع ہال میں کاؤنٹر پر رکھ کر باہر گیا آنے اور جانے والے آٹھ دی ماروں کا ساماں پہلے ہی میں ہوتا اور باریکی سے ساماں کی پیلینگورہ میں اس سے چھ اداره جاکارتا ہے میں نے کاحکم دیا گیٹ لگ جائے گا۔ گریٹ لگاکریں ماحول کا اردو سے انگ مایک وتواں لڑکی اور ایک اردو پاکستانی سے ایسے میرے ساماں کے سردی بڑھ آنے کی ٹھوس من است تھی۔ ارسال اس کا ہے؟ اس میں کیا له اب میرے لیے " اوریا سیار میں نے اس کی طرف بڑھادیں۔ سگی کی رسی می خودی کھول دین مرد ایسے میگیں پوری انسانوں کو دور سے دیکھا اس میں میری تصویر مچی ہوئی اور میرے دینے لگا یادیں ہیں میں نے کہا اورمیں بازار میں سرار امیر پاسپورٹ دیکھے ہر می نے میر کیا۔ لکی یا سیکورٹ میں توڑا لکھا ہوا ہے » کیا ایک ڈاکڑادی ہیں ہو سکا ؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہ دونوں می مسکراریه کیا ۔ اسی نوتی کاطہار کیا۔ بیٹے کی بیرکت کی۔ کیو تیری باتیں کیں اور سال کی لیگ کے میقی کو آگے جانے کا اسمارہ کیا اورسالتی باید کی کہ وہ گھر سے ای مروری وصولیں گے میں نے اس کا شکر برا والی اورتقلی کے سات سانتر گئے ڈوگیا اک ڈالی ترتیب سے سارے میں میری بچیاں رورہی ہوتے بلکہ سارے کا نام آری کی قلم کار اس کے ادیوا کے دور میں ہی جاتا ہے۔ ای سخت اور اکرام کا اطبا کرتا ہے تو وہ ہے ایک مینیات کا احساس لیے دل کی بھی گہرائیوں کا مرجاتے ہیں۔ میں بطور ایک ادیب پاکستان کے سر برواس ہوا تھا اور ادکے روپ میں ای مینیاں پاکر وہ لے مجھے بے حد پیاس لگتے کھول اسی کی کوتت کی گئی کہ میں ایک کالا ہوں نہیں ہوا تاک میں ایک اریوں ۔ ارادتمییانکرا یہ سنتے ہوئے میرے قدم واگرد کے ورلانگ کر کے اس راستے پرآگے بڑ ہو رہے نے واریت اور پاکستانی حیک کوسٹ کے درمیان تماادرستہ ارادر میں اکٹة No ) د MAN LAND کہاجاسکتا ہے۔ ریکی کی دوسری میں ایسی ہی تھی ۔ اس دوری کی وکرسے نے پانی سے اور درست میں ویسے ہی اپنے سسس اندروتر میلے وال تو نہیں ٹی وی این نیکی اس ترقی کی شروع ہواؤں کی معلی میں واحساس تھا، مرد دی مختلف تھا۔ اس کے یہ مجھے علم ہوتے ہیں ان میں ہی ہوتی ہے سے دور رہیں ہوتا إل میرسوآ با دوتا نہیں ہوتا۔ ارادی الزام، دوستی اورمیں کے احساس کے انھیں محوں کی رورت است تمام عالم کو ہے۔ ساری انسانیت کی ہے ۔ کانتی کواس کے لیے ان دنوں میں بھی کھاتے تواسی اورانتی کی ۔ اسانی کے اس محوں کی تو دو سے ترانوردیں مری سوچ رات اور قدم آگے سست اوردی .فدات. دوستوں نے پاکستان میں اپنے دوستوں کو دینے کے لیے کتب میں دیکھیں ہیروسائل کے مالک اور میرے دوس حساب اوم هیهات محال نے نئے سال کی ہیروڈ اٹری کی دیس مرکاپیاں طواں میرے والے کر دی میں ایا یی اوران کی طرف سے محبت کے تھے کے روپ میں میں میں پاکستانی دوستوں کی عدم میں میں کردوں ۔ ھارتی ادیوں کی طری سے ایسے پاکستانی دوستوں کے مام لومات جو تھے وہاں تک یہیے تھے۔ دانتوں کی ایک طویل ہستی میرے سمری میگ میں کی۔ کتابوں کی رائش ۔ عصر پاکستانی رسالوں کی دانش - پاکستانی مردوں کے کیسٹ کی روائت . وغیرہ بھی میری نظر سے ساماں کی حالت بھی میرے دل مییتی۔ محنت اولوی یوں ایسے محتقبال کے سال میں ۱۵ موری کو ملاردومیپرداگرد پرورا ایا پاکستان کا سر شروع کرنے کے لیے و واهه کے سی بار واگیر مدیراں ولوں آدورت ہے کی اس کی سے ای در کار ایجاب میں ہی کیوں کے دانے پینگی پا دی گئی جو پاکستانی عمارت میں آتے ہیں اور حرارت سے پاکستان جاتے ہیں وہ ہوانسر کے علاوہ گاڑی میں سرکرتے ہیں محصور گاڑیاں ہے میں دو دن لاہورانی چاق بیا میں لیاری ایک پوسٹ پر چیک کرے کہ اس طرح روارکیاجاتا ہے کہ پنجاب کی ہیں پر نہیں۔ ایسی دوروت موگا اگر مرد ہی ہو ق یہی وہ ہے کہ ان دونوں وانگر یک پوسٹ پیرکونیا مائی ہیں ۔ ایک تلی میرامختصراسامان اٹھالیکسٹامے میرا پاسورٹ اور دوسرے کا ساب دیکھے۔ مروری کارروائی کی کاسٹ پرموو دایکانٹے کی ڈیوینٹ سال یک کرنے کی بھی مرا پاسپورٹ دیکھنے کے بعد لعور راجائزہ لیا اور سوال کیا۔ کیا اب وہی ڈاکٹر کیوں دھری توکہانیاں لکھتے ہیں۔ .اورت کے پروگرام اکر ٹیلی ویرں پر آتے ہیں ؟ {{ راولیڈی اسلام دارمیں سلطان رتک عدرا امروره احیا اس سے میرے قلبی تعلقات کے اور اسے لگا ہے خط وکاس ہوتی رہتی تھی لیکر سارے پاکستان میں ایک بھی ایسا آدمی ہیں تھا تم سے میری را ملاقات ہو ۔ برایتاس اور جدائی ہوتا ہے اس کے ایسے رتے لے گی حداقی ہوتے ہیں پاکستان امیرسام کی مری تا او و مرے ادب کی سر میں تھا، والملے کے تصور سے میراش محل اشتاقتا اورسا کی دیکھ بھی احساس می مانتا تا کہ میں ال سدائی تستوں کی نمایاں کردرہو سہو سایر میں دیا تو میرا نہایت ہی تکلی دوست ہے اور پاکستان میں میں نئے سال کی ہیں میر سردیوں کی سدت ہی کرتے ہوئے کہتا سه م و بارهای مارمارہے ہونکرک نوکیایہ آپ کو میگا ہی کرو گے یہ اورسالت کی ایسے دستة دورہ پاکستان کی کہا۔ قتیل تعالی مدارهای اسلام امجد اور اسے عمدگی سے ما محنت کی اور اس کی باتوں سے منے کو ملتا۔ روانگی کی تیاری پاکستان روانہ ہونے سے دور ورتو ہیرے تو میلے کون مری تقویت حاصل ہوئی لاہور سے تری میں کانا موصول ہوا اس میں انھوں نے تاکید کی گئی کہ میں ایسے پروگرام کی تفصیل سے کہیں در بیماراطلاع دوں یرور دوم کی ڈاک سے عطاء الحق قاسمی که حط کی اس کھاتھا ستم لیدی میلے ۔ ام تمارس مقطر گیا۔ - اسطوا ایک مستی یاراحط مرگورماتے اور میر ا ای - تریرئیر میں مدریه ارایه بیت ارایه پروگرام سے نقل کر دیا اوراطیاں سے روانگی کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔ ۱۳ خوری کی دویر کریں امتسراسے ایک پرانے دوست لمدير بترو مارکے بہانہ کی روانگی کے وقت میرے تو کہیں میں چہرے کے دانے کیڑوں کے علا وہ دیدی ای دوست کے لیے جھوٹ مٹ حالت اورسیدگی میں میری امی کتابوں کے علاوہ تاریکی می ماه سادریس بادون کے آیینه کی میرجلدی میں دہی کے لحارس T។ کویر سنگھ بیدی کی دوست مجھے آسانی و براحال ہوگیا اور اس طرح میں ایک پاکستان کے سال سے گھر سے کالعدمیں نے پاکستان میں اسے ان تمام دوستوں کواین آمد کی اقلاع دے دیتی همیاری ارومیه ای شلی گاز میلانی، میر عمری مرگودهایں ڈاروریناماز کے دوران اسل کرنے سے ہے اس سے معلق تمام باتوں کی مری ماندگاری دی کہ بہت سے مدد تورس مکھی دی قیمتوں میں وہ اس سلسلے میں میرے لیے مشعل راہ تاسو سہ کا کیا میں اگر وہ نہیں مانتے تویقیا کے کئی طرح کی سواریوں کا ساماکہ ایڑتا۔ ڈاکو گوی بیدائے کسی اور میری ملاقات نہیں ہوسکی لیکی درایط انھوں نے پہلے یے سمت سی باتوں کی یادگاری دے دی کی لعدد ویبراهامه مسویں صدی کے مدیساب نیز اور میرا سامر اور معدہ کے مدیران مرور توسوی سے تفصیلی ملاقائی ہوئیں پاکستان کے دی سر کے بارے میں الکوں سے بھی میری رہا ان کی اس حقیقت سے میں آگاہ تھاکہ پاکستان کے ادبی حلقوں میں اسامہ تم اور میسویں صمدید دونوں ترید. مردہ مقبول ہیں کہ دونوں دلتوں کے تارادی ان دونوں رسالور مرام لیتے رہے ہیں ۔ میوس شدی تو پاکستان میں باقاعدہ سات سے لیکر تم ہیرو ان کی مراد سے ایک عرصے سے یا دی عاید کی ہولیے۔ اس کے اوسوز تم پڑھنے والے اس رسانے کی ۔ کسی طرح حاصل کر لیتے ہیں اور اس پر کافی یاروئیت اداکر ابھی گوارا کر لیتے ہیں۔ اس سے امداد لگایاجاسکتا سنتی اکمان میں کسی قد نقول ہے گلدستہ بیس سالوں سے میں ان دونوں پرمیوں میں باقاعدگی سے لکھتا رہاتھا اس لیے پاکستان میں اسکا یہاں ہونے کا نے میں تماما دورے کی تیاری میں معروں ہو گیا۔ عاری ارتوں کے والد نے ایسے سرکاری دورے کے اتری را بر دار حموری کی تا) کو ہو گیا تھا میں نے راستے وانگر ارژر هار محوری کو لاہوریے کا پروگرام این تاکتیں او را دور میں ان کے ساتھ مدارس سما سکیں۔ براتان پروگرام پاکستان دیتی ہے کمارے کاتا اور لاہور کے علاوہ نے کرای اولیڈی اسلام اور سرگودھاکا میر حاصل ہوگیا ماتنام ما سے مہیا کیا تعلیم کے نام میں شری ریلی، علی الیاسی، انوب به قول وی گوی بیدارینگ حاب علمانی آراد ڈاکومین اسم، پیر ولیرساندی کا تمری، اردور دنوں بیوروکی ڈائریڑ ختم ہمیدہ کی وعید را کستائل ہوں گے پاکستان میں وید کے قیام اور دیگر تفصلات پاکستان سرکار سے کرے گی میں سرکاری وفد کا کم ہوتا تو اب دوسری تھی، الکس ارحب کر کے ایسے طور پر گیا تھا اور سر کے علاوہ دیگر تمام سطامات بھی مجھے ہی کرتے تھے اس لئے ہیں۔ میری اس سے ریاست کی کہ وہ فی الحال میرے لیے ویزا حاصل کرے گا میرولس کردیں پیرگرم بعدمیں طے کیاجائے گا درنق سرکاری و مد کے ساتھ کی سرکاری مالی والتوتھ کی میرے ہوے کہاں میں پیدا ہوا تھا اور بھاری بھر کر دی تحصنوں کے ساکرای ادیتص کوٹیں بھی ایک سادہ ہیں نے دریایاہتا تھا، اس لئے میں نے دل ہی دل میں عمل کرنا تھا کہ اسے سطر کا پروگرام میں اسے امیر در کھے پتہ چلا کہ اکستان کی مقبول باول نگار محترمہ اتری تبدیلی کی ہولی بی غیے کی گئی ہوں گی کراں کے ادیان میں قیام کے بارے میں واقفیت حاصل کر کامیابی میں تنهایی و انگل رور یا رسم کو ماہ ممتا کے ایڈیٹر اور اپنے بہت کاریردوس عاب فلوس دہلوی سے ملاقات ہو کر انھوں نے تایا کہ کل سے کی گری رمئی دار میں گھر سے نوں برابط هام کرنے کی کور کر رہی ہیں اور یہ کہاں کی راست گاه مراک دعوت عامیہ کا انعام یاگیا تھا میں تری رش کے علاوہ ماراساد در کار استعمال اورسلی متلی اور بہت سے دوسرے افساراگوای دعوے ۔ یوس دہلوی نے سے مسئلہ کان میں سے کسی ایسے دہلی آنے کی اطلاع اس کیوں ہیں دی اسباب کا السوس لیے کیا ہوا انھوں نے اور دھرنوں کیا کرتی عمل کو تلاش کرنے اور میں میری دلی میں آمد کی اطلاع دیے کی ہمت کرست کی لیگی کا مشکل تھاکموں کو امیر و ریاکماں کے صدرحماس اهالی عمارت کے در دیالی مستریحاب راس کادری سے ملاقات کرے ولی تربی لائے اور کیا اور اس میں اسلام کا لوٹا تھا مری میں ان کے سا مرور میں اور تمام کو ان کے ساتھ ہی پاکستان لوٹ گئی تھیں اس طرح میری ان سے ملا قاب ہوسکی ایک بیام کے سالاری در تامین و امیر بنے لیس دہلوی کے پاس چھوڑ گئی تھیں ولی دلوی ماکوں سے ایسے پاکستان کے دور کے بارے میں نا اتراکوں سے گریتی ای ۵ ۸ رد کے شروع میں ترا کہ دونوں دلتوں کے درماں تعلق تک نگار سنانے کی کوشتوں کے تو بھارت سرکار کی مرد سے اردو اورمیوں اور تاروں کا ایک وود اکسمان کے دورے پرمارہا ہے کسی نے مایاک و در کے لگ سکیں ارائیں میں کام میری ہے مجھ سردوشی ہوئی اور اس مدعی و مرید پر یہ آر و لوری ہونے والی ہے میں یوں گدہ رائے کے ماوو در تووند کے اراکس کا اصل ہوا اور یہی روانگی کی و قطعاریت سے ہوسکی اماورمردی دیا گیا کہ مارتی ادیوں کا وود توساع حاکمو میگه میدی تو کی قیادت میں میری کوئی دلی سے پاکستان کے لئے روانہ ہو گا سی دیر میں سرکاری اس کے علاوہ مری نواری اور تیار ہوں گے۔ اس ہیں مرایام میں تھا مجھے ایک بار کھرالوسی ہو تلاه 19 میں نے کھو رہیگه می ماستے دار کی تو انھوں نے لوری ہی دیر کر دیا۔ وبراعاری کرانے کی وہ داری انھوں نے لے لی اور سائیہ مشورہ دیا میں بھی امایر وگرام و ود کے پروگرام کے مطالق ہی سالوں تاکہ پاکستان میں قیام کے دوراں تھے کو لٹیروں نی ہو۔ میری صار کے ساتا میری اتمیت با روسری سام کو چیمسفورڈ کی دبلی ہوئی جہاں میرے ڈریر دوست تری سال تلام المٹ بھی موجود کے قتل عام کی رائے کیا ہی می ک میں میہ کی صاکے مشورے کے مطالق ہی یا پروگرام سے کروں اس لئے کہ پاکستان میں دائی طور یکسی سے بھی میری حال میہیاں ہی تھی اوریوں ی میں پہلی بار اکمال جا رہا تھا ان کی راے میں ورل تھا اور اس حقیقت سے میں خونی واقع ستاکہ کو مہندر سنگھ بیدی کی تھکا قدیس او کا ہے بھارت کی طرح ہی پاکستان میں بھی وہ سے حد مقبول ہیں اور محنت وروستوں کے ایسے رسے انھوں نے اسوارہے ہیں مولا مالي وہاں تھوٹے سے سمی لو میں نے یامحت کرتے ہیں پاکستان کے درجناب صادالت سے ان کی بڑی ی یاری ہوتی ہے ان کے سات سات سعر القسامر لیے ا عتو میری مادے تاکہ ان کی قارت میں بھارتی ادموں کا ود هر توری گوری سے کرائی کے لیے روانہ ہو گا اور وہاں سے اسلام آمار ہوتے وش ها مموری کو لاہور رہے گا اور ۱۸ حوری کو وہ لوگ بھارت کورٹ میں گئے وادیں ڈاکڑ مر گیا اورکسی کی نہیں اس لی۔ الباب اور مان لیتے ھی مٹ گئے۔ دونوں و سامانی ا ورسای رستے تیار رہتے ہوئے کیسے تقسیم ہوگئے دوستان سے ای قیر اور پاکستال کے ہو کر سیم کیا۔ به کار تمام السالي تستوں مت رکھی اور اس کے باوجود دولوں والتوں میرکھی ہوئی گوار تعلقات ای نہیں ہو سکے اسی کی سمیت سیاسی وجوہات میں ہی کا تصل میں ہیں یا پیا سا عم تباہی اور کرایا مامورانگیقیم سے پارو کے ہونے کو ہیں اور ولوں دانتوں کے درمیاں ساسی مسلے پر مین ماؤ قائم ر با نتاید اس کی رومی ودر ولوں ان کی اسیایی بدلیست سین سعی داری پالیسی ہے اور اسی کے سد دولوں لیتوں کا کروڑوں عوام کو رسی اور سے میارگی کا دروساٹا ہے سوتی عالی کارند دم ہوا ہے ۔ تعلقات کے بھی ہوتے رہے ہیں اگر اس کے اوتومیدانی تو اور میں کیا ہے ، وہ رستے کھی کی دوڑ نہیں سکے شوارے کی گود میں لاتعداد انسانی معمول سے ہے لہو کی لالی ولوں والیوں کے اداکاروں کے ترکی سیاہی کا ہے ۔ کی تباہ کاریوں سے دونوں دانتوں کے امور تامر اور دانشوروں کے دلوں کو درد کی شدت سے ہم کیا کیا ہے اور حالات کے اسیر ایں سعادت حرسٹی، را درگیر می کنی در راه دیگری احمدی بانگی ، اشگاہیں ، عوام احدعاس، اشفاق احد امرایم امید تھی جتوتگی رگید ریال، توکست متیق الاسلام احمد مرداد - اور دوسرے قلمکاروں سے ہی ملاقات کے دریاس انسانی در یکی عامر کی ہے جسے ہم دونوں ماں کے عوام کا دور رکھ سکتے لیا۔ مادر میں کی ہیں وہ عورت ہے ۔ اور دل کی دھماکوں میں بھی یہی وہ لو یہ ہے شان را در اد کے رستے سے دونوں ولیوں کے مار حداق تم ایکس بسته ماسا رکھا ہے تو مرار ارتوں اور یتیموں کے اوسولوٹیں تا یکی ٹونہیں سکے دیگر پاکستان جانے کے لیے ویا حاصل کرے گی وتربط قواعد اور نالوں بیاں کیست حملوں کے اس رشتے کیکون امید ہیں اوراس نے مجھے ہر بار ویرارے میں معدوری کا اطوار کیاگیا تھا ایک تھے وہیں ہواتھا ہاں میرے والد سرکاری ہسپتال میں ڈاکڑ عمری کی مٹی کے رستے سے انسان کسی ایسے اس کو الگ نہیں کرسکا رتبہت ہی بارک اورمدانی ہوتا ہے اس درقی میں کی غیب ککست۔ - ایک کمی ہو تو ہوتی ہے تو میرے دلوں کی شدت میں مایی کرتی ہے سر دھرتی میرمیں پیدا ہوایا۔ اورسی دھرتی پر میرا معصوم میں مرداں بڑھاتا اک ادھوریت کی مہک سے معیار میری عوام سراسریلی رہی تھی ۔ ایمانی سوات کی تکمیل کے لیے میں نے کئی باروتی کی اور اکتالیاسے کے لیے ویرایل کرنے کی ہوش سے کئی بار دہلی میں پاکستانی سمارت والے سے رابط قایم کیالیں نے ہرارا امیدی کون بربارو سے یرتپاگیاکہ پاکستان میں آپ کے کوں سے رشتے دار ہیں ۔ اور مارے کہا کروہاں کے علم کاروں سے ایسے قاریں ہے اورایم کی عورت سے مراد اقتنے میں دیرلمال کرنے کی ترابط کے تحت سادیات میں آتا تھا اور اس ار تے کمی آدمی ہیں کیاگیا۔ مالا کی یکی ست وری ہے کرا دور اور ارم کی ساری د عرق یا دلی کی ماں اور وہاں کے لوگوں کی رہاں، رہی سہی، رسم ورواح، ساکی قدریں اور کرتا تھا ۔ تالک تھے اور برطانوی سامرارہ ہم ورکوم کر رہا تھا لگاتار سرسوں تم بست کارگری گریرسرکاری طلای کی عمروں سے آباد ہونے کی اور ڈر ہے کے ،موم میں ہیں ارادی طی . نکی دیر کے بھارت کے سایا اور اردو کی تعلیم کے لیے ایک پاکستان کا مال کا دائیں ٹھا اوراگ سادست و سود میں اکیا بات عمانی کی ہوئی تو کوئی حامیات میں ہوئی عاصمة یہ ہو کہ انگریزی تکومت سے ایسیائی سالوں سے یہ مٹیار کو اس طرت کیا کہ انسان کے دلوں میں امت اوراعضکے مدات کو دیاگرا سے رقوں میں بانٹ دیا اسی تقر کی ہوس گوا میں ہوا۔ ہی اس کی ہوا سے خوں ہو گئے لیت کی ندیاں لگیں تعصب کی آگ کے تیل کاٹے۔ وزوارای فسادات پھوٹ پڑے اوراس کوئی کھیل میں اس کی معصوم رمگاں قتل ہوگئیں۔ کمی دانوں کے سہاگ پڑے اور کتنے ہی گھر کر راکھ ہوئے ای دربی کوکھ گرای دوری کی تلاش میں لاتعدادیا میں نہا کریں گے الے یا دالوں کی تا ریمیک میں کئی سو کی تقسیم کے سات ایمان قیاس کا بھی ہوئے کسی کا کمال أسمرب تراولیت - معادست پاکستان والے کی سوات ست رستوں سے دل میں مل رہی تھی اس کی بہت سی و تو اس میں رکا تعلق ادب اور خدمات دونوں سے تھا۔ ادب کی اور مردانی کی ہے میں کہا بیان کرتا ہوں اور اس دربار میں کھتا ہوں تو یہال اور وہاں کے درمیاں ایک اشتراک کی پیاری نہیں بلایی کوی سم دی ہے بر سر قلم کا ہے اسی رشتے سے میں لیا ہے۔ ادارے سے محنت اورعلوم میدا ہوتاہے ایات سے دوریاں مٹ کر سردیاں چرا مری میں ہاکی الیا رستے میں مده با سیاست کو کوی ول حاصل ہیں ادب کار سیستم تم دو ا اور علیم اور ادب کے اس کا نام ہے اور دوران اردو کارت کی ایک واقتور اور قول مال ہے اور پاکستان کی قوری والے بھارت کا قولت کاروں کی ماحده تقریریں پاکستان کے رسانی اور امارات میں سال ہوتی ہیں اوراک طرح پاکستان کے ادموں کی ملاقات کار میں شائع ہوتی حولوگ یہاں اور وہاں تھے اور میں دونوں دلتوں کے تدارمیں آیا سگے بڑھتے ہیں ان میں ایک امیر کیا ہے ادب کے اے سے میرای درمان استدائے آں قاریں اور قلم کا دوست ہے اور ہمیں پاکستان کے ایک ہیں اور سوکھے کہ لگے رہتے ہیں کہ میں پاکستان آؤں۔ پاکستاں مارنے کی راہوں کی حداقی دولت میں سے ایک وہ بیٹی کو مراسم المساوال کے
کی لت میں داسی ڈھر اس میں انسان کے اٹھے کیا ہے۔
تری رٹ لاہور میں کیول دھیری میریاں تھیں۔ ایک اصی
کمرکسی کو
ایک اور معررحاتوں کے اسد میں مل جائے تو
ان کو دیاعری میں سراحان ہیں۔ ڈاکٹر میرواقعی بڑے
وتلف ہیں.
میری رائے ہے کہ توتدواسر تھی کیانوں سے تنگی اور بولے
متاتر ھی نہیں ہی طبع رادیکیوں اورتوں کا اہل س آتا ہے۔
حوگمدال
اسوان
۲۳ مرداکسی الکلیو
ی دی ۱۹.
کعت دونوں پڑوسی ملکو سے عوام کی ایسی بیاہ کے اسماس اسے فطری اور درکار ہوں تو بیرونمائی اور سرکاری طور پر دونوں حواستالی کی تیار کیوں کر روا رکھتی ہیں؟ ڈارویی ایستادہ نہایت مناسب ہے قلم کے رتھے مہما ہے ہوتے ہیں ۔ اس ماست سے کیا نام نہیں ہوتا اگر دونوں کوئی نئے ویزا کی سہولتوں کے باب میں ان رشتوں کو نظراندا رکاء اردو کا ایک اوی ہونے کے ناطے میں گولی کھا سکتا ہوں کہ ڈاکٹر اس سے پاکستانی ہم ناموں سے ایم الطے سائے رکھے کے لیے ہے یاد کون ہیں۔ ایک ہی ان کے معاصرین ایک دوست سے دور دور سے ہوتے کے با وجود دراصل ایک دوسرے کے دلوں میں سے ہوتے میں بال کیول دھیری یا سماں یا تراسی ہے مرد اس کی ماری ملکہ ان کی رفاقت بی اے کی موت قلم کاروں سے ہماری ملاقات کی کمی تند سرمولی معص مقادوں کا خیال ہے کہ اور اسے ہماری ملاقات تواں کے اد میں ہی ہولیت سے گمریکی علط میں ہے اور اسے ان کی روریہ کی ردگی میں گوشت پوست میں لانے سے ایک توارسے خطرس کے تھے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں، دوست، میں اس کی مشن کی تخلیقات کی کی آہٹ کی ہوجائے تو اس کے کارمر کی حوسترتسمتی سے ڈاکٹرویرکی ادنی تمامی حریر رہے ہیں اور احوں سے ایسے میاں پر نہیں کی الترام سے کام ہیں یا کہ بڑی ریاست اور سادگی سے ایسی گھڑی کھول دی ہے ارائیاتر ستاد اس کے تحط راستای اوکرہ ہیں یرمولے کر کے این اکتسلم کریسمگرتاریخ گواہ سے کیا هاییت قابل مطالعہ الہی نے تحفط سادگی سے واسطے بیٹے میرادی این تعاون کو اکی لن ڈال کر گویا لکھنے والے سے میں وطی طور پر مل جاتا ہے یہی وہ ہے کہ کول دھیرے کی راست ملاقات پر ہونے کے اوست مجھے وہ اسے کو دیر میں معلوم ہوتے ہیں۔ اگر یہ موت کا سرکے دریعے ڈاکٹر رمیرے ہی موجودہ کتانی مٹی کے تعلق سے کئی اہم اطلاعات مکی ہم بیان ہیں ان اس سفرمانے کے اولیں انسحاب من رام میں میں ہے کہ وہ ہمیں ای سختی کی وارداتوں میسری کرنے سے ہی سیوک رہ جائیں۔ ابھی وارداتوں کی بدولت ان کے نے برما میں مسک حدنوں کی حدت اورعی ماست بیارے گھر آئے ہیں۔ اس عمر میں یہ مات عام طور بر تارکر ہے کہ جب انھوں نے اس سمر کا قصد کیا تواں کے پاس کوئی ایک بھی ایسا پاکستانی یہ وہ تھا جہاں اس ایسے قیام کی سہولتوں کا یقیں ہوتا ، لکس اس کے سراسے کے درمیانی میں نم بہت سے احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ جہاں بھی جائیں گے اس کا میاں میں سراستے پر ٹالس گی اس میں ان کے میربالوں کی وسیع القلی توکار ریا ست کی ،مگراس کالم کی اس کارروائی اس کی محنت کی نوعیت کی بھی دی ہے۔ ان کی محنت کرے اور محب کیے جانے کی خواتی کتاب میں مایا ہیں ایسے مقامات میرے ایسے ہار گرم جوش اسان تعلقا کی برتری میں ہمارا یقیں بحال ہونے لگتا ہے کیوں دھرکی اس کتاب کو بیٹھ کر دہی میرے احبار یہ سوال اصتا ہے۔ اور یہ نہایت سوال ارے دونوں ملکوں کے سربراہوں کی عمومی توجہ کا مقامی سے دیباچه ٹانے کیوں بھی پاکستان کامل ساہیوال کے ایک تھال میں ہی ہوئے تے گویائی میں ایک موت کی صداسی ترکیبی عمارت ہے ۔ انگلیاں باندھ کر تیلیوں کے درمیاں علامیں ای مداورکلٹی انہیں در چرا سایاں متر ماؤں پیر مایناشروع کر دو سعرا میں کیول دھیرے می دراص ایاسایی محنت اور موت کی ماری کی ہے اور ایسا کرتے ہوئے ای تر گل کو قائم میرمنتقل کرایا ہے۔ وانت کا سفر پر ایک باریک کر میں استری سازی ایما ستراویر أشایا ۔ مت سنیں اس نوعیت کی کتالوں میں ایسی تقریر کوتوا له پییه ساڈالے ہیں اور دانشوری کےموت فراہم کریے کا اوود یارسے ایک تایر مطالعہ ہیں ہراستے بھیا کا شکر ہے کہ کیول دمیرکی يتصدر کی کہانیوں نے اسد بڑی سادہ اور بھارت اور اسی لیے
طوات
واسعة مدروخوی ۱۹۸۹ و تائیور ۶۱۹۸۶
اکسایا کی یاتراکے نے سول دن میری ادب دیدگی کبصورت ترین
شاهین حمري محرحشو اوردرستیریک بیاہ کرلیمالامال
کر دتا اےکمکی کهیت کی تسی کی مت مارے وودمیلگی
اے خدا تیں حامله. ایک بار ملیار ہمارے علم کے
ایف بی طاقت، ایک بیالیست هوایدحوم میرے لیے ایث
ابلاتعلقی تحرته نهاحت کے ساتھ سوریاورغیرشعوری طوربيدات
وابستہ تھے دمڑکیای سویی می
د نوی اوردھل کود کی اس حسنی داستان کواسی میحوسواسعة
نام دیااورته داستان دلی دوم محت اوراحترام کے ساتھ
الی کی باری سه
نگولودی اورییان هرمی
تیره اهرمی باحمرا
به عاری اداری کا
حامحے دا سایتھوڑا رس کالب)
ڈاکٹرکيولدهار
تمرکے سیر کوریندرسنگھرشیخ تریلی کے اس-
) ڈاكٹ کیول دھیر
بیمه پا رٹاڈل گرام
انصارزیاب به کارب)
بینای ست کرده و
ناروے 69
كاسب متراں علی
سردت رزان اید
طباعب اے وں انسیٹیریٹر ریی
O
ربراهام
رب گويال شل
رابطه
موڈرن کی بنائیں۔ اگر ان کی ٹی ویاگہ نیری ۱۱.۰.۲
ونوا سفر
شفا پایان
ڈاکٹرکيولدفير
موڈرن پبلشنگ ماؤس
گول مارکیٹ۔ دریائے نئی دھلی
|!
ڈاکٹرکیول هیر دی مطبوعات
مطوعه
مکھری ہوئی ردگی رافسانوی مجموعه)
ایما رامیایی آگ (افسانوی مجموعه)
موماروت
ماردو، انگریری، ہندی اور بیان میں پیاس سے ران درگیری میں
وبرطع
گوری کے دیس میں رسفرنامه کیڈا، امریکہ اور برطاسه)
میکا کے اردو تریر
یکتا دکھاتا وائی ایمان کےالی تیاوں سے تال ہو
Q
خوشبوکا سفر
شرامهاكستان
पाक का सफर
Bg
de 3
Gozo
D
ڈاکڑکول دبير
No text on this page.
No text on this page.
وكان ورام
کون کسانی نادانی
وی کے لیے ٹافی لکھتے ہیں اور زور دیا
پروگرام کی باتیں کرتے ہیں اس کی وہ ہتھیاں
مارے لیے مایا اسے ان کے پاکستاں کے ادیوں
بیاں کے سا تھی کہ دوائی ایام میں اور
کی سایرو ہی دیہاتوں کے لیے پاکستان گئے مہار
دو سالوں بھائیوں اور اردو کے ہاتھوں سے رات
انار دونوں میں شرکت کی اکھلی گماساں
ناسا میں ان کو ایسے یہاں کاروں کا احوال کہ
کی ادنی ماستے تھے اوراں سطاقاتوں کی ایک
معیاری روئیدادکودری سے انھیں اپنے انا
اھاسم رامگاھی تاتاریا
ڈانٹ بھی اس حرام میں لاہور سے ایسارات و
باطرسام وما آدی کی زندگی سے لاہورکی و تصویریں ہوگی
بات سے عارتی اور یہاں کے بیوپاریوں اوداست
میں نے ایران نگرانی میں سے موجود ہے اوراسیر
ویکی تری نگاہی اوراں گانے یا لوں گی اسامه
اس کا مطالع کرتے وقت مجھے بار با احساس ہواکریں
اتیلیں ٹائیں ہارتے ہوئے دریا میں ایک
سانوں اوراس میں سیاست کو نیا لیواو
نگری نگری ہیں اور پڑھنے والوں کو اکترا
ہمیں ایانتاہے فریال شرم توشو
کی الماسٹرسائی سے روحیا کرو اور
ریات